ٹک ٹاک ویڈیوز پر صوابی میں نوجوان قانون کی زد میں کیوں آئے؟

News Inside

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس کے مطابق گذشتہ ہفتے عوامی شکایات، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور مقامی رپورٹس پر متعدد ٹاک ٹاکرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔

صوابی پولیس کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقاص رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جمعرات اور جمعے کے دوران مختلف علاقوں سے آٹھ ٹک ٹاکرز کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر افراد کو ٹک ٹاک ویڈیوز یا لائیو سیشنز میں ’اسلحے کی نمائش، نازیبا زبان کے استعمال‘ اور بعض کیسز میں ’ریاستی اداروں کے خلاف گفتگو‘ پر گرفتار کیا گیا۔

گرفتار کیے جانے والے ٹاک ٹاکرز میں صوابی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ طاہر علی عرف ’کوکو‘ بھی شامل ہیں۔

انہوں نے گرفتاری کے بارے میں بتایا کہ جمعرات کی رات تقریباً 11 بجے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ گھر میں بیٹھے تھے کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ باہر پولیس اہلکار موجود تھے، جنہوں نے انہیں اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ اس وقت نہ انہیں اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو معلوم تھا کہ معاملہ کیا ہے۔

’ہم سب پریشان ہو گئے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر میرا جرم کیا ہے۔‘

طاہر علی کے مطابق تھانے پہنچنے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

بعد میں پولیس نے انہیں ان کی ٹک ٹاک ویڈیوز دکھائیں، جن میں پشتو کامیڈی، لپ سنک اور دوستوں کے ساتھ بنائی گئی مختصر ویڈیوز شامل تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں زیادہ تر مزاحیہ ویڈیوز بناتا تھا تاکہ لوگ ہنس سکیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری ویڈیوز بھی کسی قانونی مسئلے کا باعث بن سکتی ہیں۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف کسی ذاتی رنجش یا شکایت کی بنیاد پر رپورٹ کی گئی۔ ایک رات اور ایک دن تھانے میں گزارنے کے بعد ان کے بھائی نے صوابی کی شاہ منصور عدالت سے رجوع کیا، جس کے بعد انہیں رہائی ملی۔

طاہر علی کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان سے ’معافی کی ویڈیو بھی ریکارڈ کروائی‘، تاہم اب بھی انہیں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی کون سی ویڈیو یا جملہ قانون کی خلاف ورزی میں شامل تھا۔

’مجھے نہیں پتہ تھا کہ لوگوں کو ہنسانا بھی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلعی پولیس آفیسر کے مطابق ضلع میں اب تک 50 سے زائد افراد کے خلاف سوشل میڈیا سے متعلق مقدمات یا کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔

ان کے بقول کئی کیسز میں اہل خانہ بھی پولیس کارروائی کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو مزید مسائل میں ڈال سکتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں سوشل میڈیا سے متعلق کارروائیوں کا دائرہ صرف صوابی تک محدود نہیں۔

پشاور سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 2026 میں صوبے کے مختلف اضلاع میں سوشل میڈیا کرائمز کے تحت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مانسہرہ میں نو، ضلع خیبر میں پانچ، کرم میں 35، چترال میں ایک، بٹگرام میں پانچ جبکہ پشاور میں سب سے زیادہ 129 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ان کیسز میں اسلحے کی نمائش، مذہبی حساسیت، نازیبا زبان، دھمکی آمیز مواد اور ایسے سوشل میڈیا مواد کو شامل کیا گیا ہے جسے حکام امن و امان یا سماجی ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔

سینٹرل پولیس آفس کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز عبدالسلام خالد نے بتایا کہ ماضی میں سائبر کرائم سے متعلق زیادہ تر کیسز نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے دائرہ کار میں آتے تھے، تاہم ورک لوڈ بڑھنے کے بعد پولیس نے بھی اپنے طور پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور کارروائیاں شروع کیں۔

ان کے مطابق مذہبی تنازعات، اسلحے کی نمائش، اشتعال انگیز مواد اور ایسے آن لائن مواد پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔

عبدالسلام خالد نے اس بارے میں مزید بتایا کہ ضلع کرم میں مذہبی تنازعے کے دوران بھی اشتعال انگیز پوسٹس اور ویڈیوز کے خلاف کارروائیاں کی گئیں تاکہ صورت حال مزید خراب نہ ہو اور کشیدگی نہ پھیلے۔

’اکثر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ سوشل میڈیا کے ڈائنامکس کیا ہیں۔ بعض افراد ویوز، فالوورز اور مانیٹائزیشن کی خاطر ایسا مواد بناتے ہیں جو معاشرتی بگاڑ یا تنازعے کا سبب بنتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے لوگوں کو سمجھایا جائے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے وقتاً فوقتاً آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

طاہر علی جیسے افراد کی لاعلمی کے سوال پر عبدالسلام خالد کا کہنا تھا کہ ’قانون سے لاعلمی قابل قبول جواز نہیں۔ ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ آن لائن مواد کے قانونی اور سماجی اثرات کو سمجھے۔‘

خیبر پختونخوا میں سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے ساتھ آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی اور کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب بعض کانٹینٹ کریئیٹرز کا کہنا ہے کہ واضح حدود اور پالیسیوں سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے باعث بعض اوقات تفریحی مواد بھی قانونی تنازعے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

صوابی پولیس کے ضلعی پولیس آفیسر وقاص رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جمعرات اور جمعے کے دوران مختلف علاقوں سے آٹھ ٹک ٹاکرز کو گرفتار کیا گیا۔
منگل, مئی 12, 2026 - 08:30
Main image: 

<p>صوابی پولیس نے گذشتہ ہفتے اپنے فیس بک پر گرفتار کیے گئے ٹک ٹاکرز کی تصاویر جاری کیں (صوابی پولیس/ فیس بک)</p>

type: 
SEO Title: 
ٹک ٹاک ویڈیوز پر رات گئے گرفتاری: صوابی میں نوجوان قانون کی زد میں کیوں آئے؟


from Independent Urdu https://ift.tt/m8VRY4F

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Accept !
&lt;div class=&#039;sticky-ads&#039; id=&#039;sticky-ads&#039;&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-close&#039; onclick=&#039;document.getElementById(&amp;quot;sticky-ads&amp;quot;).style.display=&amp;quot;none&amp;quot;&#039;&gt;&lt;svg viewBox=&#039;0 0 512 512&#039; xmlns=&#039;http://www.w3.org/2000/svg&#039;&gt;&lt;path d=&#039;M278.6 256l68.2-68.2c6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0L256 233.4l-68.2-68.2c-6.2-6.2-16.4-6.2-22.6 0-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3l68.2 68.2-68.2 68.2c-3.1 3.1-4.7 7.2-4.7 11.3 0 4.1 1.6 8.2 4.7 11.3 6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0l68.2-68.2 68.2 68.2c6.2 6.2 16.4 6.2 22.6 0 6.2-6.2 6.2-16.4 0-22.6L278.6 256z&#039;/&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt; &lt;div class=&#039;sticky-ads-content&#039;&gt; &lt;script type=&quot;text/javascript&quot;&gt; atOptions = { &#039;key&#039; : &#039;9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75&#039;, &#039;format&#039; : &#039;iframe&#039;, &#039;height&#039; : 90, &#039;width&#039; : 728, &#039;params&#039; : {} }; document.write(&#039;&lt;scr&#039; + &#039;ipt type=&quot;text/javascript&quot; src=&quot;http&#039; + (location.protocol === &#039;https:&#039; ? &#039;s&#039; : &#039;&#039;) + &#039;://www.profitablecreativeformat.com/9325ac39d2799ec27e0ea44f8778ce75/invoke.js&quot;&gt;&lt;/scr&#039; + &#039;ipt&gt;&#039;); &lt;/script&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt; &lt;/div&gt;