دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے میلے فٹ بال ورلڈ کپ میں اس بار پہلے سے بھی زیادہ ٹیمیں، زیادہ میچ اور زیادہ میزبان ممالک شامل ہیں۔ اس صورت حال نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے:
آخر حد کتنی ہے؟
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں 11 جون سے 19 جولائی تک ہونے والا یہ ورلڈ کپ اس بات کی آزمائش کرے گا کہ دنیا کا مقبول ترین کھیل اپنے سائز اور شیڈول کو کہاں تک بڑھا سکتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ نظام ٹوٹنے لگے۔
چاہے بات بڑے کھلاڑیوں کی جسمانی برداشت کی ہو، جو پہلے ہی بھرے ہوئے کیلنڈر پر ہڑتال کی دھمکیاں دے رہے ہیں یا فینز کی توجہ کی، جو ہر روز ٹی وی پر فٹ بال دیکھ کر تھکنے لگے ہیں، یا پھر ٹکٹوں اور حتیٰ کہ پارکنگ تک کی آسمان چھوتی قیمتوں کی، ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی دباؤ کے کئی پہلو سامنے آ رہے ہیں۔
48 ٹیموں کے توسیعی فارمیٹ، جو پہلے 32 تھیں اور تقریباً چھ ہفتوں کے دوران میچز کے باعث کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ فیفا اپنی سب سے قیمتی پراڈکٹ کو کمزور کر رہا ہے۔
سابق امریکی فارورڈ کلنٹ ڈیمپسی نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میری ذاتی رائے میں اس سے ٹورنامنٹ کا جوش اور معیار کچھ کم ہوا ہے۔
’ایسا لگتا ہے جیسے اصل ٹورنامنٹ تو راؤنڈ آف 32 سے ہی شروع ہو گا۔‘
فارمیٹ کے پھیلاؤ نے ’گروپ آف ڈیتھ‘ جیسے مقابلوں کے امکانات تقریباً ختم کر دیے ہیں، جہاں بڑے بڑے ملک ایک ہی گروپ میں آتے تھے۔
روایتی طور پر گروپ مرحلے میں جو سنسنی اور خطرے کا عنصر ہوتا تھا، وہ اب کم ہو گیا ہے کیونکہ اب بہترین آٹھ ’تیسری پوزیشن‘ والی ٹیمیں بھی راؤنڈ آف 32 میں پہنچ جائیں گی۔
مورخ اور مصنف جوناتھن ولسن نے کہا ’سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مقابلے کی کشش ہی کم نہ ہو جائے۔ شاید اس بار فیفا بچ جائے کیونکہ یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ ہے اور ٹکٹوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
’لیکن آخرکار ایسا وقت آ سکتا ہے کہ براڈکاسٹرز اور فینز دلچسپی کھونا شروع کر دیں اگر ٹورنامنٹ صرف آخری 16 ٹیموں کے راؤنڈ میں جا کر دلچسپ بنے۔
’ورلڈ کپ کا میچ ایسا ہونا چاہیے کہ آدمی اسے دیکھے بغیر نہ رہ سکے، لیکن 104 میں سے 90 میچ کون دیکھے گا؟ یہ بہت زیادہ ہے۔‘
’ہم کھیل کو عالمی بنا رہے ہیں‘
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کہتے ہیں ٹورنامنٹ کی توسیع سے کھیل واقعی عالمی ہو جائے گا اور ان ممالک کو موقع ملے گا جنہوں نے کبھی ورلڈ کپ میں کھیلنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔
خیال یہ ہے کہ زیادہ ٹیموں کے کوالیفائی کرنے کے امکانات بڑھنے سے دنیا بھر میں فٹ بال بہتر ہوگا۔
اگلے ماہ چار نئے ممالک پہلی بار ورلڈ کپ کھیلیں گے، جن میں سب سے چھوٹا کیوراساؤ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ورلڈ کپ کھیلنے والا اب تک کا سب سے چھوٹا ملک۔
ان کے گول کیپر ایلوی روم نے کہا ’ہمارے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے مگر ہم یہ بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم کھیل سکتے ہیں اور ہم اس جگہ کے مستحق ہیں۔‘
دیگر نئے ممالک میں اردن، کیپ وردے اور ازبکستان شامل ہیں۔ ہیٹی 1974 کے بعد پہلی بار کوالیفائی ہوا ہے۔
ہیٹی کے مڈفیلڈر یاسین فورچون نے کہا ’بچپن میں ہم سب ورلڈ کپ دیکھتے تھے اور اس میں کھیلنے کا خواب دیکھتے تھے لیکن وہ صرف ایک خواب تھا۔ اب حقیقت بن جانا ناقابلِ یقین ہے۔‘
اسی طرح ہیٹی کے گول کیپر جوشوئے ڈووَرژے جرمنی کی ریجنل لیگ چھوڑ کر برازیل کے ستاروں وینیسیئس جونیئر اور نییمار جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ہی ٹورنامنٹ میں ہوں گے۔
کبھی کبھی ’کم‘ ہی ’زیادہ‘ ہوتا ہے
انگلینڈ کی پروفیشنل فٹ بالرز ایسوسی ایشن کے سربراہ میہتا مولانگو ان لوگوں میں شامل ہیں جو مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ کھلاڑیوں پر زیادہ کھیل کا بوجھ ان کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ کہتے ہیں کہ فٹ بال کو امریکہ کی این ایف ایل کی طرح ’کمی کی قدر‘ سمجھنا چاہیے۔
این ایف ایل کے میڈیا رائٹس ہر سیزن تقریباً 11 ارب ڈالر کماتے ہیں جبکہ ٹیمیں صرف 17 لیگ میچ اور زیادہ سے زیادہ 21 میچ پورے سیزن میں کھیلتی ہیں۔
دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی اور امیر ترین لیگ انگلش پریمیئر لیگ ہے، لیکن اس کی مجموعی آمدنی این ایف ایل کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہے، باوجود اس کے کہ پریمیئر لیگ کی ٹیمیں 38 میچ کھیلتی ہیں۔
مولانگو کے مطابق فٹ بال کی عالمی مقبولیت کے باوجود، کھیل کو اپنے معیار کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا ’ہم چین، امریکہ، انڈیا کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں ’کمی کی قدر‘ پر غور کرنا ہوگا کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ زیادہ میچ ہی زیادہ فائدہ دیں۔
’ہمیں معیار کو دوبارہ اپنی منصوبہ بندی کا مرکز بنانا ہوگا۔‘
کھلاڑیوں کی صحت کے بارے میں بڑھتی تشویش
صرف کھیل کے معیار کی بات نہیں، کھلاڑیوں کی یونینز جسمانی اور ذہنی صحت کے بوجھ کے بارے میں بھی فکر مند ہیں کیونکہ ٹاپ کھلاڑیوں کو آرام کے لیے اب پہلے سے بھی کم وقت مل رہا ہے۔

<p>11 مئی، 2026 کو میکسیکو سٹی میں ایک خاتون پرتگالی سٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کی تصویر کے ساتھ پوز دے رہی ہے (اے ایف پی)<br />
</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/47niBAW