دو ٹوٹے ہوئے برتن اور ایک انسان

News Inside

پوری دنیا میں کوئی دو برتن ایک جیسے پیٹرن پہ ٹوٹے ہوں گے؟

ٹوٹی ہوئی چیز ہم پھینک دیتے ہیں اور پھٹے کپڑے اپنے یہاں شدید ترین غربت کی علامت ہیں۔

خدا معاف کرے ایسے حالات کہ جب سفید پوشی بھی قائم نہ رہے اور انسان فقر کی طرف گر رہا ہو، تب پھٹے ہوئے کپڑے ہمارے یہاں پہنے جاتے ہیں۔

دنیا جب سے سمٹی ہے چیزوں کے نئے زاویے دیکھنا آسان ہو گیا ہے۔

ٹوٹے ہوئے برتنوں کو جوڑ کر باقاعدہ عزت کے ساتھ سنبھالنے کا فن جاپان میں کینٹسوگی کہلاتا ہے اور پھٹے ہوئے کپڑوں کو ساشیکو ٹانکے سے ایسا بناتے ہیں کہ وہ پہلے سے بڑھ کے خوبصورت لگتے ہیں۔

جاپانی سونے، چاندی یا پلاٹینیم کے ذرات کو گوند سے ملا کر مکسچر سا بناتے ہیں اور برتن کی دراڑوں میں اس طرح بھرتے ہیں کہ وہ بے ترتیب لکیریں ایک خوبصورت فن پارہ بن جاتی ہیں۔

تو سوال یہ تھا کہ پوری دنیا میں آج تک جتنے برتن یا گلدان کرچی کرچی ہوئے ان میں سے کوئی دو بالکل ایک پیٹرن پہ ٹوٹے ہوں گے؟

اس کا جواب ہے نہیں، ناممکن ہے کہ دو برتن ٹوٹیں اور بالکل ایک ہی جیسے طریقے سے ان میں دراڑیں نمودار ہوں۔

جیسے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں ہمارے، بس ویسے ہی سونے کی گوند سے جڑے وہ جاپانی برتن اپنی ذات میں بالکل الگ شناخت رکھنے والی چیز ہوتے ہیں۔

ہر پیالہ، ہر گلدان، ہر گلاس، ہر شیشہ ۔۔۔ بالکل الگ، انوکھا اور پوری دنیا میں صرف ایک۔

ساشیکو ٹانکا مجھے جنون کی حد تک پسند ہے۔ جیسے ادھر رلّی بناتے ہیں ہمارے لوگ، اس پہ جو ہاتھ سے سلائی کا طریقہ ہوتا ہے، وہ لوگ اسی کام کو باقاعدہ لائنیں کھینچ کر شدت کی نفاست سے کرتے ہیں۔

سوئی دھاگے کی ایک ایک جنبش انتہائی نپی تلی ہوتی ہے اور گھوم پھر کے سمجھ لیجے انتہائی خوبصورت جیومیٹریکل ڈیزائن نما کوئی چیز اس جگہ نمودار ہو جاتی ہے جہاں پیوند لگانا مقصود ہوتا ہے۔

تو ٹوٹے ہوئے برتنوں اور پھٹے کپڑے کے ساتھ جو طریقہ ہم لوگ روا رکھتے ہیں اسی طرح کا معاملہ تب ہوتا ہے جب کوئی اپنی تکلیف بتا رہا ہو اور ہم کہیں کہ بالکل، میں تمہاری بات سمجھتا ہوں، لیکن یار، دنیا ہے، یہی سب ہوتا ہے، ہر ایک اسی چیز سے گزرتا ہے، برداشت کرو، خیر ہے۔

ہر کرچی کا الگ نقش ہوتا ہے، ہر شکست کی الگ شدت اور ہر انسان کے بکھر کے سنبھلنے کا پیٹرن دوسرے سے بالکل علیحدہ ہوتا ہے۔

میں اگر یہ کہوں کہ یار تمہارا غم برحق ہے اور ساتھ یہ بتاؤں کہ میرے ساتھ بھی عین ایسا ہی ہوا تھا تو یہ اس انسان کو رد کرنے جیسا لگے گا۔

اس نے مجھے خالی نظروں سے دیکھنا ہے اور دل میں سوچنا ہے کہ اس سے بہتر تھا بات ہی نہ کی جاتی۔

دیکھیں شیشہ ٹوٹا ہے اور ہر بار الگ پیٹرن بنا ہے تو ایسا کیوں ہوا؟

وہ کس زاویے سے گرا، گرنے کی شدت کیا تھی، کس سطح سے ٹکرایا، پہلے اس برتن میں کہاں کہاں ہلکی دراڑیں موجود تھیں، وہ بنا ہوا کس مٹی کا تھا، اس وقت سردی یا گرمی کتنی تھی، یہ سب فریکچر مکینکس طے کرتی ہیں کہ اس چیز نے کیسے ٹکڑوں میں بدلنا ہے۔

دنیا میں غم کا ہونا کانسٹنٹ ہے لیکن فریکچر مکینیکس یہاں ویری ایبل ہوتی ہیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب کوئی دل ٹوٹا ہے، کچھ نقصان ہوا ہے، دنیا سے کوئی قریبی شخص چلا گیا، علیٰ ھذا القیاس، جو بھی دکھ ہے، اس کا ایک انسان پہ اثر انداز ہونا ساڑھے سات ارب لوگوں میں ایک ہی پیٹرن پہ نہیں ہو گا، بس یہ بات سمجھ لیجے۔

جب یہ بات ہم جان لیتے ہیں تو ہم اوپر سے آنے کی کوشش نہیں کرتے، تھم جاتے ہیں، احترام کرتے ہیں دکھ میں مبتلا انسان کا اور اس کی ان دراڑوں کا جنہیں جوڑ کر خود اس نے کینٹسوگی سے گزرنا ہے، اور اس عمل کے دوران ہم بس ایک گوند ہیں۔

سونے، چاندی یا پلاٹینیم کی، یہ ہمارے رویوں پہ منحصر ہو گا۔

اور وہ جو ساشیکو ٹانکا ہے وہ اپنی ذات کو کیری کرنے کا طریقہ ہے۔ آپ خستہ حالی کو کیسے ڈیل کرتے ہیں، اپنی پریشانی دوسروں کو کس حد تک دکھاتے ہیں، اور پھر اپنے نقصان کے ساتھ کس طرح موو آن کرتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ خوبصورت دکھائی دیں، یہ فن آپ کا اپنا آرٹ ہے۔

ٹوٹے برتنوں اور پھٹے کپڑوں سے ہم لوگ اسی لیے دور رہتے ہیں کہ ہمیں بچپن سے ڈسپوزایبل زندگی سکھائی گئی ہے، ایک وضع بتائی گئی ہے کہ بھئی یہ کم از کم سٹینڈرڈ ہے۔

سمٹتی دنیا اور نئے زاویوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ ہمارے ’کم از کم سٹینڈرڈ‘ غلط تھے۔

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا، غالب والا یہ معاملہ زندگی کی ہر چیز کو کیژول کر دیتا ہے۔ یہ لاپروائی ہے۔ سلیقہ کینٹسوگی میں ہے، وضع داری ساشیکو میں ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ناممکن ہے کہ دو برتن ٹوٹیں اور بالکل ایک ہی جیسے طریقے سے ان میں دراڑیں نمودار ہوں۔ جیسے فنگر پرنٹس ہوتے ہیں ہمارے، بس ویسے ہی سونے کی گوند سے جڑے وہ جاپانی برتن اپنی ذات میں بالکل الگ شناخت رکھنے والی چیز ہوتے ہیں۔
سوموار, مارچ 9, 2026 - 08:30
Main image: 
jw id: 
jaTUR4rZ
type: 
SEO Title: 
دو ٹوٹے ہوئے برتن اور ایک انسان


from Independent Urdu https://ift.tt/y26Cqow

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
<div class='sticky-ads' id='sticky-ads'> <div class='sticky-ads-close' onclick='document.getElementById("sticky-ads").style.display="none"'><svg viewBox='0 0 512 512' xmlns='http://www.w3.org/2000/svg'><path d='M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z'/></svg></div> <div class='sticky-ads-content'> <script type="text/javascript"> atOptions = { 'key' : '9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75', 'format' : 'iframe', 'height' : 90, 'width' : 728, 'params' : {} }; document.write('<scr' + 'ipt type="text/javascript" src="http' + (location.protocol === 'https:' ? 's' : '') + '://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js"></scr' + 'ipt>'); </script> </div> </div> </div> </div>