افغانستان کے ساتھ ’سب ٹھیک ہو جائے گا‘ اب تک نہیں ہوا

News Inside

مجھے یاد ہے جب میں نے افغان طالبان کے کابل کے محاذ پر ان کے ایک کمانڈر کا ستمبر 2009 میں انٹرویو کیا تھا۔

ان کا عسکری نام سیف اللہ جلالی تھا اور وہ اس اعتماد سے بات کر رہے تھے جس سے لگتا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وقت ان کے حق میں ہے۔

انہوں نے مجھ سے کہا ’ہم تیار ہیں۔ تمام صوبوں میں ہماری متوازی حکومت موجود ہے۔ جب وقت آئے گا، ہم اقتدار سنبھال لیں گے۔‘

اس وقت کابل بین الاقوامی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیرِ انتظام تھا جبکہ طالبان باغی جنگجو سمجھے جاتے تھے۔

انٹرویو کے بعد ہماری گفتگو ہوئی تو اس کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا ’اب مزید اعتماد نہیں رہا۔‘

پھر انہوں نے 2001 کے بعد سے طالبان رہنماؤں کی گرفتاریوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اس وقت قابل اعتماد اتحادی نہیں رہا جب اس نے ’پالیسی بدل لی اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں چلنے والی جنگ میں شامل ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا ’جب ہم واپس آئیں گے تو تعلقات اعتماد کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کی بنیاد پر ہوں گے۔‘

تقریباً دو دہائیوں بعد ان کے یہ الفاظ حیران کن حد تک درست محسوس ہوتے ہیں۔

طالبان ضرور واپس آئے۔ انہوں نے 2021 میں کابل پر قبضہ کر لیا اور آج اسلام آباد اور کابل کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہیں۔

پاکستان الزام لگاتا ہے کہ کابل میں موجود طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

اس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور سفارتی ذرائع دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

دوحہ، استنبول اور ارومچی میں ثالثی کی مختلف کوششیں ابھی تک کوئی پائیدار نتیجہ نہیں دے سکیں۔

لیکن موجودہ کشیدگی کو اس تاریخی پس منظر سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا جس نے اسے جنم دیا ہے۔

اعتماد کا بحران 1947 میں قیام پاکستان کے وقت سے ہی شروع ہو گیا تھا، جب افغانستان نے ڈیورنڈ لائن سے متعلق تنازعات کے باعث اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف واحد ووٹ دیا تھا۔

اس کے بعد سے دونوں دارالحکومتوں کے تعلقات کبھی عملی تعاون اور کبھی بداعتمادی کے درمیان جھولتے رہے۔

1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دورِ حکومت کو دونوں ممالک کے تعلقات کا سب سے گرم جوش دور سمجھا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر پاکستان کی افغانستان پالیسی اس کے سٹریٹجک مفادات کے تحت تشکیل پاتی رہی ہے۔

1999 میں جب میں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا انٹرویو کیا تو انہوں نے افغانستان پر سوویت حملے کے دوران امریکہ کی حمایت میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بتایا۔

ان کے مطابق پاکستان نے امریکیوں کے ساتھ ایک ایسی مفاہمت کی تھی جس کے نتیجے میں اسے اپنے جوہری پروگرام کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کی رعایت ملی۔

اس کے بدلے میں پاکستان ان افغان ’مجاہدین‘ کی مدد کر رہا تھا جو سوویت یونین کے خلاف لڑ رہے تھے۔

جنرل حمید گل نے کہا کہ یہ سب کچھ خفیہ طور پر کرنا پڑتا تھا جبکہ کھلے عام اس کی تردید کی جاتی تھی کیونکہ ’امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فوجی امداد کے لیے اپنی کانگریس کو مطمئن کرنا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان صرف ایک میدان جنگ نہیں تھا بلکہ ایک سٹریٹیجک مقام بھی تھا۔

سوویت یونین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا پاکستان کا فیصلہ اپنے قومی مفادات پر مبنی تھا: جوہری پروگرام کا تحفظ اور افغانستان میں سٹریٹیجک گہرائی حاصل کرنا، یعنی ایسا مغربی ہمسایہ جو پاکستان کے سکیورٹی چیلنجز، خصوصاً مشرقی ہمسائے انڈیا سے تعلق رکھنے والے مسائل، کم کرنے میں مدد دے سکے۔

جب اگست 2021 میں طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو پاکستان اس بارے میں واضح طور پر محتاط تھا کہ آیا وہ افغانستان میں پہلے جیسا سٹریٹیجک اطمینان دوبارہ حاصل کر سکے گا یا نہیں۔

سقوط کابل کے چند روز بعد اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید افغان دارالحکومت پہنچے اور صحافیوں سے کہا:’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

لیکن ان کا یہ مختصر جملہ ایک اور حقیقت کی بھی عکاسی کر رہا تھا — ایک ایسے خدشے کی کہ شاید سب کچھ ٹھیک نہ ہو اور طالبان کی واپسی لازماً تعلقات کو دو دہائیاں پیچھے نہیں لے جائے گی۔

تقریباً پانچ سال بعد بھی یہی الفاظ اس صورت حال کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔

طالبان آج افغانستان کے عملی حکمران ہیں، اپنی خودمختاری پر زور دیتے ہیں اور اپنی سفارتی ترجیحات خود طے کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کو بدستور ٹی ٹی پی کا خطرہ درپیش ہے اور وہ سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اعتماد ابھی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اصل مسئلہ پاکستان کے ’سٹریٹیجک گہرائی‘ کے تصور اور طالبان کے ’خودمختار حکمرانی‘ کے تصور کے درمیان موجود تضاد ہے۔

اسلام آباد طویل عرصے سے یہ سمجھتا رہا ہے کہ کابل میں ایک دوستانہ طالبان حکومت اسے اثر و رسوخ اور سکیورٹی کا اضافی دائرہ فراہم کرے گی۔

لیکن جو جنگجو کبھی پاکستان پر انحصار کرتے تھے، وہ آج کابل کے حکمران ہیں اور وہ خود کو کسی غیر ریاستی فریق کے طور پر پیش کیے جانے کی مزاحمت کرتے ہیں۔

کوئی فریق مکمل ٹکراؤ نہیں چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کے مفاد میں افراتفری ہے۔

اسی طرح 2021 کے بعد وجود میں آنے والے ان کشیدہ حالات سے بھی کوئی مکمل طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتا۔

موجودہ تعلقات کھلی محاذ آرائی پر مبنی نہیں بلکہ ایک نازک توازن پر قائم ہیں، ایسا توازن جو اعتماد سے زیادہ احتیاط کے سہارے برقرار ہے۔

’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا،‘ شاید آج بھی اس تعلق کی بہترین عکاسی کرتا ہے — کیونکہ سب کچھ اب تک ٹھیک نہیں ہوا۔

بکر عطیانی ایشیا میں عسکریت پسند گروہوں کی دو دہائیوں سے رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی ہیں۔ انہیں جنوبی فلپائن میں ابو سیاف گروپ نے 18 ماہ تک یرغمال بنائے رکھا۔

وہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے قبل اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے والے آخری صحافی تھے۔ ان کا ایکس اکاؤنٹ: @atyanibaker

موجودہ تعلقات کھلی محاذ آرائی پر مبنی نہیں بلکہ ایک نازک توازن پر قائم ہیں، ایسا توازن جو اعتماد سے زیادہ احتیاط کے سہارے برقرار ہے۔
ہفتہ, جولائی 4, 2026 - 06:15
Main image: 

<p class="rteright">ایک تصویر پوری کہانی بیان کرتی ہے: یکم سے سات اپریل 2026 تک ارومچی میں چین کی مدد سے اختلافات دور کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے نمائندے تصویر میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کی بجائے چینی اہلکار سے ہاتھ مٹلا رہے ہیں (بی این اے)</p>

type: 
SEO Title: 
افغانستان کے ساتھ ’سب ٹھیک ہو جائے گا‘ اب تک نہیں ہوا


from Independent Urdu https://ift.tt/jrp8GZ6

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;