’سر، آپ بیرونِ ملک سے پاکستان واپس کیوں آئے؟‘
یہ سوال لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے ایک گریجویٹ نے کیا، جو پاکستان کی ممتاز نجی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ وہ ایک ملازمت کے انٹرویو کے اختتام پر نجی ایکویٹی کے سرمایہ کار ملک احمد جلال کے سامنے بیٹھا تھا۔
اسے کہا گیا تھا کہ وہ جو چاہے پوچھ سکتا ہے، لیکن اس نے نہ ملازمت کے بارے میں پوچھا، نہ تنخواہ کے بارے میں اور نہ ہی یہ کہ اس شعبے کا مستقبل کیا ہے۔ اس نے جلال سے کہا کہ وہ وضاحت کریں۔
جلال نے گذشتہ ہفتے ایکس پر لکھا: ’2020 سے اب تک مجھ سے صرف یہ ہی ایک سوال پوچھا گیا ہے، ہر بار، بلا استثنیٰ۔‘ اس پوسٹ کو اب تک ایک لاکھ 40 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے۔
میں اس سوال سے واقف ہوں۔ 2001 میں میں نے خود اس کا جواب تحریری شکل میں دیا تھا۔ انگریزی اخبار ڈان کے میگزین نے ’میں کیوں جا رہی ہوں‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا تھا اور اس کے اگلے ہفتے میں نے ’میں واپس کیوں آئی‘ کے عنوان سے جواب لکھا تھا۔
میں دبئی سے واپس آئی تھی کیونکہ میرا یقین تھا کہ ملک کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو یہاں رہ کر اسے تعمیر کریں۔ پچیس برس بعد بھی سوال وہی ہے، لیکن اس کا لہجہ بدل گیا ہے۔
جلال نے لکھا: ’ان کے نزدیک وطن واپس آنا کوئی کامیابی نہیں۔ یہ ایک احمقانہ غلطی ہے جس کی وضاحت کرنا پڑتی ہے۔‘
ان کی پوسٹ نے لوگوں کے دل کی بات چھیڑ دی۔ سینیئر صحافی اور پاکستان کے میڈیا ریگولیٹر کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے جواب دیا کہ جن نوجوانوں سے وہ ملتے ہیں، وہ انہیں ایسے لگتے ہیں جیسے ’اگلی کنیکٹنگ فلائٹ کے انتظار میں کسی ٹرانزٹ لاؤنج میں اپنے ہینڈ کیری بیگ کے ساتھ بیٹھے ہوں۔‘
میں نے جلال سے رابطہ کیا اور وہ ایک سوال پوچھا جو ان کی پوسٹ میں غائب تھا: وہ پاکستان واپس کیوں آئے؟ ان کا جواب وطن واپسی کی کہانی سے زیادہ ایک شرط یا داؤ جیسا تھا۔
وہ 2015 میں نجی ایکویٹی کے شعبے میں کام کرنے والی ایک عالمی فرم کے ساتھ پاکستان آئے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کو قریب سے دیکھیں۔ انہوں نے آئیوی لیگ جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ اور دی سٹیزنز فاؤنڈیشن کے سکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ کام کیا۔
یہ ایک فلاحی ادارہ ہے جو کم آمدنی والے بچوں کو تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اس تجربے نے انہیں دکھایا کہ اگر پاکستان اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کرے تو اسے کتنا فائدہ ہو سکتا ہے۔ جب 2019 میں ان کی تعیناتی ختم ہوئی تو وہ یہیں رک گئے۔
انہوں نے کہا: ’میں ایک مثبت سمت دیکھ رہا تھا اور مجھے لگا کہ میں یہاں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہوں۔‘ تو وہ ان امیدواروں سے کیا کہتے ہیں جو ان سے یہ سوال پوچھتے ہیں؟
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں آپ ایک چھوٹی کشتی چلاتے ہیں مگر پورا سمندر دیکھتے ہیں۔ برطانیہ جیسی بڑی معیشت میں آپ ایک بڑے جہاز کے عملے کے محض ایک رکن ہوتے ہیں اور آپ کا حصہ محدود رہتا ہے۔ یہاں آپ جو بھی کرتے ہیں، اس کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔
پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ آج بھی یہ ہی فیصلہ کرتے؟ انہوں نے ’ہاں‘ نہیں کہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق پاکستان ایک ہی وقت میں سست اور تیز رفتار انداز سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن زیادہ تر سمت نیچے کی جانب ہے، درمیان میں ترقی کے مختصر وقفوں کے ساتھ۔ ان کے بقول نظام کی بنیادی اصلاحات اب تک نہیں کی گئیں۔ سرکاری رکاوٹوں اور غیر ضروری ضابطوں میں کمی، منڈیوں کو کھولنا، شہری آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا، یعنی وہ اصلاحات جو انڈیا نے 1990 کی دہائی میں کی تھیں۔
انہوں نے کہا: ’اگر میں پیسہ کماؤں تو میرا سرمایہ ریاست یا بااثر لوگوں سے محفوظ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی میرے خلاف جائے تو میرے پاس انصاف حاصل کرنے کا راستہ ہونا چاہیے۔‘ وہ دراصل ان چیزوں کی نشاندہی کر رہے تھے جو پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ پاکستان سخت اصلاحات کے صرف تین یا چار برس بعد ترکی، جنوبی کوریا یا چلی جیسی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، لیکن جب تک وہ یہ تبدیلی نہیں دیکھتے، ان کا فیصلہ دوٹوک ہے: بیرونِ ملک سے آنے والے کسی بھی شخص کے لیے پاکستان اپنی تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ خطرناک انتخاب‘ ہے۔
جلال ایک سرمایہ کار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی فیصلے سے پہلے حقائق اور خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لینا کیا ہوتا ہے۔ وہ نوجوان بھی یہ بات جانتا ہے جس نے ان سے یہ سوال کیا تھا۔ اس کا سوال مایوسی یا طنز پر مبنی نہیں تھا بلکہ موجود شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ایک منصفانہ نتیجہ تھا۔
تو جس شخص نے یہ پوچھا تھا کہ نوجوان وطن واپسی کو دانش مندانہ فیصلہ کیوں نہیں سمجھتے، آخرکار اس نے انہیں وہی جواب دیا جو وہ خود اسے دے رہے تھے۔
اعداد و شمار بھی نوجوانوں کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ 2025 میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ میں سات لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانیوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلاتِ زر 41 ارب 60 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔
حکام اس رقم کو معیشت کے لیے زندگی بچانے والی رسی قرار دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اسے بھی نقصان سمجھتے ہیں کہ یہ پیسہ بھیجنے والے لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ملک اپنے رخصت ہو جانے والوں کی تنخواہوں پر انحصار کرتا ہو، اس نے دراصل ’چلے جانا‘ ہی اپنی معاشی پالیسی بنا لیا ہے۔
سرمایہ کار جانتے ہیں کہ کسی فیصلے سے پہلے حقائق کا جائزہ کیسے لیا جاتا ہے۔ وہ نوجوان بھی یہ جانتا ہے جس نے یہ سوال کیا تھا۔ غالباً اس نے مہنگائی کو اپنے والدین کی جمع پونجی کھاتے دیکھا ہے، انٹرنیٹ کی بندشوں اور سیاسی ہنگامہ آرائی کے ادوار کا مشاہدہ کیا ہے، اور یہ بھی دیکھا ہے کہ کون آگے بڑھتا ہے اور کیوں۔
اس کا سوال تلخ یا بدگمان نہیں تھا۔ یہ صرف حقائق کا ایک منصفانہ مطالعہ تھا۔ مگر ذرا پھر سے دیکھیے کہ وہ نوجوان کہاں بیٹھا تھا۔ وہ پاکستان میں تھا، ایک ملازمت کے انٹرویو میں۔ وہ جا نہیں چکا تھا۔ وہ وہی کر رہا تھا جو ہر سرمایہ کار کسی فیصلہ کن قدم سے پہلے کرتا ہے: جائزہ لے رہا تھا۔
اور وہ اب بھی اسی کمرے میں موجود تھا۔ جلال کے فیصلے میں ایک اور پہلو بھی ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پاکستان ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ ملک سخت اصلاحات سے تین یا چار سال کے فاصلے پر ہے۔ یہ ایک فاصلہ ہے، تقدیر نہیں۔
دوسرے ممالک یہ فاصلہ طے کر چکے ہیں۔ 2023 میں میں نے لکھا تھا کہ جو طلبہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ملک کیسے چھوڑا جائے، میں اب انہیں امید نہیں بیچتی۔ امید کوئی ایسی چیز نہیں جو میں فروخت کر سکوں۔ اسے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔
اور اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں جو واپس آئے۔ یہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ان 25 برسوں میں اس ملک کو چلایا ہے، جب میں نے پہلی بار اس سوال کا جواب دیا تھا۔ نوجوان اب بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اب بھی جواب کے منتظر ہیں۔
ہم ان کے لیے ایسا کیا تعمیر کریں گے کہ وہ یہاں رہنے کا فیصلہ کریں؟
یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پاکستان پر شائع ہوچکی ہے۔

<p class="rteright">جو طلبہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ملک کیسے چھوڑا جائے، میں اب انہیں امید نہیں بیچتی۔ امید کوئی ایسی چیز نہیں جو میں فروخت کر سکوں۔ اسے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ (اینواتو)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/CQjNbWw

