جدید ڈیجیٹل دور میں شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات کے انداز بدلنے کے ساتھ روایتی ڈھول بجانے والوں کا روزگار بھی متاثر ہونے لگا ہے۔
ایکو ساؤنڈ، ڈی جے اور اونچے میوزک کے بڑھتے رجحان نے کراچی کے ڈھول والوں کی مانگ میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے باعث کئی فنکار اب سڑک کنارے گاہکوں کے انتظار میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔
کراچی کے علاقے گرو مندر کے قریب فٹ پاتھ پر ڈھول لیے بیٹھے استاد ظفر حسین دوپہر سے رات تک کسی گاہک کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا شاگرد ریحان بھی موجود ہوتا ہے، جو ڈھول بجا کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے استاد ظفر حسین نے کہا: ’لاؤڈ سپیکر، ڈی جے اور ایکو ساؤنڈ آنے کے بعد ڈھول بجانے والوں پر بہت اثر پڑا ہے۔ اب ہماری وہ اہمیت نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔
’لوگ اب ڈھول بجانے سے منع کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک ہفتے تک کوئی تقریب نہیں ملتی، جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد بھی یہی کام کرتے تھے اور انہوں نے کم عمری میں یہ فن سیکھا۔
’میں نے 13 یا 14 سال کی عمر میں ڈھول بجانا سیکھنا شروع کیا تھا، تقریباً دو سال لگے اس فن میں مہارت حاصل کرنے میں، اب اس عمر میں ہم سے کوئی اور کام بھی نہیں ہوتا۔‘
استاد ظفر کے مطابق وہ روزانہ گرو مندر کے فٹ پاتھ پر کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں تاکہ اگر کسی کو ڈھول والے کی ضرورت ہو تو وہ انہیں ساتھ لے جائے، لیکن اب کبھی کبھی ہفتوں تک کوئی کام نہیں ملتا۔
انہوں نے مزید کہا: ’ہم تو اس پیشے میں پھنس گئے، لیکن اب بچوں کو اس شعبے میں نہیں لانا چاہتے۔ اس کام میں پہلے جیسی کمائی نہیں رہی۔‘
استاد ظفر کے 22 سالہ شاگرد ریحان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی خاندانی روایت اور شوق کی وجہ سے ڈھول بجانا سیکھا، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ریحان نے بتایا: ’پہلے کوئی رات فارغ نہیں جاتی تھی، ہر روز کوئی نہ کوئی پروگرام مل جاتا تھا، لیکن اب اکثر کام نہیں ہوتا کیونکہ لوگ گانوں اور ڈی جے میوزک پر تقریبات کرتے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھار ایسے لوگ مل جاتے ہیں جنہیں اب بھی ڈھول پسند ہوتا ہے۔‘
کراچی کی مصروف جہانگیر روڈ پر ٹین ہٹی پل کے نیچے بیٹھے آصف بھی گاہکوں کے منتظر دکھائی دیے۔
آصف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’لوگ چاہے ایکو ساؤنڈ چلائیں یا کچھ اور، لیکن ڈھول کے بغیر شادی اور خوشی کی تقریب مکمل نہیں ہوتی۔ ڈھول بجتا ہے تو لوگ خود بخود بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ صرف گانوں میں وہ بات نہیں ہوتی۔‘
پنجاب سے تعلق رکھنے والے عباس بھی کراچی میں ڈھول بجا کر روزگار کماتے ہیں۔ وہ بھی ٹین ہٹی پل کے نیچے گاہکوں کے انتظار میں موجود تھے۔
عباس نے بتایا کہ ’ڈیجیٹل دور اور ایکو ساؤنڈ کے بڑھتے استعمال نے ہمارے کاروبار کو بہت متاثر کیا ہے۔ اب لوگ گھروں میں ہی ساؤنڈ سسٹم لگا کر تقریبات کر لیتے ہیں، اس لیے ڈھول والوں کو کم بلایا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایک، ایک یا دو، دو ہفتے بغیر کسی پروگرام کے گزر جاتے ہیں۔‘
کراچی میں ڈھول بجانے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ روایتی موسیقی اور ثقافتی انداز بھی متاثر ہو رہے ہیں، اور اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں یہ فن مزید محدود ہو سکتا ہے۔

<p class="rteright">(انڈپینڈنٹ اردو)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/cVT5Mxq