غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر، جس کے نتیجے میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم ہوئے، اسرائیل کی وہی مانوس اور تھکا دینے والی تردیدیں سامنے آئیں جو بارہا سننے کو ملتی ہیں۔
لیکن اسرائیلی حکام کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ حسب معمول جلدی میں لگائے جانے والے الزامات جیسے ’بہتان پر مبنی ڈھونگ، پروپیگنڈا مواد‘، حتیٰ کہ یہ دلیل کہ حماس شہری علاقوں میں سرگرم ہے (جو واقعی ہے) — اب اس مفصل 86 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پیش کیے گئے مضبوط شواہد کے سامنے کمزور پڑتے جا رہے ہیں، جس کا جائزہ قانونی ماہرین نے لیا ہے۔
صرف اتنا نہیں کہ رپورٹ میں، غزہ کے ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے غیر ملکی کے، جن میں برطانوی ڈاکٹر بھی شامل ہیں، شواہد کی تائید کرتے ہوئے، ان بچوں کی اموات کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی گئی ہے جنہیں سنائپرز اور ڈرونز کے ذریعے حساس اعضا پر گولیاں مار کر زخمی کیا گیا۔
رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر مہلک اور وسیع فضائی حملے کیے گئے جہاں بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
نوزائیدہ اور بچوں کے ہسپتالوں پر حملے کیے گئے۔ فوجی تحویل میں نوعمر افراد، خاص طور پر لڑکوں، کے ساتھ بدسلوکی اور بعض اوقات تشدد کیا گیا اور ہزاروں بچے اس جنگ میں یتیم ہو گئے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ، اس واضح حقیقت کے علاوہ کہ یہ اموات جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جو بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ سمجھنا تقریباً ناممکن ہے کہ یہ اقدامات اسرائیل کی سکیورٹی میں کیسے مددگار ہو سکتے ہیں یا انہیں کس طرح جواز فراہم کیا جا سکتا ہے؟
سوائے اس کے کہ آپ یہ سمجھیں کہ ایسے بچے بڑے ہو کر ’دہشت گرد‘ بن سکتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ انہیں ختم یا معذور کر دیا جائے۔
جیسا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے، یہی مفہوم بعض اسرائیلی سیاست دانوں کے اُن خوفناک بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جو سات اکتوبر، 2023 کے حماس حملے کے بعد سامنے آئے۔
مثال کے طور پر کنیسٹ کے نائب سپیکر نسیم واطوری نے فوج کو پہلے ہی یہ کہتے ہوئے اکسایا تھا کہ ’وہاں کوئی بچہ نہ چھوڑو‘ اور جنوری 2025 میں انہوں نے کہا ’غزہ دہشت گردوں سے بھرا ہوا ہے اور وہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ پیدائش کے لمحے سے ہی دہشت گرد ہوتا ہے۔‘
یہ کھلی نسل کشی پر مبنی سوچ یقیناً سرکاری یا عوامی حکومتی موقف نہیں۔
توقع ہے اسرائیلی وزرا جلد یہ کہیں گے کہ چونکہ اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق 18 سال سے کم عمر ہر فرد بچہ شمار ہوتا ہے، اس لیے کچھ نوجوان مسلح گروہوں میں بھرتی بھی ہو سکتے ہیں۔
لیکن اگر یہ حقیقت بچوں کے قتل کو جائز بنا بھی دے (جو نہیں بناتی) تو بھی یہ اس چونکا دینے والے مگر وسیع طور پر تسلیم شدہ اعداد کا جواز نہیں بن سکتی کہ اس انتقامی جنگ میں 21,180 بچے مارے گئے جبکہ اس علاقے میں 40 فیصد نوجوان آبادی 14 سال سے کم عمر ہے۔
اسی طرح عسکری ضرورت یا ’ضمنی نقصان‘ (کولیٹرل ڈیمیج) کا جواز بھی ناکافی ہے۔
مثال کے طور پر پانچ سالہ ہند رجب کا قتل، جو ایک گاڑی میں پھنسی ہوئی تھی جب اس کے چچا، چچی اور چار کزن ایک حملے میں مارے جا چکے تھے، کہاں کی عسکری ضرورت تھی؟
وہ غزہ شہر کے تل ہوا کے علاقے سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہاں کسی عسکری سرگرمی کا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں تھا۔
ایمبولینس کا عملہ بھی ٹینک کی گولہ باری یا فائرنگ میں مارا گیا جب وہ اسے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یا پھر اکتوبر 2025 میں نام نہاد جنگ بندی کے ایک ماہ بعد اسرائیلی فوجیوں نے ایک ڈرون بلا کر دو بھائیوں کو، جن کی عمریں 9 اور 10 سال تھیں، اس وقت نشانہ بنایا جب وہ خان یونس کے مشرق میں اپنے معذور والد کے لیے ایندھن کی لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔
سکیورٹی فورسز نے انہیں ’مشتبہ افراد‘ قرار دیا، حالانکہ وہ ان سے تقریباً 300 گز دور تھے اور کسی بھی طرح خطرہ نہیں بن سکتے تھے۔
یہ تو صرف دو مثالیں ہیں — پہلی معروف، دوسری نسبتاً کم معروف — اُن خوف ناک واقعات کی طویل فہرست میں سے جن میں بچوں کی اموات شامل ہیں اور یہ سلسلہ سات اکتوبر کے تقریباً ڈھائی سال بعد بھی جاری ہے۔
یہ ان وسیع بمباریوں کا مکمل احاطہ بھی نہیں کرتیں جن میں رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں اور بچوں سمیت پورے خاندان مارے گئے۔
جب تک بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو غزہ تک رسائی سے محروم رکھا جائے گا، اسرائیلی حکام کے لیے ایسے دستاویزات کو باآسانی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرنا آسان رہے گا۔
اسی لیے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے مقرر کیے گئے دو ججوں اور ایک بین الاقوامی وکیل نے — جسے ایک اسرائیلی ترجمان نے ’ہتک آمیز وکالت‘ قرار دیا — اپنی تحقیق کے دوران اسرائیل کی ریاست سے ’رسائی/معلومات‘ کے لیے 13 الگ درخواستیں دیں، مگر انہیں کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

<p class="rteright">غزہ کے علاقے نصیرات میں 19 مئی، 2026 کو فلسطینی بچے ایک دیوار پر بنی تصویر کو دیکھ رہے ہیں، جس میں غزہ کے لیے سمندر کے راستے بھیجی جانے والی انسانی امدادی مہم — گلوبل صمود فلوٹیلا — میں شامل جہازوں کو اسرائیل کی جانب سے روکے جانے کا منظر دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/SCsDrxp