پہلگام میں ایک سال میں زندگی کی رفتار کیسے بدلی، کتنا نقصان ہوا؟

News Inside

پہلگام کی صبح آج بھی اتنی ہی حسین ہے۔ سورج کی نرم کرنیں، پہاڑوں کی خاموشی اور دریائے لِدر کی آواز۔ مگر ان مناظر کے پیچھے زندگی کی رفتار بدل چکی ہے۔

 گائیڈز اب بھی سڑک کنارے کھڑے ہوتے ہیں، مگر پہلے جیسی رونق نہیں۔ ہوٹل مالکان مسکراتے ضرور ہیں، مگر ان کے چہروں پر ایک محتاط انتظار ہوتا ہے۔ بازار کھلے ہیں، مگر خریداری کی رفتار مختلف ہے۔

ایک سال پہلے تک پہلگام کا نام سنتے ہی ذہن میں برف پوش پہاڑ، سرسبز چراگاہیں، دریا لیدر کی شور مچاتی روانی، دیودار کے گھنے جنگلات کی تصویر ابھرتی تھی۔ یہاں آنے والے سیاح اسے جنت ارضی کہتے تھے، اور مقامی لوگ اپنی روزی روٹی، اپنی مہمان نوازی اور اپنے کل کو اسی سیاحت سے وابستہ دیکھتے تھے۔

لیکن ایک سال قبل ہونے والے ہولناک حملے نے اس تصویر کو یکسر بدل دیا۔ اچانک گولیوں، چیخوں اور خوف نے اس خاموش وادی کو عالمی خبروں کی سرخی بنا دیا۔یہ ایک ایسے مقام پر حملہ تھا جو خود کو خوف سے الگ شناخت دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔

 اس واقعے میں 26 افراد کی موت نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ کشمیر کی معیشت، نفسیات اور شناخت کو بھی گہرے زخم دیے۔

آج، اس المناک حملے کو 12 ماہ گزر چکے ہیں، مگر پہلگام کے بارے میں سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ اس دن کیا ہوا تھا؟ بلکہ یہ ہے کہ اس کے بعد یہاں کیا کچھ بدل گیا۔ کیا پہلگام نے خود کو سنبھال لیا؟ کیا سیاحت دوبارہ بحال ہوئی؟ کیا خوف کی فضا کم ہوئی؟ اور کیا یہ خوبصورت قصبہ اپنی پرانی شناخت واپس حاصل کر سکا؟ 

انہی سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو سے وابستہ صحافی انشا نبی نے پہلگام کا دورہ کیا۔ ان کے مشاہدے کے مطابق پہلگام بظاہر اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ آج بھی قائم ہے، لیکن حملے کے اثرات اب بھی اس کی فضا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بازار کھلے ہیں، سیاح واپس آنا شروع ہوئے ہیں، مگر پہلے جیسی بے فکری نظر نہیں آتی۔ 

سکیورٹی انتظامات سخت ہیں، جگہ جگہ نگرانی موجود ہے، اور مقامی لوگوں کی گفتگو میں احتیاط نمایاں ہے۔ ہوٹل، گائیڈز اور چھوٹے کاروبار بحالی کی کوشش میں ضرور ہیں، لیکن معاشی سرگرمیاں اب بھی مکمل طور پر سابقہ سطح پر نہیں پہنچ سکیں۔ پہلگام میں زندگی ضرور واپس لوٹ رہی ہے، مگر یہ واپسی ادھوری ہے۔ ایک ایسی بحالی، جس میں امید بھی شامل ہے اور خوف کی باقی ماندہ پرچھائیاں بھی۔

پہلگام میں پونی رائیڈرز ایسوسی ایشن کے سربراہ عبد الواحد بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفگتو میں کہا کہ اس حملے نے یہاں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور ایک نہایت منفی پیغام دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پہلگام کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سیاحتی موسم پر ہے۔ یہاں ہزاروں خاندان ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری، گھڑ سواری، ریستوران اور مقامی تجارت سے وابستہ ہیں۔ 

’حملے کے بعد جب سیاحوں کی آمد تقریباً رک گئی تو مقامی آبادی کے لیے یہ صرف خوف یا عدم تحفظ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک بڑے معاشی بحران کی صورت اختیار کر گیا۔‘

عبد الواحد بٹ کے مطابق: ’جو ہوٹل پہلے سیاحوں سے بھرے رہتے تھے، وہ اچانک خالی ہو گئے۔ بازاروں کی رونق ماند پڑ گئی، گھوڑے والوں کا روزگار متاثر ہوا، اور بہت سے کاروباری افراد چند ہی ہفتوں میں اپنی سال بھر کی متوقع آمدنی سے محروم ہو گئے۔‘ 

ان کا کہنا ہے کہ پہلگام میں زندگی بحال ہونے کی کوشش ضرور کر رہی ہے، مگر اس حملے کے معاشی اور نفسیاتی اثرات آج بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

عبد الواحد کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بہت سے گھوڑے والوں کی معاشی حالت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ان کے بقول، ’اگر کسی گھوڑے والے کے پاس پہلے چار گھوڑے تھے تو مجبوری میں اسے دو فروخت کرنے پڑے، کیونکہ آمدنی اتنی نہیں رہی کہ وہ ان کا خرچ برداشت کر سکے۔ خاندان کی کفالت ہر حال میں کرنی ہوتی ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے، مگر انہیں کھانا تو دینا ہی پڑتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس حملے نے صرف قیمتی جانیں ہی نہیں لیں بلکہ ہماری روزی روٹی پر بھی گہرا وار کیا۔ خاص طور پر وہ خاندان جو مکمل طور پر سیاحت سے وابستہ ہیں، شدید مالی دباؤ کا شکار ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبد الواحد کی اپیل ہے کہ بائیسرن اور دیگر بند پڑے سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ سیاح واپس آئیں، مقامی کاروبار بحال ہو، اور ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔

کاروباری شخصیت شیراز احمد کا کہنا ہے کہ پہلگام میں سیاحت بتدریج بحال ہو رہی ہے، اگرچہ اس عمل میں وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق، 'جس طرح کوئی زخمی شخص فوری طور پر صحت یاب نہیں ہوتا بلکہ مکمل بحالی کے لیے وقت لیتا ہے، اسی طرح یہاں کی سیاحت بھی آہستہ آہستہ اپنے قدم جما رہی ہے۔‘ 

وہ کہتے ہیں کہ حملے کے بعد حالات یقیناً متاثر ہوئے، مگر اب بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ انہیں امید ہے کہ مزید سیاح پہلگام کا رخ کریں گے، یہاں کی بے مثال قدرتی خوبصورتی، جنت نظیر وادیوں کی سیر کریں گے، خریداری کریں گے، اور مقامی کاروبار کو دوبارہ فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

حملے کے اثرات اب بھی اس کی فضا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بازار کھلے ہیں، سیاح واپس آنا شروع ہوئے ہیں، مگر پہلے جیسی بے فکری نظر نہیں آتی۔
جمعہ, مئی 8, 2026 - 08:45
Main image: 

<p class="rteright">پہلگام حملے کے اثرات اب بھی اس کی فضا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)</p>

jw id: 
X74MKk3A
type: 
SEO Title: 
پہلگام میں ایک سال میں زندگی کی رفتار کیسے بدلی، کتنا نقصان ہوا؟


from Independent Urdu https://ift.tt/OlCIoP7

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;