کیا پاکستان اور انڈیا اپنے نوجوانوں کو مایوس کر چکے؟

News Inside

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً 23 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس آبادی کا ایک بڑا حصہ ایشیا اور افریقہ میں آباد ہے جبکہ انڈیا دنیا میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا کی کل آبادی کا 65 فیصد سے زائد حصہ 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

کچھ ماہ قبل انڈیا کے چیف جسٹس نے بے روزگار انڈین نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی تھی۔ اس بیان کے ردِعمل میں نوجوانوں نے آن لائن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ قائم کر لی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں نوجوان اس سے وابستہ ہو گئے۔ آج انسٹاگرام پر اس پارٹی کے فالوورز انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی دگنے سے زیادہ ہیں۔

جون میں کاکروچ جنتا پارٹی نے انڈیا کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کو سب سے زیادہ تقویت میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے کے واقعے سے ملی جس سے تقریباً بیس لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق پرچہ لیک ہونے کے بعد تقریباً ایک درجن طلبہ نے دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان لے لی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، امتحانی نظام میں اصلاحات اور متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ معروف انڈین انجینئر و سماجی کارکن سونم وانگ چک بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے۔

یہ نوجوان بیس سے زائد دن تک دہلی کے جنتر منتر میں قائم احتجاجی کیمپ میں پُرامن دھرنا دیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے صرف پانی پر گزارا کیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کا وزن کم ہوتا گیا، جسم کمزور ہوتے گئے مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔

پیر کو پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے دن ہزاروں نوجوانوں نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ اس مارچ کو ناکام بنانے کے لیے دہلی پولیس نے کئی میٹرو سٹیشن بند کر دیے، انٹرنیٹ محدود کر دیا اور مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس تشدد کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے اور کئی کے کپڑےپھٹ گئے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں نوجوانوں کے ساتھ ایسا سلوک یقیناً انتہائی افسوسناک ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے یہ احتجاج اس پورے خطے میں نوجوانوں کی اپنے ممالک سے مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انڈین نوجوان اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہیں کہ انہوں نے منظم ہو کر اپنی حکومت کو جواب دہ ٹھہرانے کی کوشش کی۔ پاکستانی نوجوان ان ہی مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ایک ساتھ کھڑے ہوئے نظر نہیں آتے۔

پاکستان میں کئی بار امتحانی پرچے لیک ہوئے، اقربا پروری اور سفارش کی بنیاد پر نمبروں اور ملازمتوں کی تقسیم کے الزامات سامنے آئے اور میرٹ کو بار بار پامال کیا گیا۔ ہر بار چند روزہ احتجاج ہوئے جو آہستہ آہستہ خود ہی دم توڑ گئے۔ ہر نئے واقعے کے بعد ہمارے نوجوانوں نے ایک ساتھ مل کر آواز اٹھانے کی بجائے اس ملک سے مایوس ہو کر اسے چھوڑنے کا راستہ اپنانا شروع کر دیا۔

پاکستان میں 1984 سے طلبہ یونینز پر پابندی عائد ہے۔ اس پابندی نے کیمپس کی سطح پر طلبہ کی منظم، خودمختار قیادت کا امکان ہی ختم کر دیا ہے۔ جب طلبہ کے پاس اجتماعی نمائندگی کا کوئی قانونی پلیٹ فارم نہیں رہا تو سیاسی جماعتوں نے انہیں تقسیم کرنے کے لیے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ طلبہ منظم تو ہوئے مگر اپنے حقوق کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے ایجنڈے کے لیے۔ وہ ہر پروپیگنڈے کا آسان شکار بنتے چلے گئے اور جب ان کے اپنے مسائل پر بولنے کا وقت آیا تو انہیں ایک دوسرے کا ساتھ ہی دکھائی نہیں دیا۔ بولنے والے اکا دکا افراد نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئے۔ ان کا انجام دیکھتے ہوئے باقیوں نے اس ملک، اس کے لوگوں اور اس کے نظاموں سے اپنی امیدیں ہٹا لیں۔

پاکستان اور انڈیا کو الگ ہوئے تقریباً 79 برس ہو چکے ہیں۔ رقبے، آبادی اور معیشت میں دونوں ممالک کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود دونوں اپنے نوجوان طبقے کو مایوس کرنے میں ایک سے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انڈیا کے نوجوانوں نے اپنے ملک میں ہی آواز بلند کرنے کے پلیٹ فارم بنائے ہیں جبکہ ہمارے نوجوانوں نے ملک سے باہر جانے کے راستے ڈھونڈے ہیں۔

یہ فرق فیصلہ کن ہے۔ انڈین نوجوان ابھی بھی اپنی ریاست سے کچھ مانگتا ہے، چاہے اسے جواب آنسو گیس کی صورت میں ہی کیوں نہ ملے۔ پاکستانی نوجوان نے مانگنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ وہ ریاست سے ناراض نہیں، مایوس ہے۔ غصہ کم از کم ریاست کو جواب دہ ٹھہراتا ہے۔ خاموشی اسے بری الذمہ کر دیتی ہے۔

ہمیں طلبہ یونینز سے پابندی ہٹا کر طلبہ کو ایک ایسی صحت مند سیاست کی طرف راغب کرنا چاہیے جو انہیں سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بننے کی بجائے اپنے ہی حقوق کا نمائندہ بنائے۔ انہیں نظام کو جواب دہ ٹھہرانا سکھانا چاہیے تاکہ وہ ملکی نظام بہتر کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ اس کے بغیر ہم انہیں بار بار مایوس کرتے رہیں گے اور وہ اپنی سب سے بڑی ناکامی اسی ملک میں پیدا ہونے کو سمجھیں گے۔

وہ کچھ نہ کچھ کر کے اس ملک سے نکل جائیں گے۔ پیچھے یہ ٹوٹا پھوٹا اور کمزور سا ملک اور اس کے لوگ رہ جائیں گے۔ اور جب مشکل پڑنے پر ہم بیرونِ ملک بیٹھے اپنے نوجوانوں کی طرف دیکھیں گے تو وہ ہمارے منتظر نہیں ہوں گے بلکہ اپنے میزبان ملک اور اس کے عوام کی خدمت کر رہے ہوں گے۔

ہمیں طلبہ یونینز سے پابندی ہٹا کر طلبہ کو ایک ایسی صحت مند سیاست کی طرف راغب کرنا چاہیے جو انہیں سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بننے کی بجائے اپنے ہی حقوق کا نمائندہ بنائے۔
بدھ, جولائی 22, 2026 - 06:30
Main image: 

<p class="rteright">بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے طلبہ نے 20 جولائی 2026 کو وارانسی میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران 'کاکروچ جنتا پارٹی'&nbsp;سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
کیا پاکستان اور انڈیا اپنے نوجوانوں کو مایوس کر چکے؟


from Independent Urdu https://ift.tt/xsZdMOz

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;