گرنے سے ’ہئیر لائن فریکچر‘ کے باجود اسحاق ڈار نے ملاقاتیں جاری رکھیں: بیٹا

News Inside

پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اتوار کو مصری وزیر خارجہ کے استقبال کے دوران پھسل کر گر گئے جس کے بعد ان کے بیٹے نے رات گئے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ان کے والد کو ’کندھے میں ہیئر لائن فریکچر ہے۔‘

اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کے دوران اتوار کو جب مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبد العاطی وزارت خارجہ پہنچے تو استقبال کے موقعے پر اسحاق ڈار پھسل کر گر گئے۔

تاہم وہ فوراً ہی کھڑے ہو گئے اور معمول کے مطابق سٹیج پر مصری وزیر خارجہ کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔

نائب وزیراعظم کے بیٹے علی ڈار نے اتوار کو دیر گئے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ’اسحاق ڈار صاحب نے آج مصر کے وزیر خارجہ کے استقبال کے دوران چوٹ لگنے کے باوجود پورا دن پین کلرز لے کر انتہائی اہمیت کی حامل تمام میٹنگز الحمدللہ احسن طریقے سے مکمل کیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علی کے مطابق ان کے والد نے اتوار کی رات تقریباً نو بجے سرکاری بیان کی ریکارڈنگ اور پاکستان کے لیے ایک بڑے دن کے بہترین اختتام کے بعد فیملی کے اصرار پر طبی معائنہ کروایا۔

’ان کے x-rays الحمدللہ مجموعی طور پر ٹھیک ہیں۔ کندھے میں ایک ہیئر لائین فریکچر ہے۔ اگلے چند روز ان کی درد کو دوائیوں اور دیگر احتیاطی اقدامات کے ذریعے مینج کیا جائے گا ۔‘

پاکستان اور دیگر مسلم ممالک امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں اور اسحاق ڈار اس سلسلے میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں پاکستان نے ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں میزبانی کی۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد نے گرنے کے بعد دن بھر درد کش دوا لے کر تمام سفارتی سرگرمیاں انجام دیں۔
سوموار, مارچ 30, 2026 - 08:45
Main image: 

<p>پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار 29 مارچ، 2026 کو اسلام آباد میں واقع وزارت خارجہ کی عمارت&nbsp;میں مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبد العاطی کا استقبال کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
گرنے سے ’ہئیر لائن فریکچر‘ کے باجود اسحاق ڈار نے ملاقاتیں جاری رکھیں: بیٹا


from Independent Urdu https://ift.tt/gV7ZfwX

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;