جنیوا طویل عرصے سے بین الاقوامی سفارت کاری، امن مذاکرات اور تاریخی معاہدوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں طے پانے والے کئی معاہدوں نے نہ صرف جنگوں اور تنازعات پر اثر ڈالا بلکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
آج جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کسی نئے معاہدے کی تیاریاں جاری ہیں، تو ایک بار پھر نظریں جنیوا پر جمی ہوئی ہیں، تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب اس شہر میں ہونے والے مذاکرات نے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہوں۔
جنیوا میں ہونے والے اہم معاہدوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
جنیوا پروٹوکول: کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف پہلا بڑا قدم
پہلی عالمی جنگ کے دوران زہریلی گیسوں کے استعمال نے دنیا کو جنگ کی ہولناکی کا ایک نیا رخ دکھایا۔ اسی پس منظر میں 1925 میں جنیوا پروٹوکول طے پایا۔
اس معاہدے نے جنگوں میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اصول وضع کیے اور بعد میں ان ہتھیاروں پر پابندیوں کی بنیاد فراہم کی۔
یہ معاہدہ اس بات کا اعتراف تھا کہ بعض ہتھیار ایسے ہیں جن کے استعمال کے نتائج صرف فوجیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ وسیع پیمانے پر انسانی جانوں اور ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔
جنیوا کنونشنز: جنگ میں انسانیت کے تحفظ کے اصول
جنیوا سے وابستہ سب سے معروف معاہدے جنیوا کنونشنز ہیں، جنہیں جدید بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
ان معاہدوں کا آغاز 1864 میں ہوا، جب کہ 1949 میں انہیں موجودہ شکل دی گئی۔ جنیوا کنونشنز کے تحت جنگ کے دوران زخمی فوجیوں، جنگی قیدیوں اور تنازعات میں پھنسے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح قواعد وضع کیے گئے۔
آج بھی دنیا کے تقریباً تمام ممالک ان اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں اور بین الاقوامی تنازعات میں ان کی پابندی کے پابند سمجھے جاتے ہیں۔
1988 کے جنیوا معاہدے اور افغانستان کی جنگ
جنیوا نے صرف انسانی حقوق کے قوانین کی تشکیل میں ہی کردار ادا نہیں کیا بلکہ سرد جنگ کے دور کے ایک اہم تنازعے میں بھی مرکزی حیثیت اختیار کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1988 میں افغانستان، پاکستان، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جنیوا معاہدے طے پائے۔ ان معاہدوں نے افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا اور کئی برسوں سے جاری جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔
ان معاہدوں کو سرد جنگ کے آخری اہم سفارتی اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایران کی جوہری ڈیل کی بنیاد
جنیوا ایک بار پھر 2013 میں عالمی توجہ کا مرکز بنا جب ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایک اہم جوہری معاہدہ طے پایا۔
اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بعض پابندیاں قبول کیں اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو زیادہ رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے بدلے میں ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہی معاہدہ بعد میں 2015 میں طے پانے والی بڑی ایرانی جوہری ڈیل کی بنیاد بنا۔
ایک بار پھر جنیوا عالمی توجہ کا مرکز
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور جنیوا ایک بار پھر خبروں کا مرکز بن گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کسی نئی مفاہمت کی توقعات نے اس شہر کو دوبارہ عالمی توجہ کا محور بنا دیا ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات محض سفارتی ملاقاتیں نہیں رہے۔ کئی مواقع پر یہاں طے پانے والے معاہدوں نے جنگوں کا رخ بدلا، بین الاقوامی قوانین کو شکل دی اور عالمی سیاست کے مستقبل پر دیرپا اثرات چھوڑے۔
اسی لیے جب بھی دنیا کسی بڑے سفارتی حل یا تاریخی معاہدے کی امید لگاتی ہے تو جنیوا کا نام ایک بار پھر سامنے آ جاتا ہے۔

<p class="rteright">14 مئی 2016 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جھیل لیمان اور دریائے رون پر واقع مونٹ بلانک پل کی فضا سے لی گئی تصویر (روئٹرز)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/jlRgiKZ