پاکستان کا غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونا بظاہر ایک ایسا فیصلہ دکھائی دیتا ہے جو جذباتی طور پر مشکل، سیاسی طور پر حساس اور اخلاقی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مگر خارجہ پالیسی کی تاریخ ایک نہایت تلخ مگر مسلسل دہراتی جانے والی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ جو ریاستیں فیصلوں کے عمل سے خود کو الگ کر لیتی ہیں، وہ نہ صرف نتائج پر اثر انداز نہیں ہو پاتیں بلکہ بالآخر انہی فیصلوں کے بوجھ تلے آ جاتی ہیں جن میں ان کی کوئی شرکت نہیں ہوتی۔ عالمی سیاست میں کمرے سے باہر بیٹھنا وقتی طور پر اخلاقی اطمینان تو فراہم کر سکتا ہے، مگر یہ اطمینان کسی جنگ کو روکنے، کسی انسانی المیے کو تھامنے یا کسی بحران کی سمت بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
غزہ کی موجودہ صورت حال محض ایک انسانی بحران نہیں رہی بلکہ یہ عالمی نظام کی اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ شہری آبادی پر مسلسل اور بے دریغ حملے، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور پناہ گاہوں کی تباہی، امدادی راستوں کی بندش، خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت اور لاکھوں افراد کی جبری بے گھری ایک ایسا منظرنامہ پیش کر رہی ہے جو تاریخ کے بدترین ابواب کی یاد دلاتا ہے۔
اس کے باوجود عالمی ردعمل زیادہ تر بیانات، قراردادوں اور علامتی احتجاج تک محدود رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت، مفادات اور جغرافیائی سیاست اخلاقیات پر غالب آ چکے ہیں، اور جارحانہ خارجہ پالیسی اب ایک استثنا نہیں بلکہ نیا معمول بنتی جا رہی ہے۔
ایسے ماحول میں یہ تصور کرنا کہ محض اخلاقی مذمت، یک طرفہ موقف یا خود کو الگ تھلگ رکھ کر کسی بحران کا رخ موڑا جا سکتا ہے، تاریخ کے تجربات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ خارجہ پالیسی کا حساب کتاب ہمیشہ اخلاقی خواہشات پر نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں، طاقت کے توازن اور دستیاب گنجائش کے اندر رہتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اگر عالمی فیصلے واقعی اخلاقی بنیادوں پر ہوتے تو روانڈا میں نسل کشی نہ ہوتی، بوسنیا میں سربرینیتسا کا سانحہ نہ پیش آتا، اور فلسطین دہائیوں سے ایک حل طلب مسئلہ نہ رہتا۔ ان تمام المیوں میں ایک قدر مشترک رہی: عالمی برادری کی تاخیر، تذبذب اور فیصلہ کن شمولیت کا فقدان۔
یہاں تاریخ کے وہ واقعات خاص طور پر اہم ہو جاتے ہیں جہاں بظاہر ناممکن، اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول اور سیاسی طور پر متنازع دکھائی دینے والی کثیرالجہتی کوششوں نے بالآخر خونریزی کو روکا۔ بوسنیا کی جنگ کے دوران یورپ کے قلب میں ہونے والی نسلی تطہیر کے باوجود عالمی ضمیر طویل عرصے تک مفلوج رہا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، مذمتی بیانات اور محدود امن مشن قتلِ عام کو روکنے میں ناکام رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جب بالآخر بڑی طاقتیں ایک میز پر بیٹھیں تو جو معاہدہ سامنے آیا وہ مکمل انصاف پر مبنی نہیں تھا۔ اس نے زمینی حقائق کو بڑی حد تک تسلیم کیا اور ایسے کرداروں کو بھی عمل کا حصہ بنایا جنہیں اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود ایک حقیقت ناقابلِ تردید ہے: بڑے پیمانے پر قتل عام رک گیا اور تین دہائیوں سے دوبارہ شروع نہیں ہوا۔
اسی طرح مشرقی تیمور میں آزادی کے ریفرنڈم کے بعد ہونے والی خونریزی اس وقت رکی جب علاقائی اور عالمی طاقتیں کثیرالجہتی دباؤ اور مشترکہ مداخلت پر آمادہ ہوئیں۔ یہاں بھی کسی اخلاقی بیداری نے کردار ادا نہیں کیا بلکہ ایک منظم بین الاقوامی فریم ورک نے طاقت کے بے لگام استعمال کی قیمت بڑھا دی۔ کمبوڈیا میں نسل کشی اور طویل خانہ جنگی کے بعد امن اسی وقت ممکن ہوا جب سرد جنگ کے متحارب فریقوں نے اپنی نظریاتی ضد کے باوجود ایک مشترکہ راستہ اختیار کیا۔
سابقہ دشمنوں، حتیٰ کہ ایسے عناصر کو بھی سیاسی عمل میں جگہ دی گئی جن پر سنگین الزامات تھے، مگر اس شمولیت نے کم از کم قتل و غارت کے تسلسل کو توڑ دیا۔
افریقہ میں سیرالیون کی خانہ جنگی بھی ایک تکلیف دہ مگر سبق آموز مثال ہے۔ وہاں امن معاہدے کو اس لیے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ اس میں جنگی جرائم کے مرتکب عناصر کو وقتی رعایت دی گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد قتل و غارت بند ہوئی، ریاستی ڈھانچہ بحال ہوا اور بعد ازاں احتساب کے لیے الگ ادارہ جاتی راستہ بھی نکالا گیا۔ انصاف کو مؤخر کر کے جانیں بچائی گئیں، اور یہی ترتیب اکثر ایسے حالات میں واحد قابلِ عمل راستہ ثابت ہوتی ہے۔
یہ تمام مثالیں ایک بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہیں: عالمی سیاست میں اخلاقیات اور انسانی تحفظ ایک ہی مرحلے پر ہمیشہ ممکن نہیں ہوتے۔ بعض اوقات مکمل انصاف کے انتظار میں لاکھوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، جبکہ ناقص مگر عملی معاہدے کم از کم خونریزی روک دیتے ہیں۔
فلسطین اور غزہ کے معاملے میں بھی یہی تلخ حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ یہاں طاقت کا توازن یکسر یک طرفہ ہے اور اسی لیے کثیرالجہتی فورمز کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اگر مسلم دنیا، ترقی پذیر ممالک اور چند بااثر ریاستیں کسی نہ کسی سطح پر ایک مشترکہ عمل میں شامل نہیں ہوں گی تو یہ مسئلہ ہمیشہ طاقتور فریق کے یک طرفہ فیصلوں کے تابع رہے گا۔
غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ کسی جارحیت کی توثیق نہیں بلکہ ایک سفارتی حقیقت کا اعتراف ہے۔ اگر پاکستان اس عمل سے باہر رہتا تو اس کے پاس سوائے مذمت اور احتجاج کے کوئی مؤثر ذریعہ نہ ہوتا۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جو ریاستیں مذاکراتی عمل سے خود کو الگ کر لیتی ہیں، وہ بعد میں ہونے والے فیصلوں میں اپنے لیے کوئی گنجائش پیدا نہیں کر پاتیں۔ افغانستان میں طویل جنگ ہو یا ایران کے ایٹمی مذاکرات، غیر موجودگی نے ہمیشہ کمزور پوزیشن کو مزید کمزور کیا ہے۔
یہ فیصلہ داخلی سطح پر مشکل ضرور ہے کیونکہ عوامی جذبات فطری طور پر غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں۔ مگر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کو جذبات اور حکمت کے درمیان توازن قائم کرنا ہو گا۔ خارجہ پالیسی کا مقصد داخلی جذبات کی تسکین نہیں بلکہ قومی مفاد کے ذریعے انسانی اثر پذیری پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پیس بورڈ میں موجودگی پاکستان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، اور سیاسی عمل کی بحالی جیسے نکات کو مسلسل عالمی ایجنڈے پر رکھ سکے۔
تاہم یہ شمولیت محض علامتی نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کو فعال سفارت کاری، ہم خیال ریاستوں کے ساتھ ہم آہنگی اور مستقل مؤقف کے ذریعے اس عمل کو بامعنی بنانا ہو گا۔ جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس اور قابلِ عمل تجاویز، جیسے مرحلہ وار جنگ بندی، امدادی کارروائیوں کی شفاف نگرانی اور طویل المدتی سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی قانون پر مبنی فریم ورک، ہی پاکستان کی موجودگی کو وزن دے سکتے ہیں۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں غیر فعالیت خود ایک فیصلہ بن چکی ہے، اور اکثر یہ فیصلہ مظلوموں کے خلاف جاتا ہے۔ اگر موجودہ جمود برقرار رہا تو غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرے گا اور دنیا ایک اور بڑے انسانی المیے کی خاموش گواہ بن جائے گی۔ تاریخ بار بار ثابت کر چکی ہے کہ جب عالمی برادری نے بروقت اور مؤثر کردار ادا نہیں کیا تو اس کی قیمت ہمیشہ عام شہریوں نے چکائی۔ اس پس منظر میں کمرے کے اندر موجود ہونا، چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، کم از کم اس امکان کو زندہ رکھتا ہے کہ کسی موڑ پر بات آگے بڑھ سکے۔
غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کسی فوری یا حتمی کامیابی کی ضمانت نہیں، مگر یہ ایک حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ قدم ضرور ہے۔ خارجہ پالیسی میں اکثر بہترین انتخاب وہ نہیں ہوتا جو سب سے زیادہ مقبول ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو کم نقصان دہ اور طویل المدتی مفادات کے لیے زیادہ موزوں ہو۔
اگر پاکستان واقعی غزہ اور فلسطین کے عوام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے نعروں سے آگے بڑھ کر اسی مشکل مگر ضروری راستے پر چلنا ہو گا، کیونکہ عالمی سیاست میں تاریخ ہمیشہ وہی لکھتے ہیں جو کمرے کے اندر موجود ہوتے ہیں، نہ کہ وہ جو باہر کھڑے ہو کر صرف احتجاج کرتے رہ جاتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
(ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ماہر بین الاقوامی امور ہیں اور ایریا سٹڈی سنٹر برائے افریقہ، جنوبی و شمالی امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں)
<p class="rteright">وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جنوری، 2026 کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کے دوران منعقد ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ اجلاس میں (اے ایف پی)<br />
</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/NKMQI8p