جنگوں کی تمام طرح کی تباہیوں کے باوجود انسانی ضمیر آج بھی اموات کے ان نسخوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگیں جو ہمیں تباہی و بربادی، ہلاکت خیزی و بربریت، ماحولیاتی تباہی اور سماجی شیرازہ بندی سے نوازتی ہیں انہیں مستقل بنیادوں پر کیوں نہیں روکا جا سکتا ہے؟
ہمارے سامنے جانی نقصانات کی ایک طویل تاریخ ہے جو جنگ اور خانہ جنگی کی وجہ سے رونما ہوئی۔
برطانیہ اور فرانس نے 100 سال سے زائد عرصے پہ محیط لڑائیاں لڑیں۔ اس کے بعد بھی کبھی فرانس نے پورے یورپ کو جنگوں کے کنویں میں دھکیلا تو کبھی جرمنی نے اپنے غلبے کے لیے پورے براعظم کو تختہ مشق بنایا۔
کبھی زمین کے ٹکڑے پر قبضے کے لیے انسانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا، تو کبھی سرمائے کے پھیلاؤ کے لیے لاشوں کے انبار لگائے گئے۔
کبھی سلطنت کی عظمت کے لیے جنگیں مسلط کی گئیں اور کبھی قوم پرستی کے جنون کو ٹھنڈا کرنے کے لیے لڑائیاں چھیڑی گئیں۔
پہلی جنگ عظیم میں اگر دو کروڑ سے زیادہ انسان ہمارے جنگی جنون کا نشانہ بنے تو دوسری جنگ عظیم میں یہ تعداد 7 کروڑ سے بھی زیادہ ہو گئی۔
لیکن دو عظیم جنگوں کے باوجود بھی دنیا نے 280 سے زیادہ چھوٹی موٹی جنگیں، جھڑپیں اور خانہ جنگی کا سامنا کیا، جس میں کروڑوں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بنے۔
جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی جنگوں نے اگر 30 لاکھ لوگوں کو لقمہ اجل بنایا تو ویتنام کی جنگ 70 لاکھ کے قریب لوگوں کو نگل گئی۔
اسی کی دہائی میں جاری رہنے والی افغان جنگ نے اگر 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو موت کی آغوش میں دھکیلا تو عراق کی دو جنگوں نے خطے میں 25 لاکھ سے زائد لوگوں کو قبروں کے تحائف دیے۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے 70 ہزار سے زائد انسان، جس میں ہزاروں کی تعداد میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے، وہ غزہ کی ہوا میں جنگ کی ہولناکیوں کے باعث تحلیل ہو گئے۔
موت کا سفر ایران اور لبنان میں بھی جاری رہا لیکن اس کے باوجود بھی انسانی ضمیر صحیح طریقے سے جاگ نہیں سکا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگ مسلط کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور اسے روکنے کے لیے مستقل بنیادوں پہ تدابیر کیوں نہیں کی جا سکتیں؟
اس کا شاید ایک آسان جواب یہ ہے کہ جنگ مسلط کرنے والے عناصر کو جنگوں کی ہولناکیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ کئی معاملات میں اُن کو فائدہ ہوتا ہے۔
سیاست دان، فوجی جرنیل، سرمایہ دار، سود کے بیوپاری، دولت کے پجاری، میڈیا ہاوسیز کے مالکان، لابی فرمز کے کرتا دھرتا، ٹیک کمپنیوں کے سلطان اور سٹاک ایکسچینجوں کے راجے سب ہی جنگوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
منٹوں سیکنڈوں میں سٹاک ایکسچینج اوپر جاتا ہے اور منٹو سیکنڈوں میں نیچے آتا ہے۔ اسی اثناء میں دولت کی دیوی ان حریص اور لالچی انسانوں پر مہربان ہوتی ہے اور لکشمی کو ان کے چرنوں میں رکھ دیتی ہے۔
میدانِ جنگ میں ایک طرف جہاں ایک عام غریب سپاہی موت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے وہیں سرمایہ دار کی دولت تیزی سے ارتکاز کی طرف روا دوا ہوتی ہے۔
جہاں جنگوں میں شہر اجڑ رہے ہوتے ہیں، بستیاں ویران ہو رہی ہوتی ہیں اور اور انسانی لاشوں کے ٹکڑے فضائے بسیط میں پرخچوں کی مانند اڑ رہے ہوتے ہیں وہیں سرمائے کے ایوانوں میں شادیانے بج رہے ہوتے ہیں۔
عراق کی جنگ کے دوران لاکھوں لوگوں نے سڑکوں پر آ کر اس کے خلاف مظاہرہ کیا لیکن جنگ نہیں رکی۔
انفرادی طور پر بہت سارے سپاہیوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نہتے لوگوں پر فائرنگ کرنے سے منع کیا لیکن اس سے بھی جنگ اور جنگی جنون کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
اب غالبا عالمی سطح پر ایک ایسی تحریک ابھرنی چاہیے جو مغربی دنیا کے حکمرانوں کو بالخصوص اس بات کا پابند بنائے کہ اگر وہ کسی جنگ کا اعلان کریں تو وزیراعظم یا صدر سے لے کر وزرا تک اور وزرا سے لے کر مشیروں تک سب اپنے بچوں کو سب سے پہلے فوج میں شامل کروا کر فرنٹ لائن پر بھیجیں۔
بالکل اسی طرح بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان کے بچے، سٹاک ایکسچینج کے کرتے دھرتاؤں کے پیارے، میڈیا گروپس کے سربراہوں کے دل کے ٹکڑے اور دنیا کی تمام پارلیمان کے ارکان کے آنکھوں کے تارے بھی اِن جنگوں میں انفنٹری کے سپاہیوں کے طور پر فرنٹ لائن پر جائیں۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دنیا کے کئی ممالک میں کیونکہ سپاہیوں کی لاشیں غریب علاقوں میں جاتی ہیں اس لیے ان جنازوں سے حکمران طبقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
جب وزیر، مشیر، اراکین پارلیمان، جرنیل، جج، افسر شاہی کے افراد، کمپنیوں کے مالکان اور سرمایہ کی دنیا کے بے تاج بادشاہوں کے آنکھ کے تارے کے نقصان سے شاید ان کو یہ احساس ہوگا کہ جنگ کتنی بھیانک چیز ہے۔
جب ان کے دلوں پر اپنے پیاروں کی جدائی کی چھریاں چلیں گی تو پھر ان کو احساس ہوگا کہ جنگی میدان کتنے سنگ دل اور ظالم ہوتے ہیں۔ جب میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو پتہ چلے گا کہ جنگوں کے دوران سنسنی اور نفرت پھیلانے کے نتائج ان کے اپنے پیاروں کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں تو شاید وہ ہوش کے ناخن لیں گے اور جذباتی نعروں کو پھیلانے کے بجائے یا نفرت کی آگ بھڑکانے کی بجائے وہ امن کے ترانے اپنے میڈیا ہاؤسز کی توسط سے چلوائیں گے۔ محبت کے گیت گائیں گے اور نفرت کی آگ کو بجھائیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ قبر کا حال مردہ ہی جانتا ہے جب تک حکمراں، وزرا، مشیر، جرنیل، جج، سیاست دان، سفارت کار، افسر شاہی کے افراد اور مذہبی رہنما ان قبروں میں نہیں اُتریں گے اس وقت تک انہیں احساس نہیں ہوگا کہ جنگ کتنی وحشت ناک شے ہے۔
اس وقت تک یہ سمجھ نہیں پائیں گے کہ جنگ میں اموات کسی ایک شخص یا فرد کے جسمانی وجود کو ہی ختم نہیں کرتی بلکہ یہ کئی خاندانوں کو نفسیاتی طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دیتی ہیں اور ان کی زندگی میں ایسا زہر کھل دیتی ہیں جس کا تریاق برسوں تک ممکن نہیں ہوتا۔
پھر انہیں پتہ چلے گا کہ جنگ جو معذوری اور اپاہج پن کا تحفہ سپاہیوں اور شہریوں کو دے کر جاتی ہے اس کی اذیت ناقابل تصور ہوتی ہے۔ جنگی میدان میں جب ان کے پیارے جائیں گے تو انہیں بھی پتہ چلے گا کہ بارود کا زہر کیا شے ہوتا ہے؟
ماحول میں خطرناک کیمیکلز کی تحلیل کیا گل کھلاتی ہے؟ شہروں اور بستیوں کے اجڑنے کا انسانی نفسیات پر کیا اثر ہوتا ہے؟ ہسپتال و سکول اور عمارتوں کے گرنے کے کیا تباہ کن اثرات ہوتے ہیں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ اب جنگوں کے خلاف ایک ایسی تحریک چلائی جائے جو متذکرہ بالا مطالبے کو دنیا کے تمام پارلیمان سے منظور کرا کے اس کو قانون کی شکل دے۔ شاید جنگ کو روکنے کا اب ایک یہی راستہ رہ گیا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی دو خواتین رضاکار آٹھ مارچ، 2026 کی رات تہران کے شهران آئل ریفائنری پر ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد بھڑکنے والی آگ کے قریب موجود ہیں(اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/i7L4Upk

