طاقت بےرحم ہوتی ہے اور سیاست بےحس، جبکہ ریاست کا اصول مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ سیاسیات کے دو اہم دانشوروں ہانز مورگنتھو اور میکاولی میں اختلاف محض ایک نکتے کا رہا ہے کہ طاقت کے حصول میں اخلاقیات کا کیا عمل دخل ہے۔
مورگنتھو اپنی کتاب Politics Among Nations میں طاقت کے حصول کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے مگر اخلاقی قدروں کو ملحوظ رکھنے پر زور دیتا ہے تو میکیاولی اپنی مشہور زمانہ کتاب ’دا پرنس‘ میں سیاست کو اخلاقیات سے الگ رکھنے کی بات کرتا ہے۔ بہر حال سیاست کی ایک قدر یعنی ’موقع پرستی‘ پر دونوں متفق ہیں۔ مفادات کا تحفظ طاقت کے تقاضوں کو جنم دیتا ہے جس کا جا بجا استعمال نظر بھی آتا ہے۔
گذشتہ کچھ عرصے سے ہماری ریاست اور طاقت کے تقاضے بدل گئے ہیں، ضرورت کے تحت آئین میں تبدیلیاں بھی کر دی گئی ہیں۔ بظاہر نظام کی مضبوطی کے لیے کئی ایک اقدامات اور ضمانتیں بھی فراہم ہو چکی ہیں۔ عین آئینی، پارلیمانی اور جمہوری طریقے سے طاقت کا پلڑا فرد واحد کی جانب منتقل ہوا ہے۔ بظاہر یہ بھی ایک ضرورت کے تحت بندوبست ہے تاہم اس کے بعد کیا ہے، اس کا علم کسی کو نہیں۔
ہر دس سال کے بعد ہم پھر زیرو پوائنٹ پر آ کھڑے ہوتے ہیں، دس سال کی نام نہاد جمہوریتیں، دس سال کے مارشل لا اور اب دس سالہ ہائبرڈ نظام کا تجربہ، جس میں گاڑی کا سٹیرنگ کسی ہاتھ میں اور ڈرائیور کوئی اور۔ کبھی معیشت کے تقاضے تو کبھی ریاست کی حاجتیں۔ سویلین بالادستی محض ایک خواب تھا، اور نہ جانے کب تک رہے گا۔
قوم کو ہر دس سال میں نئے صوبوں یعنی نئے انتظامی یونٹس کے سہانے خوابوں میں الجھا دیا جاتا ہے تو کبھی نئے ڈیموں کی تعمیر کو موضوع بحث بنا دیا جاتا ہے۔ اور اب تو نئے صوبوں پر ’ریفرنڈم‘ تک کرائے جانے کی خبریں ہیں۔ سوال وہیں کا وہیں ہے کہ طاقت کے حصول کے لیے تو نظریات ہیں مگر مورگنتھو کے عوامی رائے کی پذیرائی کے حصول کے لیے کوئی کوشش موجود نہیں ہے۔
ایک ہی وقت میں آئی ایم ایف کی رپورٹ کا منظر عام پر آنا اور ساتھ ہی اختیارات پر کنٹرول کو موضوع بحث بنائے جانا اور پھر ’اختلافات‘ کا سامنے آ جانا کیا محض اتفاق ہے؟ عرض ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے بنیادی نکات پر عمل درآمد کو محور بنائے جانے کی بجائے تمام تنازعات کی پٹاری کو ایک دم کھول دینا طاقت کا اظہار تو ہو سکتا ہے دانش مندی ہرگز نہیں۔ اس سے سوائے افراتفری کے اور کیا حاصل ہو گا۔ سیاسی منظر نامے پر بے یقینی کے چھائے بادل اور زمین پر تنازعات کی دھول ہر منظر کو دھندلا کر رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مخدوش صورت حال جبکہ اب گورنر راج کی خبریں حالات کو گمبھیر بنا رہی ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کسی بڑے شو ڈاؤن کی تیاریوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں نوجوان طلبہ کو متحرک کر رہی ہے تو دوسری طرف عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی ماحول کو مزید تناؤ کا شکار۔ این ایف سی پر پیپلز پارٹی کے سر پر الگ تلوار لٹکا دی گئی ہے، یہ گُنجل کس کے کام آئے گا اور نتیجہ کیا لائے گا اس کا اندازہ شاید کسی کو نہیں۔
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 27ویں ترمیم کے چند دنوں کے بعد نواز شریف خاموشی توڑ دیتے ہیں اور عمران خان سے ’بڑے مجرموں‘ کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کا یہ مطالبہ کس سے ہے اور کیوں ہے؟ کیا نواز شریف کا مقتدرہ سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں نہیں جب فوج کے اندر بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جب ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے ’احتساب‘ کا عمل اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور فیصلہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔
نواز شریف ایک ایسے وقت میں عمران خان کو ’چھوٹا مجرم‘ قرار دے رہے ہیں جب وہ اختیار کی ساری کُنجیاں ایک ہی فرد کے حوالے اپنی مرضی سے کر چکے ہیں اور اب خود کو بری الذمہ کرتے ہوئے باقی ایام فقط یاد اللہ میں گزارنے پر اکتفا کرنے والے ہیں؟
پراجیکٹ عمران کے تمام کرداروں کے احتساب کا مطالبہ کر کے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کسی کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں؟ تو کیا مقتدرہ احتساب کا مزید بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟ کیا بظاہر بہترین نظر آتے سول ملٹری تعلقات میں دراڑیں پڑ چکی ہیں؟
سیاست کی بساط پر شطرنج کی بڑی چال کھیلی جا چکی ہے، اب اس میں کتنے پیادے مارے جائیں گے یا شاہ کو مات ملے گی اس کا فیصلہ وقت اور حالات کریں گے۔ سیاست دان اپنی جگہ گنوا چکے ہیں اب آپس کی آنکھ مچولی کا کیا فائدہ؟
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p class="rteright">پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے ایوان کا ایک منظر (فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/FKNi5bL