بڑھتی عمر کا تاوان قریبی لوگوں کی موت ہے اور بعض دفعہ ایسی موت جس میں کلوژر بھی کوئی نہیں ملتا۔
اس دنیا میں پیچھے بچ جانے والوں کے لیے جوان موت، بے وقت موت یا اچانک موت سے زیادہ واحد تکلیف دہ چیز کسی پیارے کا لاپتہ ہونا ہے، اس میں تو کلوژر کیا میت بھی نہیں ملتی۔
پچھلے دس ماہ بہت ظالم تھے۔ پہلے میری ماں اس دنیا سے گئی اس کے بعد تین لوگ ایسے مر گئے جیسے چار موٹرسائیکلوں کا قافلہ ہے، ہیلمٹ پہنے ہوئے سب جا رہے ہیں سڑک پہ، ایک دوسرے سے بات نہیں کر رہے، بس جا رہے ہیں اور پھر اچانک کوئی ایک مڑ جاتا ہے، جدھر وہ مڑتا ہے ادھر جانے کا بھی آپشن نہیں، آپ چلتے رہیں سیدھا۔
آپ بس خبر سنتے ہیں، اس بندے سے اپنے تعلق کو یاد کرتے ہیں، شدید دکھ میں ہوتے ہیں، لیکن خاموش۔۔۔ وہ بندہ جہاں بھی تھا، موجود تو تھا، اب مڑ گیا۔
ایک تھے غفار کاسی، انہیں کندھے میں کہیں کینسر تھا، ڈاکٹر نے کہا بازو کٹوا دو، انہوں نے آخری وقت تک نہیں کٹوایا، کہتے تھے ’یہ تو نازوانی ہے، جس کندھے نے اتنا دن ساتھ دیا ہے ہم اس کو کاٹ کر پھینک دیوے؟ بس جدھر جائے گا اس کا ساتھ ہی جائے گا۔‘
اسی فلیٹ میں آئے جہاں میں رہتا ہوں، بھائی عثمان قاضی کے قریبی دوست تھے، پچھلے چھ سات سال میں ان کا ذکر اتنی مرتبہ ہوا تھا کہ جب ملا تو اجنبی نہیں لگے، کیا پیارے انسان تھے، چیک اپ ہی کے لیے آئے تھے، جانے کا وقت ڈاکٹر دے چکے تھے لیکن کیا اطمینان کیا سکون! کیسا پیارا چہرہ ۔۔۔ ایک ماہ بعد خبر آ گئی۔
اب سوچیں کہ آپ کو وقت بتا دیا گیا ہے موت کا، آپ اس سے کیسے ڈیل کریں گے؟ آئس کیوب ہے جیسے ہاتھ میں اور بس اب پگھلا کہ تب ۔۔۔ ایسے ہی ابھی ڈاکٹر شہزاد چلے گئے۔
جب میں یونیورسٹی پڑھتا تھا تو ان دنوں ایک نیا پروفیسر آیا، وہ مجھ سے بھی کم عمر کا لگتا تھا، شروع میں ہم لوگوں نے اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ ہمیں لگتا تھا کہ یار، یہ کون سی ہائرنگ ہے؟ پتہ نہیں کچا ہے، پکا ہے، لیکچرر ہے، پروفیسر ہے یا کسی کنٹریکٹ پر آیا ہوا ہے، پھر پڑھانے لگا تب بھی استادوں والا رویہ نہیں ہوتا تھا، جتنا معصوم کم عمر چہرہ تھا اصل میں بھی عین ویسی طبیعت، پروفیسروں والے کوئی جوڑ توڑ نہیں، ایسے پڑھاتے کہ پیپروں میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوئی کبھی ۔۔۔ میں اس وقت نوکری بھی کر رہا تھا، باقی پیریڈز میں پروکسی لگواتا لیکن جس دن ان کی کلاس ہوتی کوشش کرتا کہ پہنچ جاؤں۔ اُس عمر کا لڑکا اگر کسی لیکچر میں بیٹھنے کے لیے کوٹ ادو ٹور لگا کے واپس یونیورسٹی آ رہا ہے موٹرسائیکل پر، تو یہ ڈاکٹر شہزاد کا کمال تھا۔
اس کے بعد ایک لمبا وقفہ آتا ہے۔ پھر 2022 کا زمانہ ہے، میں ان کے دفتر میں بیٹھا انتظار کر رہا ہوں۔ اپنی کتاب میرے ہاتھ میں ہے، سوپر ہٹ گئی ہے، دل ہے کہ خوشی میں استاد کو شریک کروں، تو وقت لے کے آیا ہوں، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتاب بھی پیش کرنی ہے، عجیب سا لگ رہا ہے، یہ کام میں عام طور پہ بالکل نہیں کرتا، اور اب وہ ڈیپارٹمنٹ ہیڈ ہیں تو ایسا لگ رہا ہے جیسے اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑنے کے لیے میں ادھر بیٹھ گیا ہوں۔ شرم سی آتی ہے، تو اچانک کتاب رکھ دیتا ہوں خاموشی سے ان کی میز پہ، ریوالونگ چیئر کے عین سامنے، اور باہر نکل جاتا ہوں۔
وہ ادھر ہی کسی سیمینار میں ہیں، وہاں جاتا ہوں، انہیں سلام کرتا ہوں، سب سے اینڈ پہ بیٹھ کر ان کی باتیں سنتا ہوں اور وقفہ ہوتے ہی باہر نکل کے گھر چلا آتا ہوں۔ انہیں بالکل نہیں بتاتا کہ آپ کے لیے کتاب لایا تھا، وہ بس وہیں موجود رہتی ہے، اس کا ذکر پھر کبھی نہیں ہوتا۔
ابھی وٹس ایپ پہ ان کا نمبر دیکھتا ہوں تو درختوں کے جھنڈ میں کہیں کھڑے ہیں، کوٹ ہاتھ میں ہے اور انگریزی میں لکھا ہے، ’دوسروں کے عقائد کا احترام کریں اور Pluralistic رویہ اختیار کریں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہزاد صاحب خوش قسمت تھے، اپنے کریئر کی بلندی پر بھرا میلہ چھوڑا، بقول سرفراز بھائی، مئی 2026 میں سمیسٹر کے پیپر خود بنائے، خود چیک کیے، 30 مئی کو سالگرہ کا کیک کاٹا اور بس جون میں درختوں کے ہاتھ خالی تھے! کینسر انہیں بھی لے گیا۔
ایک مجھ جیسا آدمی جو بہت ہمبل بیک گراؤنڈ سے اٹھا، جس کام میں بہترین تھا وہی کیا، ایسا کیا کہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ بنا اور جب اپنے ادارے کو متحرک کر دیا تو خود حرکت کے قابل نہ رہا؟ موت بیچ میں ٹپک پڑی؟
کوئی شخص ایسا نہیں جو انہیں جانتا ہو اور اس نے انہیں یاد نہ کیا ہو۔ ایک آدمی مرنے کے بعد اپنے چاہنے والوں کے ذہن میں کب تک زندہ رہتا ہے؟ شہزاد صاحب میرے ذہن میں مرتے دم تک اسی طرح موجود رہیں گے جیسے آصف فرخی، غفار کاسی اور علی بابا تاج موجود ہیں۔
علی بابا کا تو قصہ بھی کتنا کروں ۔۔۔ جب آتے تو اسی فلیٹ پہ ہانڈی وال ہوتے تھے۔ ایک دو ماہ پہلے گھی کا ایک پیکٹ کھولا تو یاد آیا کہ یہ تو علی بابا لائے تھے۔ ڈسٹ بن میں اسے خالی کر کے نہیں پھینک سکا، تہہ کر کے اوپر کہیں رکھ دیا۔
انہیں پتہ تھا مجھے خوشبوئیں پسند ہیں، یہ لوبان بخور قسم کی ۔۔۔ خدا جانے کہاں کہاں سے ایسی نایاب جڑی بوٹیاں لاتے، ہرمل، اگر بتیاں ۔۔۔ ہر ایک چیز ان کے بعد بس اب سر بہ مُہر ہے ۔۔۔ جلاؤں گا تو وہ سب بھی مٹی ہو جائے گا۔
لوڈشیڈنگ والی وہ رات بھی مٹی ہو جائے گی جب اپن دونوں موبائل پہ ناشناس اور خدا جانے کس کس کو سن رہے تھے، اور وہی ایک پودے کی سوکھی ہوئی جڑ جلائی ہوئی تھی، اور باقاعدہ ٹیرس پہ کہیں ستاروں تک کا نایاب نظارہ بھی تھا اور نہ ختم ہونے والی باتیں تھیں۔
یہ تعزیت نامہ نہیں ہے۔ یہ ان اموات کا ایک ذکر ہے بس جو ہو گئیں، جن کے ہونے کا یقین میں کرنا نہیں چاہتا، کیونکہ یقین کے بعد ہی شاید کلوژر ملتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p>(انواتو ایلیمنٹس)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/PLeogJS