اگر سو لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ کی تعریف کریں تو یہ خوشی قدرتی لگتی ہے۔
لیکن جب وہی سو لوگ سوشل میڈیا پر آپ کی پوسٹ کو لائک کریں تو اکثر یہ تعداد کم کیوں محسوس ہوتی ہے؟
ہم سب سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ لائکس کو اپنی اہمیت اور قدر کا پیمانہ سمجھنے لگتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لائکس صرف لمحاتی خوشی دیتے ہیں اور مستقل خوداعتمادی پیدا نہیں کرتے۔
امریکہ کی سرکاری ویب سائٹ PUBMED پر شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب کسی پوسٹ پر توقع سے کم لائکس آتے ہیں تو اس کا اثر واقعی انسان کے دل و دماغ پر پڑتا ہے۔
ایسے میں انسان اداس ہو سکتا ہے۔ بے چینی محسوس کرتا ہے۔ یا خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔
سوشل میڈیا کے لائکس کبھی بھی کافی نہیں ہوتے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ محض وقتی اور ظاہری تعریف کا احساس دلاتے ہیں جو ایک مختصر سی خوشی یعنی ’ڈوپامین رش‘ پیدا کرتا ہے۔
یہ خوشی جلد ختم ہو جاتی ہے اور انسان پھر سے مزید لائکس کا منتظر ہو جاتا ہے۔
یہ پورا عمل ’سوشل کمپیریزن‘ کے گرد گھومتا ہے۔
ہم مسلسل اپنے لائکس اور میٹرکس کا دوسروں سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔
اسی موازنہ بازی کے نتیجے میں انسان کے اندر مستقل ناکافی ہونے کا احساس جنم لینے لگتا ہے جسے ماہرین ’کرونک اِن ایڈی کویسی‘ کہتے ہیں۔
اسی تناظر میں معروف امریکی کمپیوٹر سائنس دان جیرون لینیئر کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا آپ کو بہتر بنانے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ آپ کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔‘
<p>آسٹریلیا نے دس دسمبر 2025 سے کم عمر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو فیس بک انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر بچوں کی لت بننے والی اسکرولنگ کو روکنے کے لیے دنیا کی پہلی بڑی کارروائی قرار دی جا رہی ہے (سعید خان / اے ایف پی)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/z1NIj6H