بہن کا حصہ نہ دینے والے مرد اور آبائی قبرستان کی حسرت

News Inside

میں اس وقت مردوں سے مخاطب ہوں۔ صرف یہ بتائیے کہ دفن ہونے کے لیے آپ کون سا قبرستان پسند کریں گے؟

آپ سب کے دماغ میں وہی گھوم رہا ہو گا، آبائی قبرستان، جہاں بڑے گئے آخری آرام کرنے، ہم بھی وہیں جائیں گے، قدرتی بات ہے، میری بھی عین یہی خواہش ہے۔

علامہ ناصر مدنی پچھلے دنوں سیالکوٹ بار سے خطاب کر رہے تھے، کہنے لگے، ’ظالمو، بیٹیوں کو حصہ دیا کرو، وہ تو دفن بھی سسرال کے قبرستان میں جا کے ہوتی ہیں۔‘

یہ اتنی بڑی بات تھی کہ اس نے میرا دماغ پلٹ کے رکھ دیا۔ میں آج تک یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ بات میں کیوں نہیں کہہ سکا؟ کیوں نہیں سوچ سکا؟

جب میں یہ دیکھ رہا تھا کہ انڈیا سے آئی میری دادی ملتان دفن ہو رہی ہیں، پشاور سے آئی میری ماں وہیں میرے باپ دادا والے قبرستان میں دفنائی جا رہی ہیں، تو میں نے صرف اپنے لیے کیوں سوچا کہ کاش، میں بھی ادھر ہی آؤں مرنے کے بعد ۔۔۔

میں نے کراچی سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی سے کبھی کیوں نہیں پوچھا کہ یار تم کیا سوچتی ہو، تمہیں نہیں ایسا کوئی خیال آیا؟ شادی کے بعد باہر ملک گئی اپنی بہن سے کیوں اس بارے میں سوال نہیں کیا؟ اسے کوئی ایسی خواہش یا حسرت نہیں ہوتی ہو گی؟

حصہ وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے شادی کے بعد کتنی بیٹیوں کے لیے ماں باپ کے گھر میں کمرہ باقی رہ جاتا ہے؟ اپنے اردگرد دیکھیں، غور کریں، کتنی بہنوں نے، کتنی بیٹیوں نے گلہ کیا ہے کہ یار ہم گھر سے نکلے نہیں اور پیچھے کمرہ تک غرق ہو گیا؟

گھر میں دس کمرے ہوں یا تین ۔۔۔ کس نے باقی رکھا ہے کمرہ؟ سال میں چار دن کے لیے بھی وہ آئے گی، تو اسے کوئی تعلق، کوئی دھاگہ، کوئی اپنائیت باقی نہیں ملنی چاہیے؟

ہم لوگ کیا کیا کچھ نہیں کرتے، مذاق میں ہی سہی لیکن آپ میں سے کتنوں نے یہ کہا ہو گا کہ تمہاری شادی پر تم کو مل گیا تمہارا حصہ، اب موج کرو، جو تھا وہی تھا، کیوں؟

شادی کے بعد اُس نے جب دوسری جگہ جانا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنا آدھا نام بدلتی ہے، اس کے بعد ساری زندگی جس گھر کو بنانے میں لگاتی ہے وہ گھر بھی اس کے نام نہیں ہوتا اور قبرستان تو ویسے ہی شوہر کی طرف والا ہونا ہے ۔۔۔

تو میکہ، اسے کیا وہ بنیادی حق نہیں دے سکتا جو پہلے ہی مرد کی نسبت آدھا ہے؟

یہاں تک میری بات ختم ہو گئی۔ آپ سکون سے اپنے گریبانوں میں جھانکیے، دائیں بائیں دیکھیں، سر کھجائیں، میرے کچھ کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے، علامہ صاحب پورا بیان اسی موضوع پر دے گئے۔

اب میں خواتین سے بات کر رہا ہوں۔ پہلا کام جو آپ کر سکتی ہیں پڑھائی کے بعد، وہ یہ ہے کہ سوچیں۔۔۔ یہ سوچیں کہ محض ایک ٹکڑا زمین کا، ایک چھوٹا سا، سنگل کمرے والا فلیٹ، یا کچھ بھی ایسا جو صرف آپ کے نام ہو، وہ آپ کس طرح جلد از جلد بنا سکتی ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوکری کرنا ہے وہ کریں، کاروبار کے وسائل ہیں تو وہ دیکھیں، والد کے پاس اتنا پیسہ ہے تو ان سے مانگیں کہ اپنی زندگی میں دیں، شادی پہ لاکھوں روپے جو ضائع کرنے ہیں، وہ سادگی سے نکاح کر کے اس کام میں لگائیں۔

لیکن یہ کام ضرور کر لیں کیونکہ اپنی چھت ایک سینس آف بی لونگنگ پیدا کرتی ہے، وہی جو تعلق ہم مردوں کا اپنے آبائی قبرستان سے ہوتا ہے۔

میں نے اپنی دادی کو صابر شاکر دیکھا، ماں کو ہمیشہ ہنستے ہوئے، مطمئن دیکھا، آج کی عورت لیکن آرام میں نہیں ہے۔ وہ اُن سے زیادہ کام کر کے بھی ان سے زیادہ ان سکیور ہے، ڈس اورئینٹڈ ہے اور میرے ذاتی خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے ۔۔۔

اپنی چھت کا نہ ہونا ۔۔۔ کسی ایک کمرے کو مکمل اپنا نہ کہہ سکنا اور ہر ایک گھر میں پرائے گھر کا احساس غالب رہنا اور پھر اسی بات کا باپ، بھائی، بیٹے یا شوہر کی طرف سے بار بار بار جتلائے جانا۔

اپنا گھر، میرا بھی کوئی نہیں لیکن قبرستان کا سوچتا ہوں تو تسلی ہوتی ہے کہ نارمل حالات میں مرا تو ملتان بھیج ہی دیں گے لوگ، لیکن اس دنیا کی آدھی آبادی جو یہ بھی نہیں سوچ سکتی ۔۔۔ اس کا ڈس اورئینٹڈ اور پریشان رہنا کیا اب بھی نہیں بنتا؟

علامہ ناصر مدنی کا میں شکرگزار ہوں، بیٹیوں کو حصہ دے دیا کریں یار، یہ دنیا اور آخرت ۔۔۔ ہر لحاظ سے نرا ظلم ہے!

صرف یہ سوچیں کہ آپ کو پتہ ہو آپ اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتے، تو کیسا لگے گا آپ کو؟

حصہ وغیرہ تو بہت دور کی بات ہے شادی کے بعد کتنی بیٹیوں کے لیے ماں باپ کے گھر میں کمرہ باقی رہ جاتا ہے؟
سوموار, مئی 18, 2026 - 06:00
Main image: 

<p class="rteright">یکم مارچ 2022 کو کراچی کے طارق روڈ قبرستان میں محمد عبداللہ سیف اپنے والد کی قبر کے قریب دعا کر رہے ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)</p>

jw id: 
GBqGYfuh
type: 
SEO Title: 
بہن کا حصہ نہ دینے والے مرد اور آبائی قبرستان کی حسرت


from Independent Urdu https://ift.tt/xVTPmuf

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;