خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگہ: آج کا جرگہ کتنا سودمند ہوگا؟

News Inside

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر غور اور متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آج (بدھ کو) ’امن جرگہ‘ طلب کیا ہے، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی قائدین کو دعوت دی گئی ہے۔

جرگہ پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت میں ہو رہا ہے، جس میں اب تک جمیعت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور مزدور کسان پارٹی نے شرکت کا اعلان کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سات نومبر کو اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر اور وفاقی وزیر امیر مقام کو بھی دعوت دی تھی، جس کا امیر مقام نے مثبت جواب دیا تھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ خیبر پختونخوا کے گورنر کو بھی جرگے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

سیاسی جماعتوں کے علاوہ صوبائی حکومت نے جرگے میں وکلا، میڈیا اور سول سو سائٹی کے نمائندوں کو بھی دعوت دی ہے اور ٹی او آرز بھی تشکیل دیے ہیں۔  

ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنسز اور جرگے بلائے تھے جن میں سب آخری کوشش گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے رواں سال جون میں جرگہ بلا کر کی تھی۔  

تاہم اس جرگے میں صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شرکت نہیں کی تھی۔

پشاو کے صحافی محمود جان بابر کے مطابق سب سے پہلی خوش آئند بات یہ ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی نے دیگر سیاسی جماعتوں کے جرگوں میں شرکت نہیں کی لیکن آج وہی پارٹیاں آج ان (پی ٹی آئی) کے جرگے میں آ رہی ہیں۔

محمود جان کے خیال میں جرگہ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا ہے کہ وہ افغانستان جا کر وہاں کے مشران سے ملے۔

’لیکن پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات میں یہ اگر کسی بات پر متفق بھی ہو جاتے ہیں تو اس کو منوانا مشکل ہو گا کیونکہ آخر میں بات پھر بھی وفاقی حکومت کے پاس ہی آئے گی۔‘

اسی طرح محمود جان کے مطابق اگر یہ جرگہ افغانستان کے مشران سے بھی بات کرتا ہے تو وہاں کے عوام کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں بلکہ اختیار افغان طالبان کے پاس ہے اور وہی لوگ فیصلے کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’فرض کریں آج کے جرگے میں افغانستان سے بات چیت کی بات ہوتی ہے اور بات چیت میں اس جانب سے کوئی مطالبات رکھے جاتے ہیں تو وہ مطالبات ماننے کا اختیار اس جرگے کے پاس نہیں۔‘

اس سے قبل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے افغان طالبان سے بات چیت کے لیے وفد کابل بھیجنے کا اعلان کیا تھا اور خود بھی جانے کا بتایا تھا۔

سویڈن میں مقیم عبدالسید جنوبی ایشیا کے عسکریت پسند تنظیموں پر تحقیق کرنے والے محقق ہیں اور اس حوالے سے مختلف مضامین اور تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی اور اسی دوران خیبر پختونخوا حکومت کے جرگے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امن کے لیے عوامی تحریک چلانا ایک احسن اقدام ہے کیونکہ خیبرپختونخوا بالخصوص قبائلی اضلاع میں حالات تشویش ناک حد تک خراب ہیں۔

انہوں نے بتایا اس مقصد کے لیے سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کا متحرک ہونا ضروری ہے البتہ اس مسئلے کا حل وفاقی حکومت کے اختیار میں ہے۔

عبدالسید نے بتایا ’عوام تو آپریشن کی بجائے پرامن طور پر بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہیں جس کا راستہ مذاکرات و بات چیت ہیں۔‘

انہوں نے بتایا ’ان سیاسی اجتماعات کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ بدامنی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی عوام کا اس مسئلے کے حل کے لیے آواز و تجویز ایک بڑے پلیٹ فارم سے سامنے آسکے گی جو شاید موثر رہے۔‘

جرگے کی نشست اور اس کے بعد کے فیصلوں کا جرگہ ختم ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔

تاہم پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کا خیال ہے کہ اس جرگے سے صوبے کی بد امنی کا مسئلہ شاید حل ہو سکے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر بحث کے لیے آج ’امن جرگہ‘ طلب کیا ہے، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی قائدین کو دعوت دی گئی ہے۔
بدھ, نومبر 12, 2025 - 06:30
Main image: 

<p>28 فروری 2025 کو پشاور کے مشرق میں اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ سکول میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک خودکش دھماکے کے بعد لوگ جمع ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں&nbsp;(عبدالمجید/ اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
خیبر پختونخوا حکومت کا امن جرگہ: آج کا جرگہ کتنا سودمند ہوگا؟


from Independent Urdu https://ift.tt/ZbGC5xB

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;