وہ عمر جب خواتین کے جسم اور ذہن میں تبدیلیاں آتی ہیں

News Inside

وہ کام کرتے کرتے ’ہائے درد ہے، درد ہے‘ کہتے ہوئے زمین پر بیٹھ جایا کرتی تھیں۔ ایسا چند سال سے صہبا کے ساتھ ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر بھی یہی کہتے کہ وہ قبل از وقت مینوپاز میں قدم رکھ چکی ہیں۔ ان کا جسم فربہ تر اور مزاج نازک تر ہوتا جا رہا تھا۔ بات بات پر رو پڑتیں۔ تنہائی انہیں جیسے ادھ موا کر دیتی اور اداسی ڈیرہ ڈالے انہیں انجانے خوف میں مبتلا رکھتی۔

وقت بےوقت کی ماہواری، جسم میں درد اور ذہن میں ہیجانی جھکڑ چلتے کئی برس گزرتے جا رہے تھے۔ صہبا کی ایک قریبی دوست کینسر کی مریضہ تھیں جو انہیں حوصلہ رکھنے کی تلقین کیا کرتیں۔ ڈاکٹر کبھی ایلوپیتھی اور کبھی ہومیوپیتھی سے ان کا علاج کرتے، اینٹی ڈپریشن دوائیں لکھتے اور یہ کہہ کر تسلی دیتے کہ یہ آپ کی عمر سے جڑا ’مینوپاز‘ کا دور ہے، اور اس سے سبھی ادھیڑ عمر خواتین گزرتی ہیں۔ شہر ہو یا دیہات، سبھی سماجوں سے وابستہ خواتین اس سے صدیوں سے گزرتی آئی ہیں اور گزرتی رہیں گی۔

مینوپاز یعنی خواتین کے تولیدی نظام میں لگنے والا قدرتی ’پاز۔‘ صہبا کا انجام ’ہسٹریکٹمی‘ یا بچہ دانی نکال دیے جانے والی سرجری پر ہوا۔ وقت سے قبل ان کے جسم کا ایک اہم ترین سسٹم نکال دیا گیا، لیکن اب وہ اس درد سے نجات حاصل کر چکی ہیں اور قدرے پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔

آخر ’مینوپاز‘ ہے کیا، ڈاکٹر فائقہ ہارون نے تفصیل سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’خواتین کی بچہ دانی میں جو انڈے ہوتے ہیں، وہ ہارمون ریلیز کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اور یہ وہ ہارمون ہوتے ہیں جو خواتین کے تولیدی نظام کو توازن میں رکھتے ہیں، ان کے اخراج کا سسٹم ہر خاتون میں مختلف ایام میں کام کرتا ہے۔ اور ہارمون کے اسی اخراج کا نظام ہمارا مینوپاز متعین کرتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مینوپاز کی عمر 45 سال کے لگ بھگ اخذ کی گئی ہے۔‘

مینوپاز کا عمل مکمل ہونے تک کے دورانیے کو پیری مینوپاز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دورانیہ ہے جس میں جسمانی طور پر ایک سسٹم اپنا کام سمیٹ رہا ہوتا ہے اور دوسرا سسٹم کام شروع کر رہا ہوتا ہے۔ اس منتقلی کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے خواتین کو جسمانی، ذہنی اور غذائی صحت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

خواتین یوں بھی بڑھتی عمر کے معاملے میں حساس ہوتی ہیں اور پھر مینوپاز کا ’پاز‘ لگنا ایک تھکا دینے والا برسوں پر محیط عمل ہوتا ہے۔ ایسٹروجن ہو یا پروجیسٹیرون یا کوئی دوسرا ہارمون، ان سبھی کا امتزاج ایک خاتون کی شخصیت اور صحت کو مکمل کرتا ہے۔ ہماری بچہ دانی کے انڈوں کی تعداد ہی ہمارے مینوپاز کا دورانیہ متعین کرتی ہے۔‘

اگر ہم صہبا کے کیس کے حوالے سے بات کریں تو ماہر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر حضورہ شیخ کا ماننا ہے کہ ’جن خواتین کی بچہ دانی نکال دی جائے اور بیضہ دانی یا اووریز نہ نکالی جائیں تو ان کا ہسٹریکٹمی کے بعد ہر سال ایک ٹیسٹ کرانا اہم ہوتا ہے جو ان کی اووریز کی کارکردگی کے ساتھ ان کے مینوپاز کی مدت کا تعین کرتا ہے۔ اور جب تک اووریز کام کرتی ہیں مینوپاز جاری ہوتا ہے، اور جب یہ اپنی کارکردگی کی متعین سطح سے کم ہو جائیں تو خاتون کا مینوپاز مکمل ہو جاتا ہے۔‘

پاکستان میں مینوپاز کو صحت سے منسلک انتہائی غیر اہم مسئلہ سمجھا جاتا رہا ہے، جس میں ایک خاتون کئی طرح کے دباؤ، سماجی خاموشی اور روزمرہ کی صحت سے جڑی احتیاط کو جیسے نظر انداز ہی کرتی ملتی ہیں۔ اور یہ خواتین کی ادھیڑ عمر سے جڑی صحت پر انتہائی منفی اثر چھوڑتا ہے۔

’میری سٹوپس سوسائٹی‘ نامی ادارہ پاکستان بھر میں خواتین کی صحت اور تولیدی نظام سے جڑا ہے۔ اس کے مشاہدے کے مطابق، مینوپاز کے دوران 83 فیصد خواتین ’پٹھوں اور رگوں‘ کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں، جبکہ 65 فیصد خواتین میں فربہ جسم اور ’ہاٹ فلیشز یا دن کے کسی بھی حصے میں شدید گرمی لگنا شروع‘ ہو جاتی ہے۔

ایسے میں طرز زندگی کے حوالے سے کیا ضروری اقدامات کرنے چاہئیں، لائف سٹائل کوچ ڈاکٹر کنول قیصر کا کہنا ہے کہ ’اپنی غذا پر دھیان دینا چاہیے، 1500 سے 1800 کے درمیان کیلوریز کا روزانہ استعمال، مرغن خوراک پر کنٹرول، زیادہ سے زیادہ فائبر والی خوراک، پھلوں، سبزیوں، خشک میوہ جات، انڈوں اور پانی کا متوازن ان ٹیک، یہ سبھی شامل ہیں۔‘

صحت مند وزن والی خواتین روزانہ 1800 کیلوریز لے سکتی ہیں، لیکن جن کا وزن بڑھا ہوا ہو وہ 1500 کیلوریز روزانہ تک خود کو محدود رکھیں۔

اپنی روٹین میں ورزش اور سماجی طور پر خود کو مصروف رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔ پیری مینوپاز کے دوران خواتین نہ صرف جسمانی طور پر متاثر ہو رہی ہوتی ہیں بلکہ ان کی جذباتی توانائی بھی اتار چڑھاؤ سے گزرتی ہے۔ کبھی ہنسنا، کبھی رونا اور کبھی سوتے سوتے ’پینک اٹیک‘ سے دوچار ہو جانا۔ ایک انجانے خوف میں مبتلا رہنا، جسے ’اینگزائٹی‘ کے نام سے بھی پہچانا جا سکتا ہے۔

دیہی علاقوں میں خواتین کی پیری مینوپاز کی علامات کو ’آسیب‘ کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت بقول ڈاکٹر فائقہ، ’یہ سب ہمارے ہارمونز کا گورکھ دھندا ہوتا ہے۔‘ ان کا ماننا ہے کہ خواتین بلاشبہ ’ہوم میکر‘ تسلیم کی جاتی ہیں، لیکن عمر کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اعصاب اور جسم میں بھی توڑ پھوڑ ہوتی رہتی ہے جسے فیملی کی سطح پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے میں ماں، بہن، بیوی کا خاص خیال رکھیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں صحت مند روٹین پر آمادہ رکھیں اور اگر ان کا دل بوجھل ہو تو ان کے آنسو بھی پونچھ دیں۔

مینوپاز ایک قدرتی عمل ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اس پر بات کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس مشکل وقت میں انہیں صرف ادویات کی نہیں، بلکہ اپنے اہل خانہ کی توجہ اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
منگل, اپریل 7, 2026 - 10:15
Main image: 

<p class="rteright">مینوپاز میں خواتین کا جسم زندگی کے ایک مرحلے سے گزر کر دوسرے میں داخل ہوتا ہے (اینواتو)</p>

type: 
SEO Title: 
وہ عمر جب خواتین کے جسم اور ذہن میں تبدیلیاں آتی ہیں


from Independent Urdu https://ift.tt/s6drAEX

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;