شندور سطحِ سمندر سے 12205 فٹ کی بلندی پر واقع وہ دل آویز درہ ہے، جہاں نیلگوں آسمان زمین سے ہم کلام ہوتا ہے، جہاں ہوائیں بانسری کی لے میں نغمے چھیڑتی ہیں، جہاں سبزہ اپنی تازگی پر ناز کرتا ہے اور جہاں قدرت نے حسن کی وہ تصویریں بنائی ہیں، جنہیں دیکھ کر انسان بے اختیار اپنے خالق کی صناعی پر سجدۂ شکر بجا لاتا ہے۔
یہ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ وادیٔ لاسپور کے عوام کی صدیوں پرانی مِلکیتی چراگاہ ہے۔ ایک ایسی امانت جس سے ہزاروں خاندانوں کی معیشت، مال مویشی اور روزگار وابستہ ہیں۔ یہی وہ چراگاہ ہے جہاں نسلوں سے چرواہے اپنے ریوڑ لے کر آتے رہے، جہاں گھوڑے آزاد دوڑتے رہے اور جہاں زندگی کا رشتہ فطرت سے کبھی منقطع نہیں ہوا۔
ایک زمانہ تھا جب اکتوبر سے جون تک کئی کئی فٹ برف اس درے کو اپنی سفید چادر میں لپیٹے رکھتی تھی۔ شندور دنیا سے کٹ جاتا تھا، مگر اپنی پاکیزگی، خاموشی اور وقار کو برقرار رکھتا تھا۔
پھر سائنس کے مطابق انسان نے صنعتوں کی چمنیوں سے ایسا دھواں چھوڑا کہ اس کا اثر ان برف پوش چوٹیوں تک جا پہنچا۔ آج ماحولیاتی تبدیلی نے شندور کی آب و ہوا کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ برف کم پڑتی ہے، موسم مختصر ہو چکے ہیں اور وہ درہ جو آٹھ آٹھ ماہ بند رہتا تھا، اب اکثر پورا سال کھلا رہنے لگا ہے۔ یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ فطرت کی زبان میں بجنے والا خطرے کا الارم ہے۔
شندور میں پولو کی داستان بھی کم دلچسپ نہیں۔ یہ میدان کسی سرکاری منصوبے یا کسی بیوروکریٹ کے خواب کی تعبیر نہیں تھا بلکہ لاسپور کے عام لوگوں کے شوق اور محنت کا ثمر تھا۔ ان ہی چرواہوں نے اپنے ہاتھوں سے یہ میدان پولو کے لیے منتخب کیا، اپنے گھوڑے دوڑائے اور اس بنجر میدان کو کھیل کی تاریخ میں امر کر دیا۔
معلوم تاریخ کے مطابق 1914 میں پہلی مرتبہ چترال اور گلگت کے درمیان دوستانہ پولو میچ کھیلا گیا جس میں چترال نے دو گول سے کامیابی حاصل کی۔ پھر یہ روایت پروان چڑھی، 1936 میں ریاستی سرپرستی ملی اور 1980 کی دہائی میں حکومت نے اسے عالمی سطح کے میگا ایونٹ کی حیثیت دے دی۔ آج شندور کا نام دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ کے طور پر لیا جاتا ہے۔
اس سال بھی اندازاً 50 ہزار سے زائد سیاح شندور پہنچے۔ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوا۔ پولو، پیرا گلائیڈنگ، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں نے ماحول کو رنگین بنا دیا۔ نئے کھلاڑی سامنے آئے، نوجوان فن کاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، سیاحت کو فروغ ملا اور چترال و گلگت کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے رشتے مزید مستحکم ہوئے۔ یہ اس میلے کا روشن اور قابلِ تحسین پہلو ہے۔
مگر ہر جشن اپنے پیچھے کچھ سوال بھی چھوڑ جاتا ہے۔
شندور کی خوب صورتی کا سب سے بڑا دشمن فطرت نہیں، بلکہ خود انسان بنتا جا رہا ہے۔
میلہ ختم ہوتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے دل دہلا دیا۔ پولو گراؤنڈ، تماشائیوں کے سٹینڈ اور اردگرد کے میدان پلاسٹک کی بوتلوں، شاپنگ بیگز، ٹِن کے ڈبوں، کاغذی کارٹنوں، کھانے کے بچے ہوئے فضلے اور ہر قسم کے کوڑے سے اٹے پڑے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے لوگ جشن منانے نہیں بلکہ قدرت کی لاش پر کچرا پھینکنے آئے ہوں۔
یہ صرف بدنما منظر نہیں، یہ ایک ماحولیاتی سانحہ ہے۔
شندور کی تیز ہوائیں اس کچرے کو میلوں دور تک بکھیر دیتی ہیں۔ یہی پلاسٹک گھاس میں چھپ جاتا ہے، مال مویشی اسے چارہ سمجھ کر نگل لیتے ہیں، ان کے معدے بند ہو جاتے ہیں، کئی جانور عمر بھر بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ چرواہے اپنے ریوڑ سے زیادہ کچرا چنتے پھرتے ہیں۔ ان کی محنت بھی بڑھتی ہے اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہی فضلہ قدرتی جھیلوں اور چشموں میں جا گرتا ہے، جہاں سے پانی کی آلودگی شروع ہوتی ہے۔ آبی حیات خطرے میں پڑتی ہے، پرندے نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں، نباتات کی افزائش متاثر ہوتی ہے اور وہ شندور جو کبھی شفاف پانی کا استعارہ تھا، اب آلودگی کی داستان سنانے لگا ہے۔
یہ صرف کچرا نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ملبہ ہے۔
شندور کے دونوں اطراف، یعنی چترال اور گلگت سے آنے والی سڑکیں آج بھی بیش تر مقامات پر کچی، شکستہ اور گردوغبار سے اَٹی ہوئی ہیں۔ شندور فیسٹیول کے ایام میں جب ہزاروں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دن رات ان ہی راستوں پر فراٹے بھرتی ہیں تو ان کے پیچھے اٹھنے والے گردوغبار کے بادل میلوں دور تک فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ صرف مٹی نہیں اُڑتی، بلکہ مقامی آبادی کی صحت، زراعت اور قدرتی ماحول بھی اس کے ساتھ بکھرنے لگتا ہے۔
راستوں کے کنارے آباد دیہات کے مکین کئی دنوں تک گرد آلود فضا میں سانس لینے پر مجبور رہتے ہیں۔ مسافر، بچے، بزرگ اور سانس کے مریض کھانسی، دمہ، الرجی، آنکھوں کی جلن اور نظام تنفس کی دیگر بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ گھروں کے صحن، پینے کے پانی کے ذخائر اور روزمرہ استعمال کی اشیا گرد کی تہوں میں چھپ جاتی ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ چند روزہ جشن کی چمک دمک کے پیچھے ان خاموش نقصانات کا نہ کوئی حساب رکھا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا ازالہ کیا جاتا ہے۔
اگر شندور واقعی قومی ورثہ ہے تو اس تک پہنچنے والے راستوں کو ماحول دوست معیار کے مطابق پختہ بنانا، دھول پر قابو پانے کے لیے مؤثر انتظام کرنا اور مقامی آبادی، زراعت اور جنگلات کو اس آلودگی سے محفوظ رکھنا بھی اسی قدر ضروری ہے۔ بہ صورتِ دیگر جشن کے شور میں فطرت کی خاموش سسکیاں یوں ہی دبتی رہیں گی۔
ثقافت کی نمائش یا ثقافت کا استحصال؟
چترال کی ثقافت ہمیشہ اپنے وقار، سادگی اور حیا کے سبب ممتاز رہی ہے۔ یہاں خواتین کی عزت کو ہمیشہ خصوصی مقام حاصل رہا ہے۔ کیلاش معاشرے میں رقص ثقافتی روایت ضرور ہے، مگر اس روایت کو ہزاروں افراد کے سامنے محض تفریح کا سامان بنا دینا ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اوقات ثقافت کے فروغ کے نام پر ثقافت ہی کی روح کو مجروح کر دیا جاتا ہے۔ جب کسی روایت کو اس کے اصل تناظر سے کاٹ کر محض ایک نمائشی پروگرام بنا دیا جائے تو وہ ثقافت نہیں رہتی، تماشہ بن جاتی ہے۔
عوامی میلہ یا وی آئی پی دربار؟
شندور کبھی عوام کا میلہ تھا۔ آج منظر کچھ اور ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک طرف عام لوگ گرد، دھول، پتھروں اور ڈھلوانوں پر کھڑے ہو کر پولو دیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، دوسری طرف چند مخصوص شخصیات نرم صوفوں، آرام دہ کرسیوں اور خصوصی خیموں میں بیٹھ کر وہی کھیل دیکھتی ہیں۔
یہ فرق صرف نشستوں کا نہیں، یہ رویّوں کا فرق ہے۔
سکیورٹی کے نام پر عوام کو روکنا، دھکے دینا، ذلیل کرنا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری محسوس کروانا کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ جن لوگوں کی زمین، چراگاہ، پانی اور وسائل اس میلے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، فیصلہ سازی میں ان ہی کی آواز سب سے کم سنائی دیتی ہے۔
اصل قیمت کون ادا کرتا ہے؟
پولو کا میلہ چار دن کا ہوتا ہے، مگر اس کی قیمت مقامی لوگ کئی مہینوں تک ادا کرتے ہیں۔
ایونٹ کے دوران ان کی چراگاہوں تک رسائی محدود کر دی جاتی ہے۔ جانوروں کے لیے سبز چارہ کم پڑ جاتا ہے۔ میلہ ختم ہونے کے بعد وہی لوگ گندگی صاف کرتے ہیں، زخمی ماحول کو سنبھالتے ہیں اور اپنے بیمار مال مویشیوں کا علاج کرواتے ہیں۔
جشن ختم ہو جاتا ہے، لیکن مسائل باقی رہ جاتے ہیں۔
اب وقت صرف جشن منانے کا نہیں، شندور کو بچانے کا ہے۔
اگر واقعی شندور ہماری قومی شناخت ہے تو اس کی حفاظت بھی قومی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اس کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں:
۔ ہر خیمہ نصب کرنے والے سے قابلِ واپسی ضمانتی رقم (Refundable security deposit) لی جائے، جو مکمل صفائی کے بعد واپس کی جائے۔
۔ ایک ہی مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک (Single use plastic)، شاپنگ بیگز اور تھرموپول کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
۔ پورے ایونٹ کے دوران کوڑا الگ الگ جمع کرنے کے لیے رنگین ڈسٹ بن، ری سائیکلنگ پوائنٹس اور فضلہ جمع کرنے والی ٹیمیں تعینات کی جائیں۔
۔ ایونٹ کے اختتام کے بعد کم از کم تین روزہ ’کلین شندور مہم‘ لازمی قرار دی جائے۔
۔ مقامی نوجوانوں اور رضاکاروں کو ماحول دوست سفیر (Eco Volunteers) کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔
۔ ہر آنے والے سیاح کو داخلے کے وقت ماحولیات سے متعلق مختصر رہنما اصول فراہم کیے جائیں۔
۔ ماحولیات کے ماہرین کے ذریعے سالانہ ماحولیاتی اثرات (Environmental Impact Assessment) کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔
۔ لوکل کمیونٹی کو فیصلہ سازی، انتظامی کمیٹیوں اور مالی فوائد میں حقیقی شراکت دی جائے۔
۔ پولو گراؤنڈ میں وی آئی پی کلچر محدود کیا جائے اور نشستوں کی تقسیم میں عوام کو ترجیح دی جائے۔ ثقافتی پروگراموں کو مقامی روایات، وقار اور سماجی اقدار کے مطابق ترتیب دیا جائے۔
شندور صرف پہاڑوں کے درمیان واقع ایک میدان نہیں، بلکہ چترال، گلگت اور پاکستان کے قدرتی ورثے کی روشن علامت ہے۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں اس لیے یاد نہیں رکھیں گی کہ ہم نے دنیا کا بلند ترین پولو میلہ منعقد کیا تھا، بلکہ اس لیے یاد رکھیں گی کہ ہم نے دنیا کی ایک بے مثال قدرتی نعمت کو اپنی غفلت، خود نمائی اور انتظامی بے حسی کی نذر کر دیا۔
جشن ضرور منائیے، مگر اس انداز سے کہ فطرت بھی مسکرائے۔
ورنہ ایک دن شندور کے سبز میدان، خاموش جھیلیں اور ٹھنڈی ہوائیں ہماری طرف دیکھ کر یہی سوال کریں گی:
’تم ہمارے مہمان تھے یا ہمارے قاتل؟
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">شندور میں ایک پولو میچ کا منظر (وکی میڈیا کامنز)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/zeuLkqi