سعودی اور پاکستانی بھائی چارے کا اصل امتحان

News Inside

جب سعودی عرب اور پاکستان نے گذشتہ سال سٹریٹجک نوعیت کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تو اس سکیورٹی معاہدے کو ایک ایسے شراکت داری کے قدرتی اگلے مرحلے کے طور پر بڑے پیمانے پر سراہا گیا جو کئی دہائیوں میں ارتقا پذیر ہوئی ہے۔

تاہم اس طرح کے انتظامات کی حقیقی قدر صرف بحران کے وقت میں سامنے آتی ہے۔ حالیہ ایران تنازعے نے اس دفاعی معاہدے اور وسیع تر سعودی - پاکستانی سٹریٹجک تعلقات کا پہلا بڑا امتحان لیا۔

دونوں ممالک کے ردعمل نے ناصرف دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ علاقائی سلامتی کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کس حد تک ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں۔

یہ تنازع حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک ترین لمحات میں سے ایک بن گیا۔

جیسے جیسے لڑائی شدت اختیار کرتی گئی اور وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھتے گئے، یہ اندیشے بھی ابھر کر سامنے آئے کہ خلیجی توانائی کے ڈھانچے، سمندری راستے اور علاقائی معیشتیں ایک بار پھر براہ راست نشانہ بن سکتی ہیں۔

اس تصادم کے حجم کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ حقیقی محسوس ہو رہا تھا کہ یہ جنگ اپنے ابتدائی فریقین سے آگے بھی پھیل سکتی ہے۔ یہ خدشات قابل فہم تھے۔

سعودی عرب کی سٹریٹجک اہمیت، عالم عرب اور اسلامی دنیا میں اس کا قائدانہ کردار اور امریکہ کے ساتھ اس کی قریبی شراکت داری اسے ممکنہ ہدف بنا سکتی تھی اگر تنازع وسیع ہوتا۔

تاہم، تصادم کی شدت کے باوجود، بالخصوص ایران کے بلاجواز حملوں کے باوجود، سعودی عرب میدان جنگ نہیں بنا۔

خلیجی توانائی کا ڈھانچہ فعال رہا، سمندری تجارت متبادل راستوں سے جاری رہی اور وہ وسیع علاقائی جنگ جس کا خدشہ تھا، وقوع پذیر نہ ہوئی۔

یہ نتیجہ روک تھام، تحمل اور علاقائی شراکت داروں کے درمیان مؤثر تعاون کا مجموعہ تھا۔ اس نتیجے کی تشکیل میں دفاعی معاہدے نے اہم کردار ادا کیا۔

جیسے جیسے کشیدگی بڑھتی گئی اور یہ خدشات پیدا ہوئے کہ تنازع خلیجی ریاستوں تک پھیل سکتا ہے، توجہ فطری طور پر اس بات پر مرکوز ہو گئی کہ یہ معاہدہ عملی حالات میں کس طرح کام کرے گا۔

بہت سے مبصرین کے لیے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا یہ صرف یکجہتی کا علامتی اظہار ثابت ہوگا یا کسی بڑے سکیورٹی چیلنج کے دوران عملی اہمیت بھی دکھائے گا۔

اس کا جواب جنگ بندی سے پہلے ہی سامنے آ گیا۔ پاکستان نے عوامی طور پر سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، دونوں ممالک کے درمیان مشاورت میں تیزی آئی اور دفاعی تعاون زیادہ نمایاں ہو گیا۔

جنگ بندی کے بعد سعودی وزارت دفاع نے انکشاف کیا کہ بحران کے دوران ایک پاکستان ایئر فورس سکواڈرن معاون عملے کے ساتھ جاری دفاعی تعاون کے انتظامات کے تحت مملکت میں تعینات کیا گیا تھا۔

ان اقدامات کا مقصد تنازعے کو وسعت دینا نہیں تھا بلکہ روک تھام کو مضبوط بنانا، مملکت کو یقین دہانی کرانا اور یہ واضح کرنا تھا کہ جنگ کو خلیج کی طرف بڑھانے کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

ان اقدامات کی اہمیت بعد کے حالات سے واضح ہوئی۔ تصادم کی شدت کے باوجود سعودی عرب محفوظ رہا، اہم تنصیبات محفوظ رہیں اور تنازع وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہوا۔

اس طرح دفاعی معاہدے کے پہلے بڑے امتحان نے اسی انداز میں اپنی اہمیت ثابت کی جس طرح کامیاب سکیورٹی انتظامات سے توقع کی جاتی ہے۔

اس نے روک تھام کو مضبوط کیا، سٹریٹجک وضاحت کو تقویت دی اور ممکنہ مخالفین کو یہ باور کرانے میں مدد دی کہ تصادم کو بڑھانا ناقابل قبول خطرات کا باعث ہوگا۔

سعودی عرب کا طرز عمل پورے بحران کے دوران ایک واضح سٹریٹجک حساب کتاب کی عکاسی کرتا تھا۔

ولی عہد محمد بن سلمان سمجھتے تھے کہ ایک وسیع علاقائی جنگ نہ صرف خلیجی سلامتی بلکہ مملکت اور پورے خطے میں جاری معاشی تبدیلی کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔

بحران کو بڑھنے دینے کی بجائے سعودی عرب نے استحکام کو برقرار رکھنے، بین الاقوامی تجارت کے تحفظ اور تنازعے کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت پر توجہ مرکوز رکھی۔

ایسے وقت میں جب خطے میں جذبات شدت اختیار کیے ہوئے تھے، ریاض نے مسلسل کشیدگی کی بجائے تحمل کا انتخاب کیا۔ پاکستان نے بھی ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بحران کے دوران علاقائی اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔

پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا اور برسوں پر محیط تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔

بہت کم ممالک ایسے ہیں جو ریاض، تہران، واشنگٹن اور دوحہ کے ساتھ بیک وقت قابل اعتبار انداز میں رابطہ کر سکتے ہوں۔

پاکستان نے اس حیثیت کو ایک ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کیا، ایسے وقت میں جب سفارتی چینلز کی اشد ضرورت تھی۔

اسی دوران پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے مستقل طور پر سفارت کاری کی طرف واپسی کی حوصلہ افزائی کی جبکہ تمام فریقوں کو، بشمول ایران کے سخت گیر عناصر کے، تحمل کے فوائد اور تصادم کی قیمت سے آگاہ کیا۔

مختلف ذرائع کے ذریعے پیغامات پہنچائے گئے کہ جنگ کے مزید پھیلاؤ کے نتیجے میں خطے کو شدید معاشی اور سکیورٹی نقصان ہوگا اور ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو کسی بھی مرکزی فریق کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔

روک تھام اور سفارت کاری کے اس امتزاج نے بالآخر وسیع جنگ کو روکنے میں پاکستان کی اہم ترین خدمات میں سے ایک کا روپ اختیار کیا۔

ان کوششوں کے نتیجے میں ایک ایسا نتیجہ سامنے آیا جو چند ماہ پہلے تک انتہائی غیر متوقع تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں کی دشمنی کے بعد ایک سفارتی عمل ابھر کر سامنے آیا، جس کے لیے پاکستان نے سیاسی حالات پیدا کیے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور اس کے بعد عمل درآمد کے روڈ میپ پر اتفاق نے ایک خطرناک فوجی بحران کو ایک جاری سفارتی عمل میں تبدیل کر دیا۔

آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، مذاکرات کا جاری رہنا، پابندیوں میں نرمی کا آغاز اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اسلام آباد کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ علاقائی ماحول کس حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔

سینیئر امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کے کردار کا اعتراف ان سفارتی کوششوں کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے جنہوں نے ایک وسیع جنگ کو روکنے اور مذاکرات کے لیے جگہ پیدا کرنے میں مدد دی۔

اس تنازعے نے ناصرف سعودی - پاکستانی تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ ریاض اور اسلام آباد علاقائی چیلنجز کو کس حد تک ایک جیسے زاویے سے دیکھتے ہیں۔

دونوں ممالک محفوظ سمندری راستوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کی حمایت کرتے ہیں۔

دونوں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں اور معاشی ترقی کو طویل مدتی استحکام کی بنیاد سمجھتے ہیں۔

دونوں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پراکسی جنگوں نے خطے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور مستحکم، خودمختار ریاستیں کسی بھی دیرپا علاقائی نظام کی بنیاد ہونی چاہییں۔

دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اب آگے کیا ہونا چاہیے۔ نہ سعودی عرب اور نہ ہی پاکستان ایک کمزور یا تنہا ایران چاہتے ہیں۔

دونوں ایک ایسے ایران کا خیرمقدم کریں گے جو علاقائی معیشت میں ضم ہو، ترقی پر توجہ دے اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرے۔

موجودہ سفارتی عمل تہران کو ایسے مواقع فراہم کرتا ہے جو ماضی کی ایرانی قیادت کو کم ہی میسر آئے، جن میں پابندیوں میں نرمی، تجارت میں توسیع اور بہتر علاقائی تعلقات شامل ہیں۔

تاہم ان مواقع کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ خلیجی ریاستوں پر حملے، سمندری سلامتی کو لاحق خطرات اور پراکسی نیٹ ورکس پر انحصار جو ماضی کے ادوار میں کشیدگی کی خصوصیت رہے ہیں، اب خطے کا معمول نہیں بن سکتے۔

موجودہ سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار ایسے اعتماد سازی اقدامات پر ہوگا جو پڑوسی ریاستوں کو یقین دہانی کرائیں اور پرامن بقائے باہمی کے لیے مستقل عزم ظاہر کریں۔

گذشتہ دہائیوں کا ایک واضح سبق یہ ہے کہ پراکسی تنازعات نے ریاستوں کو کمزور، عدم استحکام کو طول دیا اور وسائل کو ترقی سے ہٹا دیا۔

عراق، شام اور یمن سے لے کر لبنان تک، ریاستی ادارے اکثر اس کی قیمت چکاتے رہے ہیں۔

اس لیے سعودی عرب اور پاکستان دونوں کی مشترکہ دلچسپی مضبوط خودمختار ریاستوں میں ہے، نہ کہ ریاستی اختیار سے باہر متوازی عسکری ڈھانچوں میں۔

دونوں ممالک مضبوط قومی اداروں کو دیرپا امن اور ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ لبنان اسی اصول کی مثال ہے۔ ایران بجا طور پر اپنی خودمختاری کے احترام کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہی معیار دیگر جگہوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ لبنان اس وقت تک پائیدار استحکام حاصل نہیں کر سکتا جب تک جنگ اور امن سے متعلق فیصلے ریاستی اختیار سے باہر ہوں۔

طویل مدتی ہدف ایک خودمختار لبنان ہونا چاہیے جہاں قومی ادارے سلامتی اور دفاع کی مکمل ذمہ داری سنبھالیں۔

ایران تنازعے نے یہ بھی دکھایا کہ حزب اللہ اور اسرائیل نے بارہا ایسی کشیدگی کے چکر کو تقویت دی جو لبنان کے استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایران اور اسرائیل کی دہائیوں پر محیط محاذ آرائی نے خلیجی سلامتی اور علاقائی ترقی کو خطرے میں ڈالا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان دونوں ان دہرائے جانے والے تصادم کے چکروں کو ختم کرنے اور خودمختار ریاستوں کو مستحکم کرنے میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں تاکہ ایک زیادہ مستحکم علاقائی نظام قائم ہو سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر ایران سے متعلق پیش رفت جاری رہتی ہے تو دیگر دیرینہ علاقائی مسائل کے حل کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ فلسطین ہے۔

سعودی عرب مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ پائیدار علاقائی امن کے لیے فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل ضروری ہے جو عرب امن اقدام اور دو ریاستی حل پر مبنی ہو۔

پاکستان بھی طویل عرصے سے اس مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔

خطے میں دیگر کشیدگیوں میں کمی سے اس مقصد کے لیے سفارتی کوششوں کے لیے مزید سیاسی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے اور ایک وسیع علاقائی امن عمل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

حالیہ مہینوں کی اہمیت محض ایک بحران کے کامیاب انتظام سے کہیں بڑھ کر ہے۔

اس تنازعے نے ظاہر کیا کہ مؤثر روک تھام، ذمہ دارانہ قیادت اور مسلسل سفارت کاری علاقائی جنگوں کو روک سکتی ہے۔

اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ سعودی عرب اور پاکستان اب خطے کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے اصولوں کے بارے میں مشترکہ فہم رکھتے ہیں۔

ایران تنازع اس دفاعی معاہدے کا پہلا بڑا امتحان تھا۔ اس نے اس معاہدے کی منطق کو درست ثابت کیا، سعودی-پاکستانی سٹریٹجک تعاون کی اہمیت کو مضبوط کیا اور خطے کے انتہائی نازک دور میں خلیجی سلامتی کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔

وسیع تر تناظر میں اس نے یہ ظاہر کیا کہ ریاض اور اسلام آباد کی شراکت داری اب صرف دہائیوں پر محیط تعلقات پر نہیں بلکہ علاقائی استحکام، خودمختار ریاستوں اور پرامن ترقی کے مشترکہ وژن پر بھی قائم ہے۔

کئی دہائیوں سے سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کو برادر ممالک قرار دیتے آئے ہیں۔ ایران تنازع کے دوران یہ برادری محض الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ظاہر ہوئی۔

دونوں ممالک نے مل کر ایک وسیع جنگ کو روکنے، سفارت کاری کی بحالی میں مدد دینے اور ایک زیادہ مستحکم علاقائی ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔

اس عمل کے ذریعے انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ان کی شراکت داری عالم اسلام میں استحکام کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور آئندہ بھی خطے کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔

ڈاکٹر علی عواد اسیری ریاض میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایرانی سٹڈیز کے ڈپٹی چیئرمین اور پاکستان میں سعودی عرب کے سابق سفیر ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ریاض اور اسلام آباد کی شراکت داری اب صرف دہائیوں پر محیط تعلقات پر نہیں بلکہ علاقائی استحکام، خودمختار ریاستوں اور پرامن ترقی کے مشترکہ وژن پر بھی قائم ہے۔
جمعرات, جون 25, 2026 - 07:30
Main image: 

<p>سعودی پریس ایجنسی کی 17 ستمبر، 2025 کو جاری کردہ اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ریاض میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ایس پی اے ہینڈ آؤٹ/اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
سعودی اور پاکستانی بھائی چارے کا اصل امتحان


from Independent Urdu https://ift.tt/y4Vpm8M

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;