انڈیا کے زیر انتظام وادی کشمیر میں ستمبر اور اکتوبر کے ماہ ’شادی سیزن‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تب شالی یا سیبوں کی پیداوار سمیٹنے کے بعد رشتوں کو جوڑنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
شادی و بیاہ میں باہمی روابط، ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا اور دوست دشمنوں کا ایک ہی دسترخوان پر اکٹھے ہونا گو کہ ثقافت کا حصہ رہا ہے لیکن مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے سیاست دان ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونے سے ہمیشہ گریز کرتے تھے خصوصا سن نوئے کے بعد جب خطے میں مسلح تحریک آزادی کا آغاز ہوا اور معاشرہ دو نظریات میں تقسیم ہوا تھا۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب قومی دھارے سے وابستہ سیاست دانوں کو روپوش ہونا پڑا یا وادی سے نقل مکانی کرنا پڑی، کشمیری وازہ وان کا لطف اٹھانا تو دور کی بات تھی۔ آزادی نواز ہر محفل، شادی یا تقریب کا حصہ ہوا کرتے تھے اور کسی تقریب میں ان کا شامل ہونا باعث تکریم تصور کیا جاتا تھا۔
پھر وہ زمانہ آیا کہ آزادی نوازوں کا قافیہ تنگ ہونے لگا، تقریب کیا وہ گھر میں بھی غیر محفوظ ہوگئے۔ 2019 کے بعد وہ جیسے ناپید ہوگئے اور اب چند اکادُکا رہنما ہی موجود ہیں جن میں بیشتر اسیر ہیں یا بعض اکثر اوقات نظر بند کیے جاتے ہیں۔
اس وقت مین سٹریم سیاست دان ہر محفل کی شمع بنے ہوئے ہیں لیکن بعض آزادی نواز بھی ان محفلوں کے پروانے جیسے لگتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں جہاں وادی کی سیاست یکسر تبدیل ہو چکی ہے وہیں مختلف نظریات کے سیاست دانوں میں پائے جانے والی دوری بھی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیا سیاسی نظریات میں تبدیلی آچکی ہے؟ اس کا احاطہ کرنا ان مخدوش حالات میں ناممکن ہے۔
بیشتر آزادی نواز نہ صرف اب مین سٹریم سیاست دانوں کی شادی بیاہ میں شریک ہوتے ہیں بلکہ ان سے بغل گیر ہوکر ان کی نکاح سے لے کر ولیمہ تک محفل کی رونق بنے رہتے ہیں جو بظاہر کشمیری سیاست میں پہلی بار عوامی توجہ کا باعث بنا ہے۔
بقول ایک آزادی نواز علی میر ’یہ خود ساختہ لیڈر ان ماؤں کا بھی خیال نہیں کرتے جن کے نوجوان بچوں کو آزادی کا افیون پلا کر زمین برد کر دیا اور جو ہزاروں قبرستانوں کی زینت بنے ہیں۔‘
علی میر مزید کہتے ہیں کہ ’ایک ہی صف میں کھڑا ہونا، ایک ہی دستر خوان پر ضیافت نوش کرنا اور پھر بھری محفل میں مہنگے رشتوں کی تشہیر کرنا، یہ سب ایک ڈراونہ خواب جیسے لگتا ہے۔‘
حال ہی میں بعض سیاسی شادیوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی، نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی اور دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ حریت کے رہنماؤں کی شرکت اور روابط وادی کے طول و عرض میں بحث و تمحیص کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
کشمیری آبادی کا بیشتر حصہ اس سب کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے، درد و کرب سے گزر رہا ہے، اور ان ہزاروں نوجوانوں کو یاد کر رہا ہے جن کے ہاتھوں میں بیشتر سیاست دانوں نے بندوقیں تھما کر اپنی دکانیں چمکائی تھیں اور اب ایک نئے انداز میں اپنا روپ ظاہر کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے ان سیاسی امیروں کی شادیوں کے ویڈیوز وائرل کر کے شاید ایک ایسی حقیقت پر سے پردہ اٹھایا ہے جو کافی دیر سے پس پردہ ہو رہا تھا لیکن عوام کے سامنے اس شکل میں کبھی نہیں آیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ 30 برسوں کی مسلح شورش سے متاثر اور غریب آبادی کو امیر سیاست دانوں یا دولت مندوں کی چمک دمک دکھا کر اتنا پامال کیا جا رہا ہے کہ غریب عوام اب روتے بھی نہیں کیونکہ آنسو بھی خشک ہو چکے ہیں، پھر جب سجی سجائی نکاح خوانی اور بھاری رقم بطور حق مہر کے اعلان کا لائیو براڈکاسٹ کیا جاتا ہے تو ان رہنماؤں کی سنگ دلی پر افسوس کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔
یہ تو سنا تھا کہ راجہ مہاراجاؤں کے خاندانوں میں سیاسی شادیوں کا رواج تھا تاکہ گھر اور مملکت کی دولت درون خانہ ہی رہے لیکن موجودہ دور میں سیاسی یا مذہبی رہنما اتنی سفاکی کا مظاہرہ کریں گے، یہ شاید کشمیریوں کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔
جہاں قتل غارت گری کا عالم رہا، معیشت تباہ حال ہوگئی ہے، معاشرہ بکھر چکا ہے کیا وہاں کے سیاست دانوں کو مہنگی شادیوں کی چمک دمک کا حصہ بننا زیب دیتا ہے یہ سوال ہر کشمیری کے لب پر ہے۔
ان مذہبی یا سیاسی رہنماؤں نے وادی میں 80 ہزار سے زائد ایسی غیر شادی شدہ لڑکیوں کے بارے میں کبھی سوچا جن کی عمریں 40 سے زیادہ ہوچکی ہیں اور غربت کی ماری شادی نہیں کر سکتیں ہیں۔ ایک آزادی پسند مذہبی رہنما نے مین سٹریم سیاست دان کا نکاح ہی نہیں پڑھا بلکہ حق مہر کے طور پر دینے والے 26 لاکھ کا برملا اعلان بھی کیا جبکہ وہ مساجد میں سادگی کا درس دیتے آ رہے ہیں۔
ایک اور مذہبی تقریب کے دوران معاشرتی مسائل پر بحث میں ایک اور مذہبی رہنما نے کہا کہ کشمیر میں بعض عورتیں دو یا تین سو روپے میں اپنی عزت نیلام کرتی ہیں۔
انہیں کسی نے سوال نہیں کیا کہ کیا تمام کشمیری مرد فرشتے ہیں یا معاشرے کی بدحالی میں ان کا بھی کوئی کردار ہے یا عورتیں ہی معاشرے میں پھیلی بدبو کی ذمہ دار ہیں۔
اندازہ لگائیں کہ اس معاشرے کی کیا حالت ہوگی جس کے مذہبی رہنما اس طرح کا کلام یا اس طرح کی مہنگی سیاسی شادیوں کا پرچار کرتے ہیں۔
وادی میں ایسی کئی تنظیمیں ہیں جو غریب اور بے سہارا لڑکیوں کا سہارا بن کر ان کے گھر بساتے ہیں، کاش قوم کے بڑے مذہبی ٹھیکیداروں نے ان تنظیموں کے حق میں بھی دو الفاظ کہے ہوتے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہوتی یا پرآشوب حالات کے متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری پر کچھ دھیان دیا ہوتا۔
ایک دوسرے سے بغل گیر ہونا یا ایک ہی سیاسی نظریے کو اپنانے پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو مگر پس پردہ عوامی طبقوں میں رنجشیں، تلخیاں یا دوریاں کیوں بڑھائی جاتیں ہیں، یہ کون سی پالیسی ہے کہ خود ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر ضیافتیں نوش کریں مگر اپنے پیروکاروں کو گلی کوچوں اور سڑکوں پر لڑوائیں۔
اگر بعض آزادی پسند رہنما محسوس کرتے ہیں کہ ماضی کو بھلا کر مین سٹریم سیاست ہی واحد حل ہے تو کم از کم دیانت داری کا مظاہرہ کرکے عوام کو اعتماد میں لینے کی ہمت تو کریں یا پھر ان والدین سے معافی مانگیں جن کے بچے قبرستانوں میں ان کے کہنے پر دفنا دیے گئے ہیں۔
کم از کم سیاسی قربت بڑھانے کی ویڈیوز وائرل کرنے سے روکیں تاکہ متاثرہ اور تباہ حال خاندانوں کو مزید کوفت اور ذلت سے بچایا جاسکے۔
نوٹ: مصنفہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سینیئر صحافی ہیں۔ یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

<p class="rteright">3 جون 2026 کو لی گئی اس تصویر میں ایک کشمیری شخص سری نگر میں شادی کے مہمانوں کو روایتی مقامی ضیافت 'وازوان' پیش کر رہا ہے۔ ہر کشمیری شادی میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے، اور وہ ہے 'وازوان'۔ دھیمی آنچ پر پکائے گئے گوشت اور صدیوں پر محیط پکوانی مہارت کے لیے مشہور یہ ضیافت کشمیر کی ثقافت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/yeEdF4h
