پاکستان میں سولر توانائی کا سفر اب ابتدائی تیزی کے مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے اور ملک کی توانائی مارکیٹ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں توجہ صرف بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ اسے ذخیرہ کرنے پر بھی مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔
خصوصاً غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور نیٹ میٹرنگ پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے نتیجے میں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے ملک میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی طلب اور درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس تبدیلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپریل 2026 میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی درآمدات تقریباً چار کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ماہانہ بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔
ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیوں کے بعد بیٹری سٹوریج سسٹمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ صارفین اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کے بجائے اسے اپنے استعمال کے لیے محفوظ رکھنا زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں بیشتر شہری اور دیہی علاقوں میں گھروں، صنعتوں اور کاروباری مراکز کی بڑی تعداد پہلے ہی شمسی توانائی اپنا چکی ہے۔
گرین انرجی سے متعلق بین الاقوامی تھنک ٹینک ’ایمبر‘ کے مطابق پاکستان ان 17 ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں کم از کم 25 فیصد بجلی شمسی توانائی سے حاصل کی جا رہی ہے۔
’لوگ اب بیٹریوں کی طرف جا رہے ہیں‘
انوریکس سولر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ذاکر علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’مہنگے بجلی کے بلوں نے پہلے صارفین کو سولر توانائی کی جانب راغب کیا، تاہم اب نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیوں کے بعد بیٹریوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
ان کے بقول: ’پہلے لوگ دن میں سولر سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے گرڈ کو فروخت کرتے تھے اور رات کو گرڈ سے بجلی استعمال کرتے تھے، لیکن اب حکومت صارفین سے کم نرخ پر بجلی خریدتی ہے جبکہ انہیں زیادہ نرخ پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ بیٹریوں کی طرف جا رہے ہیں تاکہ دن میں پیدا ہونے والی توانائی کو محفوظ کر کے رات کے وقت استعمال کر سکیں۔‘
لیتھیم آئن بیٹریاں کیوں اہم ہیں؟
ماہرین کے مطابق توانائی کا مستقبل مؤثر اور دیرپا بیٹری ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے۔ لیتھیم آئن بیٹریاں صارفین کو دن کے وقت پیدا ہونے والی اضافی شمسی توانائی محفوظ کرنے، مہنگے ٹیرف والے اوقات میں گرڈ پر انحصار کم کرنے، لوڈشیڈنگ کے دوران بیک اپ حاصل کرنے اور توانائی کے استعمال میں زیادہ خودمختاری فراہم کرتی ہیں۔
کراچی میں لیتھیم بیٹری ڈیلر سعید فاروق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ روایتی لیڈ ایسڈ بیٹریوں کے مقابلے میں لیتھیم آئن بیٹریاں زیادہ توانائی ذخیرہ کرتی ہیں اور ان کی عمر بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’لیڈ ایسڈ بیٹریوں کی عمر اور سائیکل محدود ہوتے ہیں جبکہ لیتھیم بیٹریاں کئی گنا زیادہ سائیکل فراہم کرتی ہیں۔ ان میں پانی ڈالنے یا مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، جس کی وجہ سے یہ صارفین کے لیے زیادہ موزوں انتخاب بنتی جا رہی ہیں۔‘
لیتھیم بیٹری کے تاجر اور سن فورس انجینیئرنگ کمپنی سے وابستہ نادر چانڈیو بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’اگر ایک لیتھیم بیٹری کو روزانہ ایک مرتبہ چارج اور ڈسچارج کیا جائے تو یہ کئی برس تک مؤثر انداز میں کام کر سکتی ہے، اسی لیے صارفین کے لیے سولر اور بیٹری پر کی گئی سرمایہ کاری چند برسوں میں پوری ہو جاتی ہے جبکہ بعدازاں بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آ جاتی ہے۔‘
’اب نہ بل کا ڈر ہے، نہ لوڈشیڈنگ کا‘
کراچی کے علاقے صفورہ کے رہائشی دلاور چنا ان صارفین میں شامل ہیں، جنہوں نے سولر سسٹم کے ساتھ لیتھیم بیٹری بھی نصب کر رکھی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے گھر میں دو ایئر کنڈیشنرز، دو فریج، چھ پنکھے اور متعدد بلب و برقی آلات استعمال ہوتے ہیں، تاہم وہ کہتے ہیں کہ اب انہیں نہ بھاری بجلی کے بلوں کی فکر ہے اور نہ ہی لوڈشیڈنگ کی۔
دلاور چنا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پہلے میرا ماہانہ بل 30 سے 35 ہزار روپے تک آتا تھا اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی ہوتی تھی۔ پھر میں نے سولر سسٹم کے ساتھ لیتھیم بیٹری نصب کی، جس کے بعد صورت حال کافی بہتر ہو گئی۔‘
ان کے مطابق 12 سولر پینلز، ایک انورٹر اور ایک لیتھیم بیٹری کے ذریعے وہ دن میں پیدا ہونے والی توانائی محفوظ کرتے ہیں اور رات کو استعمال کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس نظام سے گھر کے دو اے سی، دو فریج، پنکھے، بلب اور ٹی وی باآسانی چل جاتے ہیں۔‘
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں بیٹری سٹوریج سسٹمز گھریلو اور صنعتی توانائی کے نظام کا اہم حصہ بن جائیں گے۔
یوں پاکستان کی سولر کہانی اب صرف سورج سے بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس بجلی کو محفوظ کرنے کا مرحلہ بھی شروع ہو چکا ہے، جو مستقبل میں ملک کے توانائی منظرنامے کی سمت متعین کر سکتا ہے۔

<p class="rteright">حالیہ دنوں میں ملک میں لیتھیم آئن بیٹریوں کی طلب اور درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے (ممتاز جمالی/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>
from Independent Urdu https://ift.tt/avRnEfi