اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کسی بھی خطرے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی خطرہ ایسی ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
شہباز شریف نے کہا کہ امن کے لیے پاکستان کی دیرینہ وابستگی سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے بھی عیاں ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم گزرگاہیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے۔
انہوں نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ شہباز شریف کے مطابق اسلام آباد مذاکرات اور اس کے بعد طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تنازع کے خاتمے کی جانب ’تاریخی اقدامات‘ ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس اہم موقع پر پاکستان نے فوری طور پر کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ’ایک چھت تلے‘ لانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہا، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے کردار کی بھی تعریف کی۔
وزیراعظم کے مطابق مشکل اور چیلنجنگ حالات میں پاکستانی قیادت اور متعلقہ حکام کی کوششوں نے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شہباز شریف نے مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اسرائیل کے جاری ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ اسرائیلی تشدد اب مغربی کنارے تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ مسئلے کا واحد منصفانہ اور دیرپا حل ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔
جنوبی ایشیا کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا۔ شہباز شریف نے پاکستانی افواج کے پیشہ ورانہ ردعمل کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو سراہا جس سے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔
مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزاد اور غیر جانب دار استصوابِ رائے کے وعدے کے منتظر ہیں۔ وزیرِ اعظم نے جموں و کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر اور قابلِ عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔
دہشت گردی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانیں قربان کیں اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔ انہوں نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے افغان حکام سے قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے اسلاموفوبیا میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مذہبی نفرت کے خاتمے پر زور دیا۔
پاکستان کی معیشت کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ساختی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے معاشی استحکام بحال کیا ہے اور پائیدار و جامع ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے زراعت، صنعت، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کو جدید مصنوعی ذہانت و آئی ٹی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
موسمیاتی تبدیلی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا بار بار سامنا کرتا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور امن بھی ایک انتخاب ہے، جبکہ بعض اوقات زیادہ بہادری جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکالمے کو تصادم، تعاون کو جبر اور امن کو جنگ پر ترجیح دی ہے۔

<p class="rteright">وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 25 ستمبر، 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے(سکرین گریب)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/TuvyNJ5