کراچی کے علاقے ڈیفنس ویو کی ایک چھوٹی سی ڈرائی کلین اور دھوبی کی دکان میں ہینگروں پر لٹکے کپڑوں کے درمیان استری تھامے یاسین سومرو بہت مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
جن ہاتھوں میں انہوں نے استری پکڑ رکھی ہے، انہی ہاتھوں نے کبھی کیمرہ بھی تھاما تھا۔
یاسین سومرو نے اپنی جوانی کے 20 سال میڈیا انڈسٹری کو دیے اور اب وہ ڈرائی کلیننگ کی دکان چلا رہے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ 2003 میں محض 16 یا 17 سال کی عمر میں انہوں نے میڈیا کی فیلڈ میں قدم رکھا اور اس وقت ان کے دل میں صرف ایک خواب تھا کہ ایک کامیاب کیمرہ مین اور ویڈیو جرنلسٹ بننا ہے۔
بقول یاسین: ’میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنی زندگی اسی شعبے کو دوں گا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ تنخواہیں کم تھیں، مگر انہوں نے کبھی ناشکری نہیں کی۔
انہوں نے بتایا: ’اگر میں آپ کو اپنی آخری تنخواہ بتاؤں، جو 2021 میں تھی، تو آپ حیران رہ جائیں گی۔میری تنخواہ صرف 24 ہزار روپے تھی۔ اس رقم میں گھر چلانا، بیوی بچوں کے اخراجات پورے کرنا اور زندگی گزارنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ پھر ایک دن اچانک ڈاؤن سائزنگ ہوئی اور ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل تھا۔
’20 سال تک ایک ہی شعبے میں کام کرنے کے بعد مجھے صرف ایک جملہ سننے کو ملا کہ آپ کل سے نہ آئیے گا۔‘
یہ کہتے ہوئے یاسین سومرو آبدیدہ ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ لمحہ ان کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔ جس شعبے کو انہوں نے اپنی جوانی دی، اسی شعبے سے ایک لمحے میں انہیں علیحدہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ہو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول یاسین، اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوا۔ ذہن میں صرف ایک ہی سوال تھا کہ اب گھر کیسے چلے گا؟اور زندگی دوبارہ کیسے شروع ہوگی؟
پھر انہوں نے ایک دوست کی مدد سے ایک چھوٹا سا ڈرائی کلین اور دھوبی کی دکان کا سیٹ اپ لگا لیا۔
’میڈیا میں اتنا وقت گزارنے کے بعد کسی نئے شعبے میں دوبارہ صفر سے آغاز کرنا آسان نہیں تھا، مگر میں نے ہار نہیں مانی۔ اللہ کا نام لے کر کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ یہی چھوٹی سی دکان میرے لیے نئی امید بن گئی۔‘
آج یاسین سومرو نہ صرف عزت سے اپنی روزی کما رہے ہیں بلکہ ان کی اس دکان سے مزید چار افراد کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب ذہنی سکون پہلے سے زیادہ ہے کیونکہ یہ ان کا اپنا کام ہے اور اپنی محنت کا حاصل ہے۔
یاسین آج بھی میڈیا اور کیمرے سے اپنی محبت نہیں چھپا پاتے۔ انہوں نے بتایا: ’میرے لیے کیمرہ صرف ایک مشین نہیں تھا بلکہ ایک ساتھی تھا، جو ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ رہا۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’آج ہر شخص موبائل ہاتھ میں لے کر خود کو ویڈیو جرنلسٹ سمجھتا ہے، مگر اصل ویڈیو گرافی ایک مکمل فن ہے، جس میں فریم، روشنی، اینگل اور کہانی کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔‘
وہ اپنے میڈیا کے ساتھیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ صرف نوکری کے سہارے نہ رہیں کیونکہ وقت بہت بدل چکا ہے۔
کراچی پریس کلب کے رکن اور کیمرہ مین ایسوسی ایشن کے سابق صدر الطاف حسین نے کیمرہ مینوں کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اپنی بساط کے مطابق کوشش کی، کچھ حد تک کامیاب بھی ہوئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسوسی ایشن کے پاس اتنے وسائل اور فنڈز نہیں تھے کہ ہم اپنے تمام مقاصد پورے کر پاتے۔‘
الطاف حسین کے مطابق آج کے دور میں بھی ایک نیوز کیمرہ مین کی تنخواہ بمشکل 20 سے 25 ہزار روپےہے، جبکہ صرف بچوں کی تعلیم کے اخراجات ہی اس سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’ملازمت سے برطرفی ہر وقت سر پر تلوار کی طرح لٹکتی رہتی ہے۔ جب بھی ڈاؤن سائزنگ ہوتی ہے تو سب سے پہلے کیمرہ مین متاثر ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے والے بہت سے کیمرہ مین آج معاشی مشکلات کے باعث دوسرے شعبوں میں جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
’میں ایسے کیمرہ مینوں کو جانتا ہوں جو آج پان کی دکان چلا رہے ہیں، کوئی کسی دکان پر ملازمت کر رہا ہے، کوئی دیہاڑی پر کام کر رہا ہے اور کوئی رکشہ چلانے پر مجبور ہے۔‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’میں نے اپنی آنکھوں سے کیمرہ مینوں کو روتے دیکھا ہے۔ ان کے منہ سے یہ جملہ بھی سنا کہ زندگی کی سب سےبڑی غلطی شاید یہ تھی کہ ہم نیوز کیمرہ مین بن گئے۔‘

<p class="rteright">یاسین سومرو نے اپنی جوانی کے 20 سال میڈیا انڈسٹری کو دیے اور اب وہ ڈرائی کلیننگ کی دکان چلا رہے ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>
<p class="rteright"> </p>
from Independent Urdu https://ift.tt/JV7XsIg