اس ہفتے ایک بڑے بین الاقوامی سپورٹس ایونٹ کے شروع ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی سڑکیں رنگ برنگے قومی پرچموں سے سج گئی ہیں۔ یہ شاید کوئی غیر معمولی بات نہ لگے، سوائے اس کے کہ یہ پرچم صرف غیر ملکی ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔
17 کروڑ لوگوں کا ملک بنگلہ دیش فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا۔ اس کے باوجود یہ جنوبی ایشیائی ملک پوری دنیا میں فٹ بال کی عظیم ٹیموں برازیل اور ارجنٹائن کے سب سے زیادہ پرجوش مداحوں کا گھر ہے۔
فٹ بال کے مداح مئی سے ان دونوں حریف ممالک کے بڑے پرچم لہرا کر ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان چند مواقع میں سے ایک ہے جب یہ انتہائی محب وطن قوم غیر ملکی رنگوں کو اپناتی ہے۔ رہائشی علاقوں کے باہر، لیونل میسی کے قد آور کٹ آؤٹس لگائے گئے ہیں اور مداح تقریباً 500 ٹکہ (3 پاؤنڈ) مالیت کی ارجنٹائن اور برازیل کی جرسیوں کی کاپیاں خریدنے کے لیے ڈھاکہ کے پوش علاقے گلشن کی سپورٹس مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔
ان دونوں لاطینی امریکی ممالک کے لیے اس ملک کی محبت، اس حقیقت کے باوجود کہ ان میں سے کسی کے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ کوئی خاص جغرافیائی یا سیاسی تعلقات نہیں ہیں، نسل در نسل چلتی آ رہی ہے اور بعض اوقات، ورلڈ کپ کے ہفتوں کے دوران دوستوں کو حریفوں میں بدل دیتی ہے۔
قبل ازیں رواں ماہ ہبی گنج میں ایک مقامی فٹ بال میچ کے بعد برازیل اور ارجنٹائن کے حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ شریعت پور کے علاقے میں نوجوانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک شادی نہیں کریں گے جب تک برازیل اس ٹرافی کا انتظار ختم نہیں کر لیتا جو اس نے آخری بار 2002 میں جیتی تھی۔
— Argentina Fans Club Bangladesh (@ArgentinaFCBD) June 8, 2026
اور اگرچہ برازیل اور ارجنٹائن کی مقبولیت کا پلڑا سب سے بھاری ہے، لیکن ورلڈ کپ کھیلنے والے دیگر ممالک بھی کبھی کبھار لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔ 72 سالہ امجد حسین نے اس ہفتے ساڑھے سات کلومیٹر طویل جرمن پرچم کی نمائش کر کے خبروں میں جگہ بنائی، جسے تیار کرنے کے لیے انہوں نے اپنی زمین کا ایک چھوٹا سا حصہ بیچ کر رقم جمع کی تھی۔
روزنامہ پرتھم آلو اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ان کا خواب تھا کہ اس بہت بڑے پرچم کو جرمنی کے کسی میوزیم میں جگہ ملے۔
ناروے، جو 28 سال میں اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلے گا، اس نے بنگلہ دیش کے فٹ بال کے بخار سے فائدہ اٹھانے کی سرگرمی سے کوشش کی ہے اور مداحوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے میچوں کے دوران وائکنگز کی حمایت کریں۔
مداحوں سے اپنی اپیل میں، ناروے کے سفارت خانے نے دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کو اجاگر کیا اور اس بات کا ذکر کیا کہ آزادی کے بعد بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں ناروے بھی شامل تھا۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں پوچھا کہ ’تو بنگلہ دیش، آپ کیا کہتے ہیں؟‘
اس نے مزید کہا: ’کمزور ٹیموں کا ساتھ دینے کا وقت آ گیا۔ مل کر بڑے خواب دیکھنے کا وقت ہے۔‘
یہ پہلا ورلڈ کپ ہو گا جس میں 48 ٹیمیں شامل ہوں گی، جس سے اس ٹورنامنٹ کا دائرہ کار ریکارڈ 104 میچوں تک پھیل جائے گا، جو 19 جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلے جائیں گے۔
2022 میں فیفا اور ارجنٹائن کے کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش کی فٹ بال کے لیے محبت کا اعتراف کیا تھا، جو اپنے وطن سے تقریباً 17 ہزار کلومیٹر دور واقع ایک ملک سے ملنے والی حمایت پر انتہائی متاثر ہوئے تھے اور ارجنٹائن کے لیے اس محبت کے مرکز میں ڈیاگو میراڈونا ہیں۔
19ویں صدی میں فٹ بال کا کھیل غیر منقسم انڈیا کے اس وقت کے دارالحکومت کلکتہ میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے متعارف کروایا تھا۔ 60 اور 70 کی دہائیوں میں، جب بنگلہ دیش (جسے اس وقت مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا) اندرونی سیاسی بحران سے گزر رہا تھا، تو پریشان حال نوجوان امید اور ہیروز کی تلاش میں تھے۔
اس وقت نوجوانوں کو یہ تحریک برازیل سے ملی، جو اس دور کی سب سے شاندار ٹیم تھی۔ پیلے قومی سطح پر سب کے پسندیدہ بن گئے اور انہوں نے بنگلہ دیش میں فٹ بال کھیلنے والوں کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
پھر 1980 کی دہائی کے وسط میں ٹیلی ویژن عام ہونے کے بعد، کرکٹ سے محبت کرنے والی اس قوم میں فٹ بال نے بے پناہ مقبولیت حاصل کر لی۔ بہت سے بنگلہ دیشیوں کے لیے، 1986 کا ورلڈ کپ رنگین سکرین پر اس ٹورنامنٹ کی پہلی جھلک تھا۔ اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میراڈونا کے تاریخی گولز فٹ بال کی حدوں سے آگے نکل گئے اور انہیں ایک سابق نوآبادیاتی طاقت پر علامتی فتح کے طور پر دیکھا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نوجوان مداحوں کے لیے، ارجنٹائن کے سٹار لیونل میسی نے میراڈونا کی کمی کو پورا کر دیا ہے، جب کہ برازیل کے حامیوں نے نیمار کو اپنا پسندیدہ کھلاڑی بنا لیا ہے۔
یہ جوش و خروش اور دشمنی اس سے پہلے بھی پرتشدد روپ دھار چکی ہے اور یہاں تک کہ جان لیوا بھی ثابت ہوئی ہے۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2022 میں گذشتہ ورلڈ کپ کے دوران حریف مداحوں کے گروہوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 23 افراد جان سے گئے۔
جریدے ’ٹائم‘ کی رپورٹ کے مطابق، 2014 میں بجلی کی تاروں سے پرچم لٹکانے کے دوران کم از کم تین افراد مارے گئے تھے۔ 2018 میں برازیل کا پرچم لگاتے ہوئے ایک 12 سالہ لڑکا کرنٹ لگنے سے جان سے ہاتھ دوھو بیٹھا جب کہ حریف مداحوں کی ریلیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک شخص اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہو گئے۔

<p class="rteright">ارجنٹائن فین کلب بنگلہ دیش کے ایکس اکاؤنٹ پر 8 جون 2026 کو پوسٹ کی گئی ویڈیو سے لیے گئے سکرین گریب میں بنگلہ دیشی نوجوانوں کو ارجنٹائنی جرسیوں میں دیکھا جا سکتا ہے (ارجنٹائن فین کلب بنگلہ دیش ایکس اکاؤنٹ)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/nGtNcMy