پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعے کو کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں اور جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی، جب تک کابل اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
جمعے کی شب نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ’بات چیت میں مکمل تعطل ہے اور افغان حکام کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کا کوئی منصوبہ نہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات جمعے کو اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے، جب دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر سرحد پر بڑھتی جھڑپوں کے الزامات لگائے، جن سے قطر کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔
دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان گذشتہ ماہ کی سرحدی جھڑپوں کے بعد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا اور اس حوالے سے کوئی طریقہ کار طے کرنے کے لیے مزید بات چیت رواں ماہ ترکی کے شہر استنبول میں شروع ہوئی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا: ’ہمارا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان یہ یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اگر افغان سرزمین سے کوئی حملہ ہوا تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔‘
<p class="rteright">وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف 26 دسمبر 2017 کو بیجنگ میں چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے پہلے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران (نکولا آسفوری / اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/AyP3JYm