مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم کے ایک سال بعد اب یہ وسیع پیمانے پر مانا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں شاید طویل عرصے کے لیے گہری تبدیلی آ چکی ہے۔
جب انڈیا نے گذشتہ سال چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو فوجی آپریشن ’سندور‘ شروع کیا تو اسے گمان تھا کہ حملہ چند دنوں میں پاکستان کو زیر کر لے گا۔
لیکن انڈیا کے لیے حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے نہ صرف سات مئی کو اپنے چھ طیارے کھوئے بلکہ پاکستان کا 10 مئی کا جواب، جو اب ’معرکہ حق‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اتنا زبردست تھا کہ انڈیا کو امریکی صدر سے جنگ بندی کا انتظام کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔
پاکستانی عوام خوشی سے جھوم اٹھے کہ انڈیا کی جارحیت کو ناکام بنا دیا گیا جبکہ انڈیا میں مایوسی کا عالم تھا کیونکہ انہیں اپنی تکبر بھری جارحیت کے اتنے شرم ناک انجام کی توقع نہیں تھی۔
انڈیا نے اپنے مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع پر انحصار کرنے کی بجائے پاکستان پر حملہ کیوں کیا؟
سات مئی کو ہونے والے حملے کے پیچھے انڈیا کا مقصد 22 اپریل کو اس کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کے قتل کا بدلہ لینا تھا۔
پاکستان نے ان اموات کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم پاکستان کو مایوسی ہوئی کہ انڈیا نے واقعے کے چند ہی منٹوں میں بغیر ثبوت فراہم کیے اس پر الزام لگا دیا۔
ستم ظریفی یہ کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ بھی معطل کر دیا جس سے لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں اور معاش کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
زیادہ تر پاکستانیوں کے نزدیک انڈیا کے الزامات کئی دہائیوں پر محیط نئی دہلی کی پالیسی کا تسلسل دکھائی دیتے تھے کہ پاکستان کو اس وقت تک تزویراتی طور پر مجبور کیا جائے جب تک وہ خطے میں انڈیا کے تسلط کو قبول نہ کر لے۔
10 مئی کو پاکستان کا موثر فوجی ردعمل جنوبی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ کے طور پر ابھرا۔
اول یہ کہ پاکستان نے سب کے سامنے ثابت کیا کہ اس کے پاس اپنے سے کئی گنا بڑے پڑوسی کی جارحیت کے خلاف دفاع کا عزم اور صلاحیت ہے۔
دوسرا، پاکستان کی اپنے انتہائی قابل اعتماد دوست چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہوئی۔
ثالثا، انڈیا کا یہ مفروضہ کہ پاکستان کو عسکری طور پر زیر کیا جا سکتا ہے، حقیقت کی جانچ پر پورا نہ اتر سکا۔
انڈین میڈیا اپنے جھوٹ اور جہالت کی وجہ سے اعتبار کھو بیٹھا۔
انڈیا نے اس بات سے انکار کر کے خود کو ایک مشکل میں ڈال دیا کہ جنگ بندی کے لیے ثالثی میں امریکہ کا کوئی کردار تھا۔
انڈیا کے لیے یہ حیرت کا باعث تھا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھا جبکہ کم از کم تین ممالک چین، ترکی اور آذربائیجان مضبوطی سے پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے۔
چوتھی بات یہ کہ دنیا میں کسی بھی ملک نے پہلگام میں دہشت گردی کے واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے کے انڈیا کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا۔
پانچواں اہم نکتہ یہ کہ انڈیا کی پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی پالیسی کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اب یہ عالم ہے کہ پاکستان کا عالمی سطح پر قد بڑھ چکا ہے اور اب وہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ تعمیری طور پر مصروف عمل ہے۔
پاکستان نے غزہ میں جارحیت کے خاتمے کی کوششوں میں کردار ادا کیا۔ اس نے سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
امریکی صدر نے بارہا پاکستان کی قیادت بالخصوص اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی طرف سے حالیہ امریکہ - ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں کردار کو سراہا۔
حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کا تسلط کا خواب ٹوٹ چکا ہے اور اب پاکستان کو خطے کے لیے استحکام فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خطے میں طاقت کا ایک نیا توازن پیدا ہو رہا ہے۔ چونکہ انڈین وزیراعظم نے ابھی تک فوجی آپریشن سندور ختم نہیں کیا، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈیا مستقبل قریب میں پاکستان کے خلاف ایک اور جارحیت کا آغاز کرے گا؟
ایسا لگتا ہے کہ انڈیا ایسی کسی مہم جوئی میں ملوث نہیں ہوگا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پاکستان اسے بھرپور جواب دے گا اور عالمی جغرافیائی سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے انڈیا مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کی بجائے انڈیا نے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسی پراکسیوں کی خفیہ حمایت کے ذریعے ہائبرڈ جنگ شروع کر دی ہے۔
اگر ہندوتوا فلسفےکی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کبھی بھی پاکستان کے خلاف متحرک جارحیت کا آغاز کرتی ہے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایک معمولی سی غلط فہمی بھی خطے کو تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے کیونکہ دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور باہمی یقینی تباہی کے لیے کافی مہلک ہتھیار رکھتے ہیں۔
یہ بھی جاننا چاہیے کہ جنگ کا کردار اب بدل چکا ہے، شاید ہمیشہ کے لیے۔
سائبر، الیکٹرانک اور نیٹ ورک وارفیئر کے ساتھ ساتھ میزائل اور ڈرون جیسے خود مختار مہلک ہتھیاروں نے بڑے اور چھوٹے ممالک کو برابر لا کھڑا کیا ہے۔
ایسے پرخطر ماحول میں ڈپلومیسی اختلافات کو حل کرنے کے بہترین ذریعے کے طور پر واپس آ رہی ہے۔
انڈیا کے لیےبہتر ہو گا کہ وہ مہنگی اور خون ریز جنگوں سے گریز کرے، امن اور مذاکرات کی راہ پر واپس آئے اور جنوبی ایشیا کو پرامن اور خوشحال بنانے کے لیے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
اپنی طرف سے پاکستان کو اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی میراث تصادم کے ذریعے غلبہ ہے نہ کہ علاقائی امن۔
اس لیے اسے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھتے ہوئے اپنے مشرقی پڑوسی کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کے لیے پوری طرح تیار رہنا چاہیے۔
مصنف صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">انڈیا نے اب تک آپریشن سندور ختم نہیں کیا، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا وہ مستقبل قریب میں پاکستان کے خلاف ایک اور جارحیت کا آغاز کرے گا؟ (گرافک/چیٹ جی پی ٹی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/fbdneMv