امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران پر ’بہت سخت‘ حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے جب کہ امریکی میڈیا کے مطابق وہ توانائی کے بنیادی ڈھانے کے اہداف سمیت اس اختتام ہفتہ پر دوبارہ شدید حملے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
پانچ ماہ سے زیادہ عرصے کی جنگ کے بعد، جو 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، ایک دوسرے پر جوابی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے سے بظاہر اس تنازعے کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔
ٹرمپ نے جمعے کو امریکی ریاست میری لینڈ میں صدارتی قیام گاہ کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا، ’ہم اسے بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور، آپ جانتے ہیں، ایک وقت آئے گا جب وہ کہیں گے کہ ہم اب اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘
امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے بعد میں ناظاہر کیے بغیر امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ایک نئے حملے کا حکم دیا ہے جس کا مقصد تہران کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنا ہے، جو اسی ویک اینڈ پر شروع ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا سی بی ایس نیوز نے رپورٹ دی کہ امریکہ اور اسرائیل ممکنہ طور پر پورے ویک اینڈ کے دوران توانائی سے متعلق اہداف پر مشترکہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ایسے اہداف ممکنہ طور پر آئل ریفائنریاں اور پاور پلانٹس ہوں گے۔
ٹرمپ نے پوری جنگ کے دوران ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرنے کی بار بار دھمکی دی ہے، اور گذشتہ ہفتے یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ جب بھی اہم آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملہ ہو گا تو وہ ہر بار ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کر دیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سی بی ایس نے متعدد نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے ابھی تک اس مہم کی اجازت نہیں دی تھی، لیکن اسرائیل اور امریکہ آپس میں رابطہ کاری کر رہے تھے۔
یہ رپورٹ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے اور ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ملاقات کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔
سی بی ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے کچھ معاونین نے کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے پر شدید اعتراضات کیے۔
اگر یہ منصوبہ آگے بڑھا، تو جنگ کے ابتدائی مرحلے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب اسرائیل ایران پر حملوں میں شامل ہو گا۔

<p class="rteright">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 جولائی، 2026 کو میری لینڈ کے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/yjzNPXJ