مذاکرات کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ایسے مرحلہ وار راستے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا اور واشنگٹن ایران کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ لگ بھگ سات ماہ سے جاری تنازعے ختم کرنے کی کوششوں میں یہ آبنائے سودے بازی کا اہم ترین ذریعہ بن چکی ہے۔
ایک طرف ایران اس امریکی ناکہ بندی سے نجات چاہتا ہے جس نے اس کی معیشت کا گلا گھونٹ رکھا ہے، تو دوسری جانب واشنگٹن تیل کی ترسیل کے اس عالمی راستے پر بحری جہازوں کی بلاروک ٹوک آمدورفت چاہتا ہے جسے اب تہران نے بند کر رکھا ہے۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے دو ایرانی ذرائع، دو علاقائی عہدے داروں اور دو مغربی سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کو ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے کیوں کہ کوئی بھی فریق پہلے اپنی برتری سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا، تاہم ایران کے اس مؤقف کے پیچھے طویل محاذ آرائی کے معاشی نقصان کا احساس بھی موجود ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے کہا کہ اس تعطل کو ختم کرنے کا سب سے قابل عمل راستہ ایک مرحلہ وار طریقہ کار ہو گا، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کی اجازت دے گا اور اس کے بدلے میں امریکہ اپنی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرے گا جس سے تہران کو ممکنہ طور پر اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی مل جائے گی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر ایرانی عہدے دار کا کہنا تھا کہ ’آگے بڑھنے کا ایک راستہ بحران کو مرحلہ وار حل کرنا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں ناکہ بندی ختم کی جائے اور ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے۔‘
جولائی میں گذشتہ مفاہمت کے ناکام ہونے کے بعد، اس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور عارضی حل قبول کرنا پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس لیے مذاکرات کاروں کے سامنے مرکزی چیلنج صرف ایک معاہدے کا خاکہ تیار کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ دی جانے والی کوئی بھی رعایت اتنی پائیدار ہو کہ دونوں فریق اس پر اعتماد کر سکیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران تین نومبر کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ایک اعلیٰ یورپی عہدے دار نے کہا کہ ایرانیوں کی ’مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے کہا کہ اگرچہ ’ایران معاہدے کے لیے بے تاب ہے، لیکن تمام تر اختیارات صدر ٹرمپ کے پاس ہیں اور وہ وہی فیصلہ کریں گے جو امریکہ کے لیے بہترین ہو گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ’مناسب حالات میں ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار‘ ہیں لیکن انہیں مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایران کی ’تباہ ہوتی‘ معیشت کی وجہ سے امریکہ ’بہت مضبوط پوزیشن‘ میں ہے۔
عہدے دار نے کہا کہ ’تباہ کن پابندیوں‘ اور ’تاریخ کی کامیاب ترین ناکہ بندیوں میں سے ایک‘ نے ایران کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے اور اسے مکمل طور پر کنگال کر دیا ہے۔
عہدے دار نے بتایا کہ ٹرمپ تہران کے ہاتھوں ’بیوقوف بننے‘ کی بجائے ’ایران کی یقینی تباہی‘ کا تماشا دیکھنے پر مطمئن ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور ایران نئے سرے سے سفارت کاری شروع کریں: شہباز شریف
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کے دوران امریکہ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے تحمل اور نئے سرے سے سفارت کاری پر زور دیا۔
وزیر اعظم کے دفتر نے جمعرات کی ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’شہباز شریف نے طویل تنازعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔‘
وزیر اعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقائی امن کے فروغ کے لیے اپنا وہ مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور تنازع ختم کرنے کے حوالے سے اس کے کردار کی تعریف کی۔
شہباز شریف کے دفتر کے مطابق: ’صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی اصولی سفارت کاری اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے اس کی بھرپور کوششوں کو سراہا۔‘

<p class="rteright">21 جون، 2026 کو مشرق وسطیٰ تنازعے پر سوئٹزرلینڈ کے شہر برجن سٹاک میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے چار فریقی اجلاس کے موقعے پر موجود وفود کے ارکان (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/40jGdMH