دنیا کے مختلف علاقوں میں جنگوں کے بعد تعمیر نو کے حوالے سے امریکہ اور مغربی ممالک کا رویہ امتیازی دکھائی دیتا ہے۔
غزہ، عراق، افغانستان، لیبیا اور شام سمیت درجنوں ممالک آج بھی جنگ کی تباہ کاریوں سے نبرد آزما ہیں لیکن امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ان کی تعمیر نو میں بھر پور تعاون کرنے لے لیے تیار نہیں لگتے۔
دوسری عالمی جنگ میں جہاں چار کروڑ سے زیادہ افراد لقمہ اجل بنے، وہی بڑے پیمانے پر ممالک میں تباہ کاریاں بھی ہوئیں۔ مغربی ممالک کے کئی شہروں کو تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسے میں 1945 میں دنیا کی پہلی عسکری ومعاشی طاقت کے طور پہ ابھرنے والے امریکہ نے مارشل پلان کے ذریعے 1948 سے 1951 کے درمیان 16 یورپی اقوام کی بھر پورمدد کی۔
اس پلان کے لیے 13.3 ارب ڈالرز کی امداد رقم مختص کی گئی، جو اس دور کے حساب سے ایک بہت بڑی رقم تھی اور آج کے حساب سے وہ تقریبا 150 ارب ڈالر بنتی ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ نے ایشیا میں کمیونزم کو روکنے کے لیے اپنے دشمن جاپان اور جنوبی کوریا کی بھی بھرپور مدد کی۔
امریکہ کی اس امداد کا اثر یہ ہوا کہ مغربی ممالک کچھ ہی برسوں میں اپنے پیروں پہ کھڑے ہونا شروع ہو گئے اور بعد میں جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ یورپ جیسی بڑی معیشتوں کے طور پر ابھرے جبکہ دوسرے ممالک نے بھی مارشل پلان سے فائدہ اٹھایا۔
امریکہ اور مغرب نے دنیا کی اور کئی جنگوں میں بھی حصہ لیا. ایک اندازے کے مطابق 1945 سے لے کر اب تک 280 کے قریب چھوٹی یا بڑی جنگ ہوئیں، جس میں خانہ جنگیاں بھی شامل ہیں.
ان میں سے کئی جنگوں میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی کسی نہ کسی طرح حصہ دار رہے تاہم جنگ سے تباہ شدہ ان ممالک کی تعمیر نو کے لیے کوئی مارشل پلان نہیں آیا۔
بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کا دعویٰ ہے کہ صرف 2003 سے 2014 تک تعمیر نو پہ 220 ارب ڈالرز عراق میں خرچ ہوا، جس میں 74 ارب ڈالرز کی بیرونی امداد بھی شامل تھی۔
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ امریکی کمپنیوں کی جیبوں میں گیا یا جنگ اور سکیورٹی سے متعلق اخراجات کی مد میں دیا گیا۔
اس پیسے کا عراقی عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق عراق کا اس فہرست میں 63 واں نمبر ہے.
ملک کی 14.9 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے جبکہ خدشہ ہے کہ پانچ سال یا کم عمر کے 4.9 فیصد بچوں کا غذائی قلت کی وجہ سے قد نہیں بڑھے گا۔
پانچ سال یا اس سے کم کے 2.3 فیصد ایسے عراقی بچے ہیں، جو اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے ہی موت کے آغوش میں چلے جاتے ہیں جبکہ اسی عمر کے تین اشاریہ نو فیصد بچے سوکھے پن کا شکار ہیں۔
فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق حکومت اب تک صرف توانائی کی پیداوار، تقسیم اور ترسیل پر، جو جنگ کے دوران تباہ ہوئے، کئی ارب ڈالرز خرچ کر چکی ہے لیکن اب بھی بجلی کا بلیک آؤٹ معمول ہے۔
خلیج کی دو جنگوں سے پہلے عراق کا سوشل ویلفیئر سیکٹر ترقی پذیر ممالک میں بہترین شمار ہوتا تھا۔ عرب دنیا میں فلسطینیوں کے بعد دوسرے نمبر پر گریجویٹس کی بڑی تعداد عراق میں تھی۔
صرف خلیجی جنگوں نے ہی عراق کو تباہی سے دوچار نہیں کیا بلکہ فرقہ وارانہ خون خرابے نے بھی اس کو تباہی کا تحفہ دیا۔
داعش کی شکست کے بعد عراق میں بین الاقوامی برادری نے 30 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا لیکن ایک تو پوری رقم نہیں دی گئی اور دوسرا جو رقم خرچ بھی ہوئی، اس کا بھی عراق کی سماجی زندگی پہ کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
شام کی خانہ جنگی میں جہاں پانچ لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے وہیں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ دربدر ہوئے اور 90 فیصد آبادی غربت کی گود میں جا گری۔
اس جنگ میں 100 ارب ڈالرز سے زیادہ کا انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوا۔
دوسری جانب شام کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے جہاں ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد جو ملک کے اندر یا باہر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہوئے، ان کی اکثریت آج بھی تعمیر نو کا انتظار کر رہی ہے۔
جس عالمی برادری نے بشار الاسد کے مخالفین کی براہ راست پر یا بالواسطہ حمایت کی انہوں نے بھی شام کی تعمیر نو کے لیے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
ورلڈ بینک کے مطابق تعمیر نو پہ ممکنہ طور پر 141 ارب ڈالرز سے لے کر 343 ارب ڈالرز خرچ ہو سکتے ہیں لیکن شامی حکومت کی وزارت معیشت و صنعت کے مطابق اس پر ایک ہزار ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔
شام کی حکومت نے ابھی تک مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر جو بیرونی کمرشل اور حکومتی اکائیوں کے ساتھ دستخط کیے ہیں ان کی کل لاگت صرف 14 ارب ڈالرز ہے۔
امریکہ اور مغرب کی یوکرین کی جنگ پر توجہ ہونے کی وجہ سے شام کی تعمیر نو کے حوالے سے کوئی خاص رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔
یورپی یونین نے صرف کچھ پابندیاں ہٹائی ہیں اور 20 کروڑ ڈالرز دمشق کو اس ہدایت کے ساتھ دیے ہیں کہ وہ ان کو ادارتی صلاحیتیں بڑھانے، شہری اور دیہی معیشت کا احیا کرنے اور انصاف و احتساب کی کوششوں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے۔
افغانستان آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہا ہے، جہاں آبادی کی ایک بڑی تعداد انتہائی غربت کا شکار ہے۔
لیبیا کی تباہی اور بربادی میں بھی مغرب کا ہاتھ رہا ہے لیکن وہاں کے تعمیر نو کے سوال کو بین الاقوامی فورمز پر اتنے موثر انداز میں اٹھایا نہیں گیا ہے جتنا اس کی ضرورت تھی۔
غزہ کی تباہی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اسرائیل کی دو برسوں سے اس چھوٹی سی پٹی پر جتنا بم بارود استعمال کیا گیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ غزہ میں سات اکتوبر کے حملے کے بعد جس بے دردی سے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا اس نے چنگیز خان کے ظلم و بربریت کو بھی مانند کر دیا۔ غزہ میں ان دو سالوں میں جہاں 70 ہزار کے زیادہ فلسطینی اپنی جانوں سے گئے وہیں پورا خطہ کسی کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ تعمیر نو تو دور کی بات یہاں بنیادی انسانی ضروریات کی ترسیل بھی اسرائیلی بندوشوں سے جکڑی ہوئی ہیں۔
تعمیر نو کے حوالے سے عالمی برادری کے رویے میں واضح امتیاز نظر آتا ہے۔ یوکرین اور روس کی جنگ میں یوکرین میں بڑے پیمانے پہ تباہی ہوئی ہے اور اس کی تعمیر نو کے لیے 524 ارب ڈالرز درکار ہوں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شام، افغانستان، عراق اور دوسرے جنگ زدہ ممالک کی تباہی کے برعکس مغربی دنیا کی یوکرین کی تعمیر نو پہ بھرپور توجہ ہے حالانکہ جنگ ابھی ختم بھی نہیں ہوئی ہے۔
آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی نیوز) کے مطابق ہفتے کو یورپی یونین 160 ارب ڈالرز کا قرضہ یوکرین کو دینے پر اتفاق کیا ہے جو دفاعی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ رقم ان اربوں ڈالرز کے علاوہ ہے جو جنگ کے شروع ہونے سے لے کر اب تک امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی یوکرین پہ خرچ کر چکے ہیں۔ یوکرین کی تعمیر نو کے حوالے سے بھی مغرب نے مخلتف فورمز پہلے ہی تشکیل دے دیئے ہیں۔
تعمیر نو کے حوالے سے مغرب کے معیار دہرے ہیں۔ جہاں مارشل پلان نے یورپ کی معیشت کو بہتر کر کے عوام الناس کے لیے آسانیاں پیدا کیں، وہیں عراق یا دوسرے ممالک میں اس تعمیر نو کے نام پر مغربی ممالک کی کمپنیوں کوفائدہ پہنچایا گیا جبکہ عوام آج بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
ایک طرف یوکرین کی تعمیر نو کے حوالے سے ابھی سے ہی منصوبے بنانے شروع کر دیے گئے ہیں وہیں غزہ، شام، لیبیا، افغانستان سمیت دوسرے ممالک کے لیے ایسے کوئی منصوبے زیر بحث نہیں لائے گئے نہ ہی ان کے لیے کوئی موثر فورمز بنائے گئے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
<p>چھ جولائی، 2025 کو غزہ سٹی کے علاقے شیخ رضوان میں فلسطینی بچے ایک تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے پر جاری ریسکیو آپریشن دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/CYw5Gzy