اسے پاکستان سے نکال دیا لیکن پاکستان اس سے نہیں

News Inside

میں نے کبھی اس کا نام نہیں پوچھا۔ ہماری گفتگو ایکس (ٹوئٹر) کے ڈی ایم تک محدود تھی۔ کبھی کسی خبر کے پس منظر پر تبادلہ خیال ہوتا تو کبھی زندگی کے ادھورے کناروں پر بات ہوتی۔

اس سال مارچ میں میں نے اسے بتایا کہ میں کراچی کی یادیں سمیٹ کر اسلام آباد منتقل ہوچکا ہوں۔ اس نے خوشی ظاہر کی اور ملاقات کا وعدہ ہوا۔

مگر زندگی اپنی روایت کے مطابق اکثر اہم وعدوں کے بیچ مصروفیت کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ اب اس کی ایک پوسٹ نے بتایا کہ وہ چلا گیا ہے۔

نہیں۔ گیا نہیں بلکہ اسے بھیج دیا گیا ہے۔ تقریباً 37 برس قبل اس نے اسی زمین پر پہلی بار آنکھ کھولی تھی۔

یہیں اس نے لڑکھڑاتے قدموں سے چلنا سیکھا، یہیں خوابوں کی عمارتیں کھڑی کیں اور یہیں اپنے ہونے کا مطلب پایا۔

ڈیجیٹل دنیا کے لاکھوں فالورز اسے ’اسلام آبادیز‘ کے نام سے جانتے تھے لیکن اگر آج میں اسے کوئی نام دوں تو شاید ’پاکستان‘ کہوں کیونکہ اس کا عمل اور اس کی گفتگو پاکستان سے محبت کا خلاصہ تھی۔

اس کا قصور؟ بس اتنا کہ وہ ان والدین کے گھر پیدا ہوا جو جنگ کی آگ سے بچنے کے لیے سرحد پار افغانستان سے ہجرت کر کے آئے تھے۔

وہ جنگ، جسے نہ اس نے چنا، نہ سمجھا اور نہ ہی کبھی لڑی۔ نہ سوویت یونین کے آنے میں اس کا کوئی مشورہ شامل تھا، نہ اسے نکالنے کے ’جہاد‘ میں اس کی کوئی رائے۔

نہ خانہ جنگی اس کی تھی، نہ طالبان کا دورِ اقتدار اس کا فیصلہ، مگر تاریخ کے ان تلخ فیصلوں کی سزا اس کے حصے میں آئی۔

ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ اس المیے کا ذمہ دار کون ہے؟ تاریخ کے پاس فیصلے سنانے کے لیے صدیوں کا وقت ہوتا ہے مگر ’حال‘ تو جیتے جاگتے انسانوں سے سوال کرتا ہے۔

جب نفرت کا بازار گرم ہو اور شناخت کاغذ کے چند ٹکڑوں میں قید ہو جائے تو ہمیں ان چہروں کو یاد رکھنا چاہیے جو سرحدوں کے بغیر محبت کرنا جانتے ہیں۔

’اسلام آبادیز‘ بھی ان ہی میں سے ایک تھا۔ وہ حقوق انسانی کی بات کرتا، ناانصافی پر کڑھتا اور سب سے بڑھ کر اس ملک سے ایسی محبت کرتا جو کسی ثبوت کی محتاج نہ تھی۔

یہ محبت اعلانیہ بھی تھی اور بہت گہری بھی۔ مجھے کراچی کا وہ پناہ گزین کیمپ یاد آ رہا ہے۔

الآصف سکوائر کی وہ تنگ و تاریک گلیاں، جہاں میں نے ایسے بے شمار چہرے دیکھے جو پاکستان کو اپنا گھر کہتے تھے، بغیر کسی شناختی کارڈ کے ثبوت کے۔

ان ہی میں ایک نام آغا سید مصطفیٰ کا بھی ہے، جو پناہ گزین بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہا تھا اور ایک دن خاموشی سے منظر نامے سے ہٹ گیا یا شاید ڈی پورٹ کر دیا گیا۔

اس کے شاگرد، جن میں اکثریت روشن مستقبل کا خواب دیکھنے والی لڑکیوں کی تھی، وہ بھی اب وہاں نہیں رہے۔ مگر وہ ادھورے خواب اور وہ کتابیں وہیں رہ گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب نہ آغا سید مصطفیٰ یہاں ہے، نہ اس کے شاگرد اور نہ ہی اسلام آبادیز جیسے ہزاروں نوجوان۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ لیکن اس کی ایک آخری اپیل اب بھی قابل توجہ ہے۔

وہ کہتا ہے ’مجھے صرف اتنی مہلت دی جائے کہ میں اپنی برسوں کی محنت سمیٹ سکوں، اپنی بنائی ہوئی زندگی کو باقاعدہ طور پر الوداع کہہ سکوں تاکہ ایک نئی سرزمین پر خالی ہاتھ قدم نہ رکھنا پڑے۔‘

یہ کوئی سیاسی مطالبہ نہیں، یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ ریاستیں جب بے لچک قانون بناتی ہیں تو اکثر بھول جاتی ہیں کہ قوانین کی زد میں گوشت پوست کے انسان بستے ہیں۔

مجھے یقین ہے وہ دکھی ہو گا، یقیناً اندر سے ٹوٹ بھی چکا ہوگا۔ مگر ایک بات میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں، اس کے اندر جو ’پاکستان‘ بستا ہے، اسے کوئی اس کے دل کی سرحدوں کے پار نہیں بھیج سکتا۔

وہ وہیں رہے گا، دل کے اس گوشے میں، جہاں رہنے کے لیے کسی خاص قوم کے شناختی کارڈ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ریاستیں جب بے لچک قانون بناتی ہیں تو اکثر بھول جاتی ہیں کہ قوانین کی زد میں گوشت پوست کے انسان بستے ہیں۔
ہفتہ, مئی 9, 2026 - 07:45
Main image: 

<p class="rteright">ایک افغان خاندان دو نومبر، 2023 کو واپس اپنے ملک جانے کے لیے پاکستان کی طورخم سرحد پر پیدل کراس کر رہا ہے (اے ایف پی/ فاروق نعیم)</p>

type: 
SEO Title: 
اسے پاکستان سے نکال دیا لیکن پاکستان اس سے نہیں


from Independent Urdu https://ift.tt/DfR8qTa

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;