مشرق وسطیٰ بحران: کیا پاکستان اثرات سے بچ سکتا ہے؟

News Inside

مغربی ایشیا کی جنگ پاکستان کے لیے اچانک کسی ایک بڑی آفت کی صورت میں نہیں بلکہ یہ آہستہ آہستہ کسے جانے والے شکنجے کی طرح آئی، جس کے ہر موڑ نے ان کمزوریوں کو بے نقاب کیا جو پہلے سے موجود تھیں۔ 

جیسے ہی آبنائے ہرمز میں عالمی توانائی کی ترسیل مسدود ہوئی اور تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، پاکستان کی ساختیاتی کمزوریاں پوری طرح بے نقاب ہو گئیں۔

غیر مستحکم ذخائر، محدود صنعتی بنیاد، اور ایک ایسا حکمران طبقہ جس نے ساختیاتی اصلاحات کے کٹھن فیصلوں پر قلیل مدتی استحکام کے سکون کو ترجیح دی ہے۔ شرح تبادلہ اس کی سب سے نمایاں علامت ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق، پاکستان کا حقیقی مؤثر شرح تبادلہ 105 تک پہنچ گیا ہے، جو روپے کی قدر زیادہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب حریف ممالک اپنی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی کر رہے ہیں۔

جیسا کہ اشوکا مودی نے لکھا ہے، انڈیا نے تیل کی قیمتوں کے ساتھ اپنے روپے کی قدر کو گرنے دیا، جو تکلیف دہ، لیکن حقیقت پسندانہ فیصلہ تھا۔ پاکستانی حکام نے اس نظم و ضبط کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے، انتظامی مداخلت کے ذریعے روپے کی قدر کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔

پاکستان اپنی توانائی کی تقریباً ایک تہائی ضروریات درآمد کرتا ہے، اور خلیجی ممالک کی ایل این جی سپلائی چینز میں تعطل اس نقصان کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

برآمدی آمدنی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ٹیکسٹائل کے شعبے کو بیک وقت پیداواری لاگت میں اضافے اور مسابقتی صلاحیت میں کمی کا سامنا ہے، کیوں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے حریفوں نے کرنسی کی حقیقت پسندانہ قدر کو تسلیم کرتے ہوئے دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی نسبت کم قیمتیں پیش کر دی ہیں۔

شرح تبادلہ کا انتخاب کوئی تکنیکی غلطی نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی ترجیح ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاست کن کے مفادات کا تحفظ کرنے کا انتخاب کرتی ہے، جیسا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کے فیصلوں سے ظاہر ہوتا رہا ہے۔

کرنسی کی زیادہ قدر درآمد کنندگان اور شہری خریدار طبقات کے لیے ایک سبسڈی ہے؛ جبکہ یہ برآمد کنندگان، مزدوروں، اور اس وسیع اکثریت پر ایک ٹیکس ہے جن کا روزگار ایک مسابقتی معیشت پر منحصر ہے۔ کرنسی کی قدر کم کرنے سے ہچکچاہٹ دراصل دولت کی ازسرنو تقسیم سے ہچکچاہٹ ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مسلسل پروگراموں کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر غیر مستحکم ہیں، جنھوں نے ساختیاتی تبدیلی کے بغیر مالیاتی استحکام تو فراہم کیا۔ ان ذخائر میں سے لگ بھگ نصف کا انحصار قلیل مدتی سعودی قرضوں پر ہے، نہ کہ کمائی گئی رقوم پر۔ 

درآمدی بل میں اضافے اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستان کے لگ بھگ 90 لاکھ مزدوروں کی ترسیلات زر کو درپیش غیر یقینی صورت حال کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

وطن واپسی کا سلسلہ جو فی الحال نہ ہونے کے برابر ہے، زور پکڑ سکتا ہے۔ شہری علاقوں کی لیبر مارکیٹیں، جو پہلے ہی پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کھپانے میں ناکام ہو رہی ہیں، انہیں ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان کی بیرونی صورت حال اس مشکل میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ عین اس وقت جب چین کا علاقائی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے اور امریکہ کی سٹریٹجک پسپائی میں تیزی آ رہی ہے، پاکستان چین کے بھاری قرضوں تلے دبا ہوا ہے اور اس تبدیلی کے نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ 

آبنائے میں کچھ بھی ہو، سی پیک کی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔ پیٹرو یوآن، جو طویل عرصے سے محض ایک نظریہ تھا، اب ایک عملی حقیقت بنتا جا رہا ہے کیوں کہ خلیجی ریاستیں ڈالر پر مبنی توانائی کی تجارت کے متبادل تلاش کر رہی ہیں۔

اس صدی کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر چین کے ابھرنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ یہ صرف اس وقت واضح ہو گا جب، ایک کے بعد ایک بحران میں، امریکی صلاحیت ناکافی ثابت ہو گی اور نتائج مرتب کرنے کے لیے چین کا معاشی اثر و رسوخ کافی ثابت ہو گا۔ 

جیسے جیسے امریکی دلچسپی کم ہو رہی ہے، ویسے ویسے اس سے جڑا باقی ماندہ اثر و رسوخ اور شرائط بھی دم توڑ رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان خود کو موثر انداز میں نئے حالات کے مطابق ڈھال سکتا ہے، اور اپنی بحالی کو ان نیٹ ورکس کے ساتھ جوڑ سکتا ہے جو چین خطے بھر میں بنا رہا ہے۔

نئے حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے پاکستان کو اپنے اتحادیوں کے ڈھانچے کو بڑی مہارت سے چلانے کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور برادرانہ تعلقات، یعنی مملکت کے مقدس مقامات کی سکیورٹی کے لیے پاکستان کا عزم، جس کی جڑیں 1970 کی دہائی کے بحرانوں سے جا ملتی ہیں، انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اب شاید انہیں مزید وسعت دی جائے۔

جغرافیہ، آبادیاتی خدوخال اور تجارت کی منطق بھی بیک وقت ایران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ایک مشترکہ سرحد، سرحد کے دونوں جانب گہرے تعلقات، اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی کے امکانات تہران کے ساتھ ایک فعال تعلق کو محض ایک انتخاب کے بجائے ناگزیر بناتے ہیں۔

مایوسی کی ساختیاتی وجوہات بالکل حقیقی ہیں۔ روپے کی زیادہ قدر، التوا کا شکار اصلاحات، اور پالیسیوں پر قابض اشرافیہ کے محدود گٹھ جوڑ، ان میں سے کوئی بھی چیز باہر سے مسلط نہیں کی گئی۔

یہ سب کیے گئے فیصلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن کیے گئے فیصلوں کو واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اس سے پہلے بھی شدید بیرونی دھچکوں کا سامنا کر چکا ہے اور اگرچہ اسے نقصان پہنچا لیکن وہ سلامت رہا، اور اس کے پاس سمت درست کرنے کی کوشش کے لیے کافی ادارہ جاتی یادداشت موجود ہے۔ مزید تاخیر کی قیمت اب کہیں زیادہ ہے، اور موقع بہت کم رہ گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسا کہ معاشی تاریخ بار بار بتاتی ہے، بیرونی دھچکے اکثر وہ کام کر جاتے ہیں جو ملکی سیاست نہیں کر پاتی یعنی وہ ایسے فیصلوں پر مجبور کرتے ہیں جو ہمیشہ سے ضروری تو ہوتے ہیں لیکن سیاسی طور پر کبھی سازگار نہیں ہوتے۔ 

ایک ایسا پاکستان جو شرح تبادلہ کو ایمانداری سے ایڈجسٹ کرنے، توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے، اور ساختیاتی انحصار کی بجائے سٹریٹیجک خودمختاری کے ساتھ اپنے اتحادیوں سے کیے گئے وعدوں کو نبھانے کے لیے اس لمحے کا استعمال کرے گا، وہ اس بحران سے بنیادی طور پر زیادہ مضبوط ہو کر نکلے گا۔ 

اس نتیجے کی کوئی ضمانت نہیں لیکن یہ ممکن ضرور ہے، اور بالآخر، ایک المیے اور ایک ٹل جانے والے المیے کے درمیان فرق اس بات پر منحصر ہے کہ آیا مختلف راستہ چننے کے لیے سیاسی عزم کو بروقت بیدار کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

بشکریہ عرب نیوز

جاوید حسن نے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر منافع بخش اور غیر منافع بخش، دونوں شعبوں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر کام کیا ہے۔ وہ شنگھائی کی فوڈان یونیورسٹی میں سینئر وزٹنگ فیلو رہ چکے ہیں۔ ایکس: @javedhassan

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مغربی ایشیا کی جنگ پاکستان کے لیے اچانک کسی ایک بڑی آفت کی صورت میں نہیں بلکہ یہ آہستہ آہستہ کسے جانے والے شکنجے کی طرح آئی۔
جمعرات, مئی 21, 2026 - 07:15
Main image: 

<p class="rteright">16 جون 2025 کو اسلام آباد کے ایک فیول سٹیشن پر ایک ملازم موٹر سائیکل کا ٹینک بھر رہا ہے (عامر قریشی/ اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
مشرق وسطیٰ بحران: کیا پاکستان اثرات سے بچ سکتا ہے؟


from Independent Urdu https://ift.tt/NzZW50n

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;