’رشتہ آنٹیوں‘ سے ’رشتہ ایپس‘ تک: بدلتا ہوا سماجی سفر

News Inside

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ٹی وی پروڈکشن سے منسلک تھی اور ایک میگزین شو پروڈیوس کیا کرتی تھی۔ اس شو میں کچھ موضوعات سیاسی ہوتے تھے اور کچھ سماجی۔ انہی دنوں رشتہ کرانے والی خواتین کا ٹرینڈ بھی عام تھا، جنہیں ہم طنزیہ طور پر ’رشتہ آنٹیاں‘ کہا کرتے تھے۔

دو دہائیوں قبل دنیا ابھی اتنی ہائی ٹیک نہیں ہوئی تھی۔ ایک پڑوسی ملک کی ویب سائٹ تھی، غالباً ’رشتہ ڈاٹ کام‘۔ اس کے بارے میں جاننے کے لیے میں نے وہاں ایک پروفائل بنا لیا۔

میری کیمرہ سٹوری مکمل ہوتے ہی اس پروفائل پر کسی نے اپنے کوائف ای میل کر دیے۔ وہ صاحب بیرون ملک مقیم تھے، ایک بڑے بلوچ سرداری خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شادی کے خواستگار تھے۔

یہ ای میلوں کا زمانہ تھا۔ میں نے دو دن وہ ای میل دیکھی، پھر والدہ کو اس بارے میں بتایا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اپنی ایک ڈاکٹر دوست سے بات کروں، جو عمر میں قدرے بڑی اور سندھی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اگر وہ دلچسپی ظاہر کریں تو دونوں کو ای میل کے ذریعے متعارف کرا دیا جائے۔

خدا کی کرنی، دونوں کا رابطہ ہوا، بات آگے بڑھی اور رشتہ بھی طے پا گیا۔ آج وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور دو تین بچوں کے والدین ہیں۔

تاہم، رشتہ ازدواج میں بندھنے سے پہلے مکمل چھان بین کی گئی اور اطمینان کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوا۔

اب ای میل تو ہے ہی، لیکن واٹس ایپ، رشتہ ایپس اور رشتہ آنٹیاں سب ہی اپنے اپنے انداز میں سرگرم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رشتہ ایپس واقعی قابل اعتماد ہیں؟

اس حوالے سے مجھے چند نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے بات کرنے کا موقع ملا، جن کے مختلف تجربات سامنے آئے۔

لاہور کی سلینہ کے مطابق: ’میرے والدین میری شادی کے لیے کافی سنجیدہ ہیں۔ میں نے بی بی اے کیا ہے اور خود بھی گھر بسانا چاہتی ہوں۔ کبھی کسی کو پسند نہیں کیا، لیکن رشتہ ایپ کے ذریعے تلاش جاری ہے۔ کچھ پروفائل سمجھ نہیں آتے اور کچھ لوگوں کو ہم سمجھ نہیں آتے۔ مثلاً جوائنٹ فیملی میں رہنے پر زور دینے والے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ہمیں مناسب نہیں لگتا۔‘

دوسری جانب چکوال کے عارف سلیم کہتے ہیں کہ ’ٹی وی پر ایک مشہور ایپ کا اشتہار بھی آتا ہے، لیکن حقیقت میں سب کچھ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ میں انجینئر ہوں اور ورکنگ لڑکی چاہتا ہوں، مگر میرے والدین ہر پروفائل میں نقص نکال دیتے ہیں۔ ہمیں کیوں لگتا ہے کہ ان ایپس کے ذریعے ملنے والے لوگ بالکل ٹپ ٹاپ ہوں گے؟‘

سوال یہ بھی ہے کہ ان ایپس پر دیے گئے کوائف کی درستگی کیسے جانچی جائے۔

یہ رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ بیرون ملک مقیم دیسی خاندان بھی ان ایپس کا استعمال کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں مقیم ایک پاکستانی خاندان سے بات ہوئی تو مسز کاظمی نے بتایا: ’میٹ اینڈ گریٹ ایونٹس میں شرکت کی، جہاں مسلم خاندانوں کے بچوں سے ملاقات ہوئی، مگر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ ہر ایک کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔‘

ان کے بقول: ’بیرون ملک رشتہ کرانے والی خواتین کے چارجز زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ ایپس کی سہولت اکثر مفت ہوتی ہے، اسی لیے لوگ ان کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، سب سے اہم بات پروفائلز کی تصدیق ہے۔‘

امریکہ میں مقیم مائرہ خان، جو اپنی بیٹیوں کے لیے واٹس ایپ رشتہ گروپس میں شامل ہیں، کہتی ہیں: ’میں اپنی بچیوں کے لیے اچھے رشتوں کی تلاش میں ہوں لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی۔ زیادہ تر لوگ حجاب کرنے والی لڑکیاں چاہتے ہیں، جبکہ میری بیٹیاں حجاب نہیں پہنتیں۔ البتہ انہی ایپس کے ذریعے کئی رشتے طے بھی ہوئے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایپس کی مستند حیثیت بھی ایک اہم سوال ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی رشتہ ایپ کے مطابق، ان کے پاس ملک اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کے تقریباً 30 لاکھ تصدیق شدہ پروفائلز موجود ہیں، جن کی تصدیق فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

دوسری طرف کراچی میں گذشتہ دس برس سے رشتے کرا رہی مسز عظمیٰ کا کہنا ہے: ’والدین کی توقعات بہت زیادہ ہوتی ہیں، جیسے ہم سانچوں میں رشتے ڈھال رہے ہوں۔ کوئی حجاب چاہتا ہے تو کوئی لبرل لڑکا یا لڑکی۔ لوگ بنگلوں میں رہنے والوں کو ترجیح دیتے ہیں اور فلیٹ میں رہنے والوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ آج کل زیادہ تر توجہ خوبصورتی اور دولت پر ہے، اقدار اور خاندان پسِ پشت چلے گئے ہیں۔‘

ان واٹس ایپ گروپس کی ممبرشپ فیس 10 ہزار روپے ہے، جبکہ رشتہ طے ہونے پر مزید 40 ہزار ادا کرنا ہوتے ہیں۔

تاہم، یہاں بھی اصل مسئلہ پروفائلز کی صداقت کا ہی ہے۔ مسز عظمیٰ کے مطابق: ’اکثر لوگ بیٹوں کی پہلی شادی چھپا لیتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ دفتر اور محلے سے بھی تصدیق کی جائے۔‘

مڈل ایسٹ میں مقیم چند نوجوان لڑکیوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق: ’ان ایپس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ یہ آسانی سے دستیاب ہیں اور عالمی سطح پر مواقع فراہم کرتی ہیں۔ لیکن جعلی پروفائلز اور دھوکہ دہی کا خطرہ بھی موجود ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔‘

جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانی ان ایپس کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہیں، وہیں پاکستان میں بھی ان کے استعمال پر تحفظات موجود ہیں۔ اسلام آباد کے رہائشی سلمان احمد کا کہنا ہے: ’چاہے رشتے ایپس کے ذریعے ہوں یا روایتی طریقوں سے، سب سے اہم چیز سچائی ہے۔‘

ڈیجیٹل دور میں رشتے تلاش کرنے کا طریقہ بدل گیا، مگر اعتماد، تصدیق اور ترجیحات کے مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔
منگل, مئی 12, 2026 - 06:30
Main image: 

<p>رشتہ ایپس اور رشتہ آنٹیاں سب ہی اپنے اپنے انداز میں سرگرم ہیں (اینواتو)</p>

type: 
SEO Title: 
’رشتہ آنٹیوں‘ سے ’رشتہ ایپس‘ تک: بدلتا ہوا سماجی سفر


from Independent Urdu https://ift.tt/fWlE25C

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;