کراچی کے علاقے لیاری کی گنجان آبادی اور تنگ گلیوں کے درمیان تپتی دوپہر میں جب زیادہ تر لوگ سایہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، وہاں کچھ بچیاں فٹ بال کے پیچھے دوڑ رہی ہیں۔
ان کے لیے فٹ بال محض ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی کا حصہ اور ایک ایسا جنون ہے جس نے انہیں خواب دیکھنا اور ان خوابوں کے لیے لڑنا سکھایا ہے۔
یہ لیاری کی وہ باہمت لڑکیاں ہیں جو سماجی رویوں اور حوصلہ شکن باتوں کی پروا کیے بغیر اپنے شوق کے تعاقب میں مصروف ہیں۔
انہی لڑکیوں میں مہر بھی شامل ہیں، جن کے لیے فٹ بال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
وہ روزانہ تقریباً 10 کلومیٹر سفر کر کے عماد فٹ بال اکیڈمی‘ پہنچتی ہیں۔ شدید گرمی، طویل سفر اور تھکن ان کے لیے اہم نہیں کیونکہ فٹ بال سے ان کی وابستگی ہر مشکل پر بھاری ہے۔
مہر کہتی ہیں ’ہم یہاں آٹھ، 10 سال سے کھیل رہے ہیں، اُس وقت اس گراؤنڈ میں کچھ بھی نہیں تھا۔
’لیاری میں فٹ بال کا ایسا جنون ہے کہ اگر میچ ہو جائے تو لوگ گلیوں میں نکل آتے ہیں۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ آج اگرچہ ماحول پہلے سے بہتر ہو چکا ہے لیکن ابتدا آسان نہیں تھی۔
’اب فٹ بال کھیلتے ہوئے آزادی محسوس ہوتی ہے، مگر جب آغاز کیا تو نہ کسی کی سپورٹ تھی اور نہ حوصلہ افزائی۔ محلے والے باتیں کرتے تھے، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔‘
لیاری کے علاقے کمہار واڑا کی بچی خاتون بھی اسی میدان میں موجود تھیں۔ چہرے پر پسینہ اور نظریں گیند پر مرکوز، جیسے اگلا لمحہ گول میں بدلنے والا ہو۔
خاتون بین الاقوامی سطح پر بھی کھیل چکی ہیں، اسی لیے ان کی موجودگی دیگر بچیوں کے لیے حوصلے اور امید کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
خاتون نے بتایا ’میں نے ناروے میں سیمی فائنل تک کھیلا ہے۔ مجھے نہ صرف گھر والوں بلکہ محلے والوں کی بھی بہت سپورٹ ہے۔‘
ان کے پسندیدہ کھلاڑی برازیل کے ’نیمار جی آر‘ ہیں اور وہ خود کو ان ہی کی طرح کھیلتے دیکھنا چاہتی ہیں۔
’مجھے نیمار جونیئر بہت پسند ہیں۔ میں بھی ان کی طرح بننا چاہتی ہوں اور پاکستان کی بین الاقوامی فٹ بال ٹیم میں کھیل کر اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خاتون کے مطابق لیاری کی شناخت بھی بدل رہی ہے۔
’اب لیاری میں گولیوں کی نہیں بلکہ کھیل کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ لیاری بہت اچھی جگہ ہے، یہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں فٹ بال کھیلتے ہیں۔ یہ سب غلط ہے کہ یہاں صرف بندوقوں کی کہانیاں ہیں۔‘
ان بچیوں کے کوچ زبیر فیض گذشتہ ایک دہائی سے مفت فٹبال سکھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لیاری میں ٹیلنٹ کی کمی کبھی نہیں رہی، فرق صرف مواقع اور سہولیات کا تھا۔
’یہاں سیکھنے والی کئی بچیاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل چکی ہیں۔ روزانہ کبھی 15، کبھی 20 اور کبھی 25 بچیاں بھی ٹریننگ کے لیے آ جاتی ہیں۔
’پہلے لیاری میں صرف دو فٹ بال اکیڈمیاں تھیں، ایک جافا اور ایک سیپا، لیکن اب کئی اکیڈمیاں قائم ہو چکی ہیں، اسی لیے لڑکیاں گھروں سے نکل رہی ہیں اور فٹ بال کھیل رہی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس اکیڈمی سے نکلنے والی کئی لڑکیاں بیرون ملک تک کھیل چکی ہیں۔
’خاتون، عمرہ اور ستائش جیسی بچیاں یہیں سے سیکھیں اور بعد میں بین الاقوامی فٹبال کھیلنے تک پہنچیں، حتیٰ کہ ناروے میں بھی کھیل چکی ہیں۔‘
زبیر کے مطابق لیاری میں والدین کا اعتماد بھی بڑھا ہے۔ ’دیگر علاقوں کے مقابلے یہاں بچیوں کی عزت اور تحفظ زیادہ ہے۔ والدین خود اعتماد کے ساتھ اپنی بچیوں کو یہاں فٹ بال کھیلنے بھیجتے ہیں۔‘
لیاری کی یہ دھوپ میں دوڑتی بچیاں صرف گیند کے پیچھے نہیں بھاگ رہیں، بلکہ وہ اپنے لیے ایک نئی شناخت، نئے امکانات اور اس شہر کے بارے میں قائم پرانی سوچ کو بدلنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

from Independent Urdu https://ift.tt/91AOKQS